(فتویٰ نمبر:۵)
سوال:
زید مسجد کا امام ہے اور طلحہ فارغ التحصیل عالم دین ہے دونوں حنفی المذہب ہیں،مسئلہ یہ ہے کہ: ایامِ تشریق میں پانچوں فرض نمازوں کے بعد ایک بار تکبیر تشریق پڑھنے کو زید واجب اور تین پڑھنے کو مستحب وأفضل بتاتا ہے، لیکن طلحہ جو ایک عالم دین ہے ایک سے زائد تکبیر پڑھنے کو بدعت، خلاف سنت، ناجائز اور حرام کا فتویٰ دیتاہے۔براہِ کرم وضاحت فرمائیں۔
الجواب وباللہ التوفیق:
تکبیر تشریق ایک مرتبہ پڑھنا واجب ہے اور اس سے زائد خلاف سنت ہے اس لیے ایک دفعہ پر اکتفا کرنا بہتر ہے(۱)طلحہ کا ایک سے زائد بار تکبیر تشریق پڑھنے کو بدعت کہنا صحیح نہیں ہے؛ کیوں کہ جو چیز دین میں نہ ہواس کو دین سمجھنا بدعت ہے، حدیث شریف میں ہے(۲)اسی طرح ایک سے زائد بارتکبیر تشریق پڑھنے کو حرام کہنا یہ بھی صحیح نہیں؛ کیوں کہ حرام وہ چیز ہوتی ہے جس کی ممانعت دلیلِ قطعی سے ثابت ہو۔(۳)
الحجة علی ماقلنا:
(۱)مافي”رد المحتار“: ویجب تکبیر التشریق في الأصح للأمربه مرةً وإن زاد علیها یکون فضلا، قاله العیني:( الدر المختار) قوله: (وإن زاد الخ)أفاد أن قوله”مرةً“ بیان للواجب لکن ذکر أبو السعود أن الحموي نقل عن القراحصاري أن الإتیان به مرتین خلاف السنة أه۔(۶۲/۳– فتاویٰ دار العلوم دیوبند:۲۰۳/۷)
(۲) مافي”صحیح البخاري“:”من أحدث في أمرنا هذا مالیس منه فهو رد۔(کتاب الصلح:۳۷۱/۱)
(سنن ابن ماجه :ص/۳)
(۳)مافي”رد المحتار“: قال ابن عابدین: قال في الهدایة: إلا أنه لما لم یجد فیه نصا قاطعا لم یطلق علیه لفظ الحرام فإذا وجد نصا یقطع القول بالتحریم۔
(کتاب الحظر والإباحة: ۴۸۶/۹،ط:دار الکتاب العلمیة، بیروت)(فتاویٰ محمودیه: ۳/۲۶)فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۸/۱۱/۸ھ
