مصرفِ زکوة (Consumption of Zakat) سے متعلق چند اہم مسائل!

(فتویٰ نمبر:۱۴۹)

سوال:

درج ذیل سوالات پر مشتمل ایک اہم استفتا پیشِ خدمت ہے، براہِ کرم مدلل و مفصل جواب سے نوازیں،عین نوازش ہوگی!

۱-انفرادی طور پر زکوة ادا کرنے سے بے شک زکوة ادا ہوجاتی ہے، لیکن ظاہر ہے کہ اس سے کوئی بڑا کام انجام نہیں دیا جاسکتا، اور اگر کسی تنظیم کے تحت اجتماعی طور پر زکوة جمع کردی جائے،تو اس زکوة فنڈ(Zakat Fund)سے بڑے بڑے اہم کام،مثلاً: کمزور اور تباہ حال مسلمانوں کی آبادکاری (Resettlement)اور بازآباد کاری، مفت یا معمولی اخراجات والے ہسپتالوں (Hospitals) کا قیام،ناخواندہ مسلمانوں کی شرحِ تعلیم میں اضافے کے لیے اسکولوں اورکالجوں (Schools & Colleges) کاقیام، بے روزگارمسلمانوں کو روزگارسے جوڑنے کے لیے ٹریننگ سینٹروں (Training Centers) کاقیام، اور اس جیسے بہت سے قومی وملی کا م (National Work) انجام دیے جاسکتے ہیں۔

آج کے علمی وسائنسی اعتبارسے ترقی یا فتہ دور میں مسلمانوں کی علمی پس ماندگی (Backwardness) کو دورکرنا، اور ضروری ترقی کے لیے راہ ہموار کرنا یقینا وقت کی ایک اہم قومی ضرورت ہے ، کیا اس ضرورت کی بنیاد پر کسی علاقائی، ملکی، یا عالمی تنظیم کے تحت اجتماعی طور پر ایک جگہ زکوة جمع کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ اور ایسا کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟ جب کہ اسلامی بیت المال کا قیام نہیں ہے۔

۲-ایک برادری (جماعت) کے صاحبِ نصاب افراد نے اپنی زکوة،اپنی قائم کردہ تنظیم میں جمع کردی، تنظیم زکوة کی اس رقم کو اپنی ہی برادری کے ایسے لوگوں کے لیے مخصوص کردیتی ہے، جو مالی اعتبار سے پس ماندہ ہوں، خواہ اسی ملک میں رہنے والے ہوں جہاں زکوة نکالی گئی ہے، یا دوسرے ملکوں میں رہنے والے ہوں، کیا اس طر ح زکوة کسی خاص براد ری یا جماعت کے پس ماندہ لوگوں کے لیے مخصوص کی جا سکتی ہے؟جب کہ ان ملکوں میں دوسری برادریو ں کے مستحق لوگ بھی موجود ہیں۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ زکوة نکالنے والوں کا اپنی زکوة کو، اپنی ہی برادری کے مستحق لوگو ں کے لیے مخصوص کردینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

۳-عصرِ حاضرمیں اعلیٰ عصری تعلیم حاصل کر نا بالخصوص پیشہ ورانہ (Professional) کورس کرنا، وقت کی ایک ایسی اہم ضرورت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا،یہ ضرورت قومی بھی ہے اور ملی بھی، اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت اس پوزیشن (Position) میں نہیں ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم (Higher education) کے مصارف (Expenses) برداشت کرسکے ، کیا اس قومی وملی اہم ضرورت کی خاطر ایسے غیر مستطیع طلبہ کو زکوة دی جاسکتی ہے، جو اعلیٰ انگریزی تعلیم، یا اعلیٰ پیشہ ورانہ کورس، یا انگلش میڈیم اسکولوں(English Medium Schools) میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور فیس(Fee) وغیرہ کے ضروری اخراجات خود برداشت نہیں کرسکتے؟ واضح ہو کہ پہلے امیدوار سے ایک مطبوعہ فارم پرُ کرواکر یہ اطمینان کرلیا جاتاہے کہ درخواست دہندہ طالبِ علم (Applicant Student) اعلیٰ انگلش تعلیم کی یا انگلش میڈیم اسکولوں کی ایڈمیشن فیس (Admission Fee) اور تعلیمی فیس ادا نہیں کرسکتا، پھر اس کے ایڈمیشن ، تعلیم ، ٹیوشن (Tuition)، کتاب، کاپی، قلم، یونیفارم (Uniform)اور اسکول، کالج، ٹریننگ سینٹر ،یونیورسٹی (University) تک آمدو رفت کے کرایہ کے لیے زکوة فنڈ (Zakat Fund) سے اسکالر شپ /تعلیمی وظیفے (Scholarship) جاری کیے جاتے ہیں۔

دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ زکوة کی رقم عصری انگریزی تعلیم کے اخراجات، مثلاً: ڈونیشن فیس (Donation fee) اور دوسرے ضروری اخراجات میں لگائی جاسکتی ہے یا نہیں؟ اور زکوة فنڈ سے فیس وغیرہ ادا کردینے سے شرعاً زکوة اداہوجائے گی یا نہیں؟

 اربابِ بصیرت اور صاحبِ فکر ونظر سے پوشیدہ نہیں ہے کہ آج زمانے کے احوال وظروف اورعرف وعادات بدل رہے ہیں، اور حضراتِ فقہائے کرام کی صراحت کے مطابق زمانے کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں، اس لیے زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر اس اہم مسئلے کاواضح حکمِ شرعی تحریر فرمائیں، مہربانی ہوگی۔

۴-تعلیمی وظیفے میں کبھی کبھی ضرورت کی بنا پر خاصی بڑی رقم، مثلاً: لاکھ دولاکھ دینی پڑتی ہے، کم دینے کی صورت میں ضرورت پوری نہیں ہوتی، کیا زکوة کی اتنی بڑی رقم ایک شخص کو دی جاسکتی ہے، کیا شرعاً یہ درست ہے ؟

۵-تعلیمی وظیفے کی رقم کا درخواست دہندہ طالبِ علم کے لیے اسکول، کالج، یونیورسٹی کے نام چیک (Check)یا ڈرافٹ(Draft) بنایا جاتاہے، خود امیدوار کو رقم نہیں دی جاتی، اور نہ اس کو مالک بنایا جاتاہے، کیا اس طریقے سے شرعاً زکوة اداہوجاتی ہے یا نہیں؟

۶-فارم پرُ کراکربمدِ زکوة جو تعلیمی وظیفے دیئے جاتے ہیں، کیا فارم کے اندراج کے غلط یا جھوٹ ہونے کی صورت میں دیئے ہوئے وظیفے واپس لیے جا سکتے ہیں؟

مکرر عرض ہے کہ ہر مسئلے کا جواب معتبر حوالے کے ساتھ تحریر فرمایا جائے،عینِ کرم ہوگا!

الجواب وباللہ التوفیق:

۱-اسلام میں زکوة کا نظام اجتماعی ہے، چنانچہ عہدِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) اور دورِ خلافتِ راشدہ میں زکوة کی وصولی وتقسیم کا اجتماعی نظام قائم تھا، اسی لیے عاملین کا ایک مستقل شعبہ تھا، جن کی تقرری زکوة ودیگر صدقاتِ واجبہ کی وصولی کے لیے امیرِ شریعت کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا : ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهمْ صَدْقَةً تُطَهرُهمْ وَتُزَکِّیْهمْ بِها وَصَلِّ عَلَیْهمْ﴾ ۔ (سورة التوبة : الآیة : ۱۰۳)

خلیفہٴ راشد اول نے منکرینِ زکوة کے بارے میں فرمایا: ” وَاللّٰه لَو مَنَعُوْنِي عِقَالا کَانُوْا یُوٴَدُّوْنَه إلٰی رَسُولِ اللّٰه ﷺ لَقَاتَلْتُهمْ عَلٰی مَنْعِه“ ۔ (الصحیح لمسلم :۳۷/۱)

اسلامی حکومت کی عدمِ موجودگی میں مسلمان مکلف ہیں، کہ باہمی رضامندی سے کسی کو امیر منتخب کرلیں، جن کی ما تحتی میں مسلمانوں کے اجتماعی فرائض انجام پاسکیں، چنانچہ اگر کسی ریاست یا علاقے کے لوگ باہمی رضامندی سے کسی کو قاضی یا امیر بنالیں، اور اس کے ما تحت اجتماعی زکوة کا نظام قائم کرلیں، تو یہ عمل نہ صرف جائز ہوگابلکہ مزاجِ شریعت کے عین موافق ہوگا، لیکن اتنی بات یادرہے کہ اس اجتماعی زکوة کے نظام میں زکوة کے مصارف وہی ہوں گے جو شریعتِ مطہرہ نے مقرر کیے ہیں اور وہ یہ ہیں :

۱/فقیر: وہ شخص ہے جس کے پاس نصاب سے کم ہو۔(۱)

۲/مسکین:وہ ایسا شخص ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو۔(۲)

۳/عاملینِ زکوة : وہ لوگ ہیں جن کو امام المسلمین نے زکوة،عشر وغیرہ کی وصولی کے لیے مقرر کیا ہو۔(۳)

۴/موٴلفة القلوب: وہ لوگ ہیں جن کی دل جوئی کے لیے ان کو صدقات دیئے جاتے تھے ۔(۴)

۵/غلام کی آزادی: یعنی غلاموں کو آزادی دلانا، لیکن اب نہ غلام ہیں اور نہ ان کی آزادی کا مسئلہ ہے۔(۵)

۶/قرض دار: جس کے پاس اتنا مال نہ ہو جس سے وہ قرض اداکرسکے ،اور ائمہ فقہا نے یہ شرط بھی لگائی ہے کہ یہ قرض اس نے کسی ناجائز کام کے لیے نہ کیا ہو ، اوراگر کسی گنا ہ کے لیے قرض کرلیا،جیسے شراب وغیرہ یا شادی غمی کی ناجائز رسمیں وغیرہ، تو ایسے قرض دار کو مد زکو ة سے نہ دیا جائے،تاکہ اس کی معصیت اور اسرافِ بے جا کی حوصلہ افزائی نہ ہو۔(۶)

۷/ فی سبیل اللہ :سے مراد وہ غازی اور مجاہد ہے جس کے پاس اسلحہ اور جنگ کا ضروری سامان خریدنے کے لیے مال نہ ہو ،یا وہ شخص جس کے ذمہ حج فرض ہوچکا ہو، مگر اس کے پاس اب مال نہیں رہاجس سے وہ حجِ فرض ادا کرے۔(۷)

۸/ مسافرین: گو وہ فی نفسہ مالدارہو، لیکن اگر حالتِ سفرمیں محتاج ہوجائے، تو زکوة لے سکتاہے۔(۸)

 اگرکوئی تنظیم اجتماعی زکوة کا نظام قائم کرتی ہے ، تو وہ اس با ت کی پابند ہوگی کہ زکوة کی رقومات کو ان ہی مصار ف میں خرچ کرے، کیوں کہ زکوة کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے اس کا صحیح مصرف میں صرف کرنا ضروری ہے ، ورنہ زکوة ادا نہ ہوگی۔

آپ نے اجتماعی نظامِ زکوة کے لیے جو مقاصد بیان کیے وہ یہ ہیں:

۱– کمزور اور تباہ حال مسلمانوں کی باز آباد کاری۔

اس مقصد کے لیے زکوة اسی صورت میں خرچ کی جاسکتی ہے، جب کہ مکانات یا کالونیاں بناکر ان کمزور اور تباہ حال مسلمانوں کو ان کامالک بنادیا جائے۔

اگر تنظیم یہ چاہتی ہے کہ یہ مکانات یا کالونیاں تنظیم ہی کی ملک باقی رہیں ، اور یہ کمزور مسلمان محض اس سے فائدہ اٹھانے کے حقدار ہوں، تو یہ رقم خرچ کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہوگی، اس لیے کہ اس صورت میں زکوة دہندہ کی زکوة اداہی نہیں ہوگی، وجہ یہ ہے کہ صحتِ ادائے زکوة کے لیے تملیک شرط ہے ، اوراس صورت میں تملیک نہیں پائی جاتی۔

۲-غریبوں کے لیے ہسپتالوں کا قیام، ناخواندہ مسلمانوں کی شرحِ تعلیم میں اضافے کے لیے اسکولوں اور کالجوں کا قیام ، مسلمانوں کو روزگار سے جوڑنے کے لیے ٹریننگ سینٹروں کا قیام۔

یہ مقصد اگرچہ فی نفسہ بہت عظیم اور قابلِ تحسین ہے، مگر شریعتِ اسلامیہ نے صحتِ ادائے زکوة کے لیے تملیک کی جو شرط لگائی ہے وہ ان تمام صورتوں میں مفقود ہے، اس لیے زکوة کی رقومات ان مقاصد میں خرچ نہیں کی جاسکتی، کیوں کہ جمہور فقہا کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زکوة کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے تملیک ضروری ہے، یعنی جس کسی کو بھی زکوة کی رقم دی جائے، تو اس کو اس پر مالک بنا دیا جائے۔(۹)

۲-کسی برادری کے صاحبِ نصاب حضرات اگر اپنی زکوة کی رقم اپنی قائم کردہ تنظیم میں جمع کردیں، جس سے صرف اسی برادری کے پس ماندہ محتاج مستحقین کو رقم دی جاتی ہے، جو اسی ملک یا دیگر ممالک میں رہتے ہیں ،جب کہ اسی ملک میں دیگر برادریوں کے مستحق حضرات بھی رہتے ہیں، تو اس طر ح کسی برادری کا اپنی زکوة کی رقم اپنی برادری کے محتاج لوگو ں کے لیے مخصوص کرنا شرعاً جائز ہے ، اس لیے کہ زکوة اور صدقاتِ واجبہ کی ادائیگی میں دوسرے لوگوں کی بنسبت اپنے رشتہ داروں کو مقدم رکھنا افضل ہے، چاہے وہ دوسرے مقام پر رہتے ہوں(۱۰)، مگر اتنا یا درہے کہ زکوة کی رقم کو تنظیم اپنے پاس زیادہ دنوں تک روک کرنہ رکھے(۱۱)، بلکہ جلد از جلد اس کے مستحقین تک پہنچانے کی کوشش کرے، اس لیے کہ زکوةکی رقم کو ایک سال سے زیادہ روک کر رکھنا شرعاً صحیح نہیں ہے۔

۳– ایسے غیر مستطیع وغیر صاحبِ نصاب طلبہ جو اعلیٰ انگریزی تعلیم، یا اعلیٰ پیشہ ورانہ کورس، یا انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھنا چاہتے ہیں تو وہ مستحقِ زکوة ہیں، ان کو زکوة کی رقم دینا جائز ہے، اس لیے کہ غیرِ صاحبِ نصاب اس کو کہا جاتاہے جس کے پاس بقدرِ نصاب مالِ نامی نہ ہو، یا بقدرِ نصاب مال ہو، لیکن اس کی ضروریا تِ اصلیہ میں مشغول ہو۔(۱۲)

اس لیے اگر کوئی طالبِ علم واقعی محتا ج ہے، اوروہ تعلیم بھی حاصل کرنا چاہتاہے، تو تنظیم اسے زکوة فنڈ سے رقم دے سکتی ہے، جس سے وہ ایڈ میشن اور تعلیم کے دوسرے اخراجات پورے کرسکتاہے، چاہے وہ تعلیم عصری ہو یا دینی، اور اخراجات ڈونیشن فیس کے ہوں یا ٹیوشن اور کتاب ، کاپی و قلم کے ، آمدورفت کا کرایہ ہویا یونیفار م کا خرچ ، محتاج ومستحق ہونے کی و جہ سے اس کو زکوة کی رقم دینا شرعاً جائز ہوگا، زکوة ادا ہوجائے گی۔ (۱۳)

۴– مستحقِ زکوة کو اس قدر زکوة دی جائے کہ اس سے اس کی ضرورت پوری ہوجائے، مقروض ہو تو قرض ادا ہوجائے، مسافر ہو تو منزل تک پہنچ جائے، مجاہد ہو تو جہاد کے لیے کافی ہوجائے، عامل ہوتو اس کے مناسبِ حال اُجرت دی جائے ، فقرا ومساکین کے متعلق یہ ہے کہ ان کو اتنی زکوة دی جائے کہ انہیں پھر دستِ سوال درازنہ کرنا پڑے۔(۱۴)

چنانچہ اگر کسی محتاج ومستحق طالبِ علم کو لا کھ دو لاکھ کی ضرورت پڑے،اس سے کم دینے پر اس کی ضرورت پوری نہ ہو، تو اس کو اس کی ضرورت کے بقدر رقم دینے میں کوئی حرج نہیں، اس لیے کہ شریعت کا اصل منشأ ضروریاتِ انسانی کی تکمیل ہے ، اوروہ یہاں اس کی ضرورت سے کم دینے پر ممکن نہیں۔

۵– اگر اجتماعی زکوة کی تنظیم تعلیمی وظیفے کے درخواست دہندہ محتاج مستحق طالبِ علم کے لیے اسکول، کالج ، یونیورسٹی کے نام چیک یا ڈرافٹ بنائے، اور رقم امیدوار کے حوالے نہ کرے اور نہ اس کو مالک بنائے، تو اس طریقے سے بھی شرعاً زکوة ادا ہوجائے گی، اس لیے کہ چیک یا ڈرافٹ پر قبضہ کرنا اصل کرنسی پر قبضہ کرنے کے قائم مقام ہوتا ہے، جب کہ ڈرافٹ یا چیک میں محرّر رقم پراس شخص کا حقیقةً یا حکماً قبضہ ہوجائے(۱۵)، جس کے لیے ڈرافٹ یا چیک جاری کیا گیا ہے،چوں کہ وہ اسکول، کالج اوریونیور سٹی جس کے نام چیک یا ڈرافٹ جاری کیا گیا،طالبِ علم کی طرف سے وکیل بن کر زکوة کی رقم وصول کررہی ہے، اس لیے زکوة ادا ہوجائے گی،کیوں کہ فقہ کا قاعدہ ہے : ”وکیل کا قبضہ موٴکل کا قبضہ ہوتا ہے“۔ (۱۶)

۶-اگر کسی شخص کو فقیر یا محتاج سمجھ کر زکوة دی اور بعد میں معلوم ہوا کہ وہ مستحقِ زکوة نہیں تھا، تو شرعاً زکوة ادا ہوگئی، لہٰذا تعلیمی وظیفے کے فارم کے اندراج کے غلط یا جھوٹ ہونے کی صورت میں دِیے ہوئے وظیفے واپس نہیں لیے جاسکتے، اس لیے کہ زکوة صدقہ دینے کے بعد واپس لینا جائز نہیں ہے، کیوں کہ ان میں دیتے وقت عبادت اور ثواب کی نیت ہوتی ہے، اور جو چیز عبادت اورثواب کی نیت سے دی جائے اس کا واپس لینا جائز نہیں ہے۔(۱۷)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : (هو فقیر، هو من له أدنی شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غیر تام مستغرق في الحاجة ۔ (۲۸۳/۳ ،۲۸۴)

(۲) ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : (ومسکین من لا شيء له) علی المذهب لقوله تعالی : ﴿مسکینًا ذا متربة﴾ ۔ (البلد : ۱۳) ۔ (۲۸۴/۳)

(۳) ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : (وعامل) یعمّ الساعي والعاشر (فیعطی) ۔۔۔۔۔۔ (بقدر عمله) ۔ (۲۸۴/۳۲۸۶)

(۴) ما في ” رد المحتار “ :قوله:(وسکت عن الموٴلفة قلوبهم) کانوا ثلاثة أقسام : قسم کفار کان علیه الصلاة والسلام یعطیهم لیتألفهم علی الإسلام ۔ وقسم کان یعطیهم لیدفع شرهم ۔ وقسم أسلموا وفیهم ضعف في الإسلام ،فکان یتألفهم لیثبتوا ۔(۲۸۷/۳)

(۵) ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : (ومکاتب) لغیر هاشمي ، ولو عجز حل لمولاه ولو غنیًا ۔ (۲۸۶/۳ ، ۲۸۷)

(۶) ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : ومدیون لا یملک نصابًا فاضلا عن دینه ۔ (۲۸۹/۳)

(۷) ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : (وفي سبیل اللّٰه وهو منقطع الغزاة) وقیل الحاج ۔ (۲۸۹/۳)

(۸) ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : (وابن السبیل وهو)کل (من له مال لا معه)۔(۲۹۰/۳ ،کتاب الزکاة ، باب المصرف ،ط: بیروت، رد المحتار: ۲۸۳/۳۲۹۰)

(بدائع الصنائع : ۴۶۵/۲۴۷۳ ، البحر الرائق :۴۱۹/۲۴۲۲)

(معارف القرآن:۳۹۶/۴ – ۴۰۶)

(۹) ما في ” القرآن الکریم “ :﴿إنما الصدقٰت للفقرآء والمسٰکین والعٰملین علیها والموٴلفة قلوبهم وفي الرقاب والغارمین وفي سبیل اللّٰه﴾ ۔ (سورة التوبة :۶۰)

ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : قال العلامة الجصاص : الصدقة تقتضي تملیکًا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وشرط الصدقة وقوع الملک للمتصدق علیه ۔

(۱۶۱/۳ ، ط : مکتبة شیخ الهند دیوبند)

ما في ” القرآن الکریم “:﴿والذین في أموالهم حق معلوم للسآئل والمحرومo﴾ ۔(سورة المعارج : ۲۴ ، ۲۵)۔﴿وفي اموالهم حق للسآئل والمحروم o﴾ ۔(سورة الذاریات : ۱۹)

ما في ” الجامع لأحکام القرآن للقرطبي “ : قال محمد بن سیرین : الحق هنا الزکاة المفروضة ۔ (۱۷/۳۹)

ما في ” أحکام القرآن للتھانوي “ : وقیل : المراد بالحق هو حق الزکاة ، والمختار عند السادة الحنفیة هو مذهب الجمهور ۔ (۴/۵ ، ط : إدارة القرآن کراتشي)

ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿أقیموا الصلوة واٰتوا الزکوٰة﴾ ۔ (سورة البقرة :۴۲)

ما في ” صحیح البخاري “ : عن ابن عمر رضي اللّٰه عنهما قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” بني الإسلام علی خمس : شهادة أن لا إله إلا اللّٰه وأن محمدا رسول اللّٰه ، وإقام الصلاة وإیتاء الزکاة ، والحج ، وصوم رمضان “ ۔ (۶/۱)

ما في ” المفردات في غریب القرآن “ : قال الراغب في مفردات القرآن : والإیتاء الإعطاء ، وخص دفع الصدقة في القرآن بالإیتاء ، نحو أقاموا الصلاة واٰتوا الزکاة ، وإقام الصلاة وإیتاء الزکاة ۔ (ص/۱۸)

ما في ” بدائع الصنائع “ : وقد أمر اللّٰه تعالی الملاک بإیتاء الزکاة لقوله عز وجل : ﴿واٰتوا الزکوة﴾ ۔ (سورة البقرة :۴۲) ، والإیتاء هو التملیک ، ولذا سمی اللّٰه تعالی بقوله عز وجل : ﴿إنما الصدقٰت للفقرآء﴾ ۔ (سورة التوبة : الآیة :۶۰) ، والتصدق التملیک ۔ (۴۵۶/۲ ، البحر الرائق : ۳۵۲/۲)

(تبیین الحقائق :۳/۲ ، حجة اللّٰه البالغة : ۸۰/۲ ، شرح السیر الکبیر : ۲۵۰/۵)

(الفقه الإسلامي وأدلته :۱۸۱۲/۳ ، الفتاوی الولوالجیة : ۱۸۰/۱ ، الفقه الإسلامي وأدلته : ۱۹۵۸/۳)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : الزکاة هي لغة : الطهارة والنماء ۔ وشرعًا : تملیک ، خرج الإباحة ، فلو أطعم یتیمًا ناویًا الزکاة لا یجزیه إلا إذا دفع إلیه المطعوم ۔

(۱۷۰/۳ ، ۱۷۱ ، کتاب الزکاة ، ط : بیروت)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ویشترط أن یکون تملیکًا لا إباحةً کما مر لا یصرف إلی بناء مسجد ونحوه ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : نحو مسجد کبناء القناطیر والسقایات وإصلاح الطرقات وکری الأنهار والحج والجهاد وکل ما لا تملیک فیه ۔

(۲۹۱/۳ ، کتاب الزکاة ، باب المصرف ، ط : بیروت ، الفتاوی الهندیة : ۱۸۸/۱ ، کتاب الزکاة ، الباب السابع في المصارف)

(۱۰) ما في ” مجمع الزوائد “ : عن أبي هریرة رضي اللّٰه عنه قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” یا أمة محمد ! والذي بعثني بالحق لا یقبل اللّٰه صدقة من رجل وله قرابة محتاجون إلی صلته ویصرفها إلی غیرهم ، والذي نفسي بیده لا ینظر اللّٰه إلیه یوم القیامة “ ۔ (۲۲۳/۳ ، رقم : ۴۶۵۲ ، کتاب الزکاة ، باب الصدقة علی الأقارب وصدقة المرأة علی زوجها ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : والأفضل في الزکاة والفطر والنذر والصرف أولاً إلی الإخوة والأخوات ، ثم إلی أولادهم ، ثم إلی الأعمام والعمات ، ثم إلی أولادهم ، ثم إلی الأخوال والخالات ، ثم إلی أولادهم ، ثم إلی ذوي الأرحام ، ثم إلی الجیران ، ثم إلی أهل حرفته ، ثم إلی أهل مصره أو قریته ۔

(۱۹۰/۱ ، کتاب الزکاة ، ط : زکریا دیوبند ، الدر المختار مع الشامیة :۳۰۴/۳ ، کتاب الزکاة ، باب المصرف ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت)

(۱۱) ما في ” الملتقط في الفتاوی الحنفیة “ : عن أبي یوسف : یکره تأخیر الحج والزکاة ۔(ص/۷۲ ، ط : دارالإیمان سهارنفور)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : والواجب علی الأیمة أن یوصلوا الحقوق إلی أربابها ولا یحبسونها عنهم ۔ (۱۹۱/۱ ، کتاب الزکاة ، ط : زکریا دیوبند)

(۱۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : الحاصل أن النصاب قسمان : موجب للزکاة ؛ وهو النامي الخالي عن الدین وغیر موجب لها وهو غیره ، فإن کان مستغرقاً بالحاجة لمالکه أباح أخذها وإلا حرمه ۔ (۲۸۴/۳ ، کتاب الزکاة ، باب المصرف)

(۱۳) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : الفقیر وهو من له أدنی شيء وهو ما دون النصاب أو قدر نصاب غیر تام وهو مستغرق في الحاجة فلا یخرجه عن الفقر ملک نصب کثیرة غیر نامیة إذا کان مستغرقة بالحاجة ۔(۱۸۷/۱ ، کتاب الزکاة ، باب في المصارف)

(الدرالمختار مع الشامیة :۲۸۳/۳ ، کتاب الزکاة ، باب في المصرف)

(۱۴) ما في ” فتح القدیر “ : (ویکره أن یدفع إلی واحد مائتي درهم فصاعدًا) إلا أن یکون مدیونًا لا یفضل له بعد قضاء دینه نصاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ بل ینظر إلی ما تقضیه الأحوال في کل فقیر من عیاله وحاجة أخری کدین وثوب وغیر ذلک ۔ (۲۸۲/۲ ، کتاب الزکاة ، ط : بیروت)

ما في”بدائع الصنائع “:ویکره أن لمن علیه الزکاة أن یعطي فقیرا مائتي درهم أو أکثر،ولو أعطی جاز ، وسقط عنه الزکاة في قول أصحابنا الثلاثة۔(۴۷۹/۲ ،کتاب الزکاة)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ویکره أن یدفع إلی رجل مائتي درهم فصاعدًا ، وإن دفعه جاز ، فإن کان مدیونا فدفع إلیه مقدار ما لو قضی به دینه لا یبقی له شيء یبقی دون المائتین لا بأس به ۔ (۱۸۸/۱، کتاب الزکاة ، باب في المصارف)

(۱۵) ما في ” فقه وفتاوی البیوع “ : لأن الشیکات لیست قبضًا وإنما هي وثیقة حوالة فقط ، بدلیل أن الذي أخذ الشیک لو ضاع منه لرجع علی الذي أعطاه إیاه ولوکان قبضًا لم یرجع علیه ، وبیان ذلک أن الرجل لو اشتری ذهبًا بدراهم واستلم البائع الدراهم فضاعت منه لم یرجع علی المشتري ، ولو أنه أخذ من المشتري شیکًا ثم ذهب به لیقبضه من البنک ثم ضاع منه فإنه یرجع علی المشتري بالثمن ، وهذا دلیل علی أن الشیک لیس بقبض ۔ (ص/۳۹۹ ، لا یجوز التعامل بالشیکات في بیع الذهب)

(۱۶) ما في ” الهدایة “ : کل عقد جاز أن یعقده الإنسان بنفسه جاز أن یوٴکله به غیره ؛ لأن الإنسان قد یعجز عن المباشرة بنفسه علی اعتبار بعض الأحوال فیحتاج إلی أن یوٴکل به غیره ، فیکون بسبیل منه دفعا للحاجة ، وقد صح أن النبي ﷺ وکل بالشراء حکیم بن حزام وبالتزویج عمرو بن أم سلمة ۔(۱۷۷/۳ ، کتاب الوکالة)

وما في ” الهدایة “ : فإن هلک المبیع من یده قبل حبسه هلک من مال موٴکله ولم یسقط الثمن ؛ لأن یده کید الموٴکل ، فإذا لم یحبسه یصیر الموٴکل قابضًا بیده ۔

(۱۸۳/۳ ، باب الوکالة بالبیع والشراء)

(الدر المختار مع الشامیة : ۲۵۰/۸ ، کتاب الوکالة)

ما في ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : إذا وکله الموٴکل وکالة عامة کأن یقول له : اشتر من أي جنس ونوع صح حینئذ ، ویکون تصرف الوکیل للموٴکل أیضًا ۔

(۵۷۷/۳ ، باب الوکالة بالشراء)

ما في ” جمهرة القواعد الفقهیة “ : ” قبض الوکیل یقوم مقام قبض موٴکله “ ۔ (۸۰۳/۲)

(۱۷) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : واعلم أن المدفوع إلیه لوکان جالسًا في صف الفقراء یصنع صنعهم أوکان علیه زیهم أو سأله فأعطاه ، کانت هذه الأسباب بمنزلة التحري ، کذا في المبسوط ، حتی لو ظهر غناه لم یعد ۔ (۳۰۲/۳ ، کتاب الزکاة ، باب المصرف)

ما في ” بدائع الصنائع “ : وأما شرائط الرکن فأنواع : بعضها یرجع إلی الموٴدِّي ، وبعضها یرجع إلی الموٴدَّی ، وبعضها یرجع إلی الموٴدی إلیه ۔۔۔۔۔۔ وأما الذي یرجع إلی الموٴدی إلیه فأنواع : منها أن یکون فقیرًا ، فلا یجوز صرف الزکاة إلی الغني ۔۔۔۔۔۔۔۔ هذا الذي ذکرنا إذا دفع الصدقة إلی إنسان علی علم منه بحاله أنه محل الصدقة ، فأما إذا لم یعلم بحاله ودفع إلیه ، فهذا علی ثلاثة أوجه : في وجه : هو علی الجواز حتی یظهر خطأه ، وفي وجه : علی الفساد حتی یظهر صوابه ، وفي وجه : فیه تفصیل علی الوفاق والخلاف۔ أما الذي هو علی الجواز حتی یظهر خطأه ، فهو أن یدفع زکاة ماله إلی رجل ، ولم یخطر بباله وقت الدفع، ولم یشک في أمره ، فدفع إلیه ، فهذا علی الجواز ، إلا إذا ظهر بعد الدفع أنه لیس محل الصدقة ، فحینئذ لا یجوز ؛ لأن الظاهر أنه صرف الصدقة إلی محلها ، حیث نوی الزکاة عند الدفع ، والظاهر لا یبطل إلا بالتیقن ، فإذا ظهر بیقین أنه لیس بمحل الصدقة ، ظهر أنه لم یجز ، وتجب علیه الإعادة ، ولیس له أن یسترد ما دفع إلیه ، ویقع تطوعًا حتی أنه لو خطر بباله بعد ذلک وشک فیه ، ولم یظهر له شيء لا تلزمه الإعادة ؛ لأن الظاهر لا یبطل بالشک ۔ (۴۵۸/۲ ، ۴۶۵ ،۴۸۴ ، کتاب الزکاة ، فصل في رکن الشرائط)

ما في ” النتف في الفتاوی للسغدي “ : العطیة علی أربعة أوجه : أحدھا للفقیر للقربة والمثوبة ، ولا یکون فیها رجوع وهي الصدقة ۔ (ص/۳۱۲ ،کتاب الهبة)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : إذا شک وتحری فوقع في أکبر رأیه أنه محل الصدقة فدفع إلیه ، أو سأل منه فدفع ، أو رآه في صف الفقراء فدفع إلیه ، فإن ظهر أنه محل الصدقة جاز بالإجماع ، وکذا إن لم یظهر حاله عنده ، وأما إذا ظهر أنه غني أو هاشمي أوکافر أو مولی الهاشمي أو الولدان أوالمولودون أو الزوج أوالزوجة ، فإنه یجوز ویسقط عنه الزکاة في قول أبي حنیفة ومحمد رحمهما اللّٰه تعالی ۔(۱۹۰/۱، کتاب الزکاة ، الباب السابع في المصارف) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۱۲/۲ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔