جس کے پاس ڈیڑھ تولہ سونا ہو وہ مستحقِ زکوة ہے یا نہیں؟

(فتویٰ نمبر: ۲۲۳)

سوال:

۱-ایک عورت کے پاس ڈیڑھ تولہ سونا ہے ، اس کا شوہر جس کمپنی (Company) میں کام کرتا تھا اس کمپنی کے بند ہوجانے کی وجہ سے، وہ اپنے گھر بے کا ربیٹھا ہواہے، تو کیا ان کو زکوة کی رقم دے سکتے ہیں؟ واضح ہو کہ آمدنی کے دوسرے ذرائع بھی نہیں ہیں۔

۲-ایک عورت کا آپریشن (Operation)ہوا،جس کے اوپر ۲۸/ہزار روپے قرض ہیں، لیکن اس کے پاس پلاٹ(Plat) کی شکل میں زمین ہے،نیز اس کے شوہر کی عطر کی دوکان بھی ہے، اُس کا لڑکا مدرسہ میں پڑھاتا ہے اور لڑکی لندن(London) میں رہتی ہے جو تعاون بھی کرتی ہے، لیکن جو آپریشن (Operation)کروایا وہ قرضہ لے کر کروایا،توکیا ایسی عورت کو شرعاً زکوة دے سکتے ہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

جس شخص کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی ، یا ان دونوں میں سے کسی ایک کی قیمت ،یا ضرورت سے زائد سامان جو ان دونوں میں سے کسی ایک کی قیمت کو پہنچے، نہ ہوں، تو ایساشخص مستحقِ زکوة ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر عورت کے پاس صرف ڈیڑھ تولہ سونا ہے اور اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، تو وہ فقیر ہے، اسی طرح اگر شوہر بھی صاحبِ نصاب نہیں ہے تو وہ بھی فقیر ہے، اور ان دونوں کو زکوة کی رقم دینا جائز ہے۔(۱)

اگر یہ پلاٹ (Plat)حوائجِ اصلیہ میں داخل ہے (مثلاً گھر بنانے کے لیے ہے) تو یہ عورت مقروض ہے، اور مقروض کو زکوة دینا جائز ہے(۲)،خواہ اس کے شوہر کی عطر کی دکان ہو ،یا اس کا بیٹا مدرسے میں پڑھاتا ہو، یا اس کی لڑکی لندن(London) سے اس کا تعاون کرتی ہو، ان کے صاحبِ نصاب ہونے کی وجہ سے عورت کے مستحقِ زکوة ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اوراگر یہ پلاٹ(Plat) حوائجِ اصلیہ سے زائد یعنی تجارت کے لیے ہے، اور اس کی قیمت اتنی ہے کہ قرض ادا کرنے کے بعد بقدرِ نصاب بچ جائے گی،تو یہ عورت صاحبِ نصاب ہے، اس کو زکوة دینا جائز نہیں(۳) ،اور اگرا س کی قیمت اتنی نہ ہو کہ اس سے قرض ادا کیا جاسکے،یا قرض اداکرنے کے بعد بقدرِ نصاب بچ جائے،تو یہ عورت پہلی صورت میں مقروض اور دوسری صورت میں فقیر ہے، لہٰذا اس کو زکوة دینا جائز ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “: ﴿إنما الصدقٰت للفقرآء والمسٰکین والعٰملین علیها﴾ ۔ (سورة التوبة : ۶۰)

ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : وکان شیخنا أبو الحسن الکرخي رحمه اللّٰه یقول : ” المسکین هو الذي لا شيء له ، والفقیر هو الذي له أدنی بلغة “ ۔

(۱۵۸/۳ ، ط : مکتبة شیخ الهند بدیوبند)

ما في ” صحیح البخاري “ : عن ابن عباس رضي اللّٰه عنه قال : قال رسول اللّٰه ﷺ لمعاذ بن جبل – رضي اللّٰه عنه – حین بعثه إلی الیمن : ” ۔۔۔۔۔ فأخبرهم أن اللّٰه قد فرض علیهم صدقة توٴخذ من أغنیائهم فترد علی فقرائهم “ ۔ (ص/۲۷۰ ، کتاب الزکاة)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : مصرف الزکاة هو فقیر ، وهو من له أدنی شيء ؛ أي دون نصاب أو قدر نصاب غیر تام مستغرق في الحاجة ۔ (در مختار) ۔

(۲۵۶/۲ ، کتاب الزکاة ، باب المصرف)

ما في ” البحر الرائق “ : یجوز دفع الزکاة إلی من یملک ما دون النصاب أو قدر نصاب غیر تام مستغرق في الحاجة ۔

(۴۱۹/۲ ، کتاب الزکاة ، فتح القدیر :۲۶۵/۲ ، کتاب الزکاة ، مجمع الأنهر :۳۲۵/۱ ، کتاب الزکاة ، باب في بیان أحکام المصرف)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ :﴿إنما الصدقٰت للفقرآء والمسٰکین والعٰملین علیها والموٴلفة قلوبهم وفي الرقاب والغٰرمین وفي سبیل اللّٰه وابن السبیل﴾ ۔ (سورة التوبة : ۶۰)

ما في ” أحکام القرآن للجصاص“:قال أبو بکر:لم یختلفوا أنهم المدیون ، وفي هذا دلیل علی أنه إذا لم یملک فضلا عن دینه مائتي درهم فإنه فقیر ، تحل له الصدقة۔(۱۶۲/۳)

ما في ” جامع الترمذي “ : عن أبي سعید رضي اللّٰه عنه قال : أصیب رجل في عهد رسول اللّٰه ﷺ في ثمار ابتاعها فکثر دینه ، فقال رسول اللّٰه ﷺ : ” تصدقوا علیه “ ۔ فتصدق الناس علیه ، فلم یبلغ ذلک وفاء دینه ، فقال رسول اللّٰه ﷺ لغرمائه : ” خذوا ما وجدتم ولیس لکم إلا ذلک “ ۔(۴۷۲/۱ ، کتاب الزکاة ، ط : بیروت)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ومدیون لا یملک نصابًا فاضلا عن دینه ، وفي الظهیریة : الدفع للمدیون أولی منه للفقیر ۔ (در مختار) ۔ (۲۶۱/۳ ، کتاب الزکاة)

ما في ” البحر الرائق “ : والمدیون أطلقه کالقدوري ، وقیده في الکافي بأن لا یملک نصابًا فاضلا عن دینه ؛ لأنه المراد بالغارم في الآیة ، وهو في اللغة من علیه دین ، ولا یجد قضاء کما ذکره المفتي ۔۔۔۔۔ الدفع إلی من علیه الدین أولی من الدفع إلی الفقیر ۔ (۴۲۲/۲، فتح القدیر:۲۶۸/۲،کتاب الزکاة)

(۳)ما في”جامع الترمذي“:عن عبد اللّٰه بن عمرو رضي اللّٰه عنهما عن النبي ﷺ قال:”لا تحل الصدقة لغني ولا لذي مرة سوی“۔(۴۷۱/۱،کتاب الزکاة ،ط:بیروت)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولا إلی غني یملک قدر نصاب فارغ عن حاجته الأصلیة من أي مال کان ۔ (در مختار) ۔ (۲۶۶/۳)

ما في ” البحر الرائق “ : وغني یملک نصابًا أي لا یجوز الدفع له ۔(۴۲۶/۲ ، کتاب الزکاة ، باب المصرف ، النهر الفائق :۴۶۴/۱ ، کتاب الزکاة ، باب المصرف)

ما في ” بدائع الصنائع “ : وقول النبي ﷺ : ” لا تحل الصدقة لغني “ ۔ ولأن الصدقة مال تمکن فیه الخبث لکونه غسالة الناس لحصول الطهارة لهم به من الذنوب ، ولا یجوز الانتفاع بالخبیث إلا عند الحاجة ، والحاجة للفقیر لا للغني ۔ (۱۵۷/۲ ، کتاب الزکاة) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۵/۱۵ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔