معتکف کے لیے پوری مسجد جائے اعتکاف ہے!

(فتوی نمبر: ۱۱۸)

سوال:

الحمد للہ میں رمضان ا لمبارک میں اعتکاف میں بیٹھتا ہوں،افطاری کے فوراً بعد مجھے بیت الخلا جانا پڑتا ہے، بیت الخلا مسجد کی عمارت سے باہر تھوڑی دوری پر ہے، فارغ ہوکر آتا ہو ں تو مجھے معتکف کی حدود کے باہر (داخلِ عمارت میں) نماز پڑھنے کی جگہ ملتی ہے، تقریباً۸/ سے ۱۰/ منٹ حد سے باہر گزارنے پڑتے ہیں، تو اعتکاف میں کسی طرح کی خامی،یا اعتکاف سے باہر ہونے کا اندیشہ ہے؟ کیوں کہ اس چیزکو میں روک نہیں سکتا۔

الجواب وباللہ التوفیق:

تمام مسجد معتکِف کے لیے معتکَف(جائے اعتکاف )ہے؛ اس لیے آپ کا اعتکاف فاسد نہیں ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح “ : (ولا یخرج منه) من معتکفه، فیشمل المرأة المعتکفة (إلا لحاجة شرعیة) کالجمعة والعیدین ۔۔۔۔۔۔ أو حاجة طبعیة کالبول والغائط ۔(ص/۷۰۲ ، کتاب الصوم، با ب الاعتکاف، ط: مکتبة شیخ الهند دیوبند)

(البحر الرائق :۵۲۷/۲، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، مجمع الأنهر :۳۷۸/۱ ، کتاب الاعتکاف، بدائع الصنائع : ۲۶/۳، کتاب الاعتکاف، رد المحتار: ۴۳۵/۳، کتاب الصوم، باب الاعتکاف)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند: ۵۰۳/۶) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۷/۲۹ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔