نکاحِ ثانی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

(فتویٰ نمبر: ۱۰۷)

سوال:

میں سلیم ابن قمر الدین (ساکن کھیتیا ضلع کھرگون) کا نکاح سرتاج بی بنت عبد الجبار کے ہمراہ تقریباً ۳۳/سال قبل ہوا تھا، اور اس کے بطن سے میری پانچ اولاد؛ تین لڑکیاں اور دو لڑکے ہیں، ادھر تقریباً چار سال سے ہم دونوں میں تنازع ہے، جس کی وجہ سے وہ ایک کرایہ کے مکان میں اپنے بچوں کے ساتھ رہتی ہے، ہماری قریشی جماعت نے ہم دونوں کے درمیان مصالحت بھی کروائی جس کے بعد وہ کچھ روز میرے گھر رہی ، مگر پھر ہم دونوں میں نا اتفاقی وناچاقی پیدا ہوئی، اور اب وہ پھر سے ایک علیحدہ مکان میں اپنے بچوں کے ساتھ رہ رہی ہے، کئی مرتبہ اس نے مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیا اور جب میں دینا چاہتا ہوں، تو اسٹامپ پیپر پر دستخط کرنے سے انکار کرتی ہے، تو کیا میں اس صورت میں شرعاً دوسرا نکاح کرسکتا ہوں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور کے لیے نکاحِ ثانی کرنا شرعاً جائز ہے، کیوں کہ آزاد مرد بیک وقت بشرطِ عدل ومساوات چار عورتوں سے نکاح کرنے کا مجاز ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:”تو جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلو، دودوسے خواہ تین تین سے خواہ چار چار سے، لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم عدل نہ کرسکوگے، تو پھر ایک ہی پر بس کرو، اس میں زیادتی نہ ہونے کی توقع قریب تر ہے“۔ (سورة النساء :۳)

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” تفسیر الجلالین بهامش القرآن الکریم “ : قال اللّٰه تعالی : (فانکحوا) تزوجوا (ما) بمعنی من (طاب لکم من النساء مثنٰی وثُلٰث ورُبٰع) أي اثنتین اثنتین ، وثلاثًا ثلاثًا ، وأربعًا أربعًا ، ولا تزیدوا علی ذلک۔ (ص/۷۹ ، ط : موٴسسة الریان بیروت)

ما في ” إعلاء السنن “ : عن ابن عمر قال : أسلم غیلان وعنده عشر نسوة ، فقال رسول اللّٰه ﷺ : ”أمسک أربعًا ، وفارق سائرهنّ “ ۔

(۶۴/۱۱ ، باب لا تباح للحرة بالتزوج إلا لأربع من النساء ، ط : بیروت)

ما في ” التعلیق والتحقیق علی رد المحتار “ : صح نکاح أربع من الحرائر والإماء فقط للحر لا أکثر ۔ (در مختار) ۔ اتفق العلماء علی جواز النکاح أربعة من النساء معًا، وذلک للحرائر من الرجال ۔

(۱۳۸/۴ ، فصل في المحرمات ، مجمع البحرین وملتقی النیرین في الفقه الحنفي : ص/۵۱۴ ، الفتاوی التاتار خانیة :۲۷۴/۲ ، الفصل الثامن ، ط : دارالإیمان سهارنفور ، الفتاوی الهندیة :۷/۲ ، کتاب النکاح)

ما في ” الفتاوی البزازیة علی هامش الهندیة “ :له امرأة أو جاریة فأراد أن یتزوج أخری فقالت: أقتل نفسي له أن یأخذ ولا یمتنع؛ لأنه مشروع ، قال اللّٰه تعالی : (لم تحرم ما أحل اللّٰه لک تبتغي مرضاة أزواجک واللّٰه غفور رحیم) ۔ وإن خاف أن لا یعدل بین امرأتین لا یتزوج بأخری ، لقوله تعالی : (فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدة) ۔

(۵۵/۴، نوع آخر ، مباشرة النکاح في المساجد مستحب) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۷/۲ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔