(فتویٰ نمبر: ۲۴۱)
سوال:
زید نے اپنی دادی کا دودھ پیا ہوا ہے اور اُس کی شادی اس کی حقیقی پھوپھی کی بیٹی سے ہونے جارہی ہے،تو کیا یہ شادی جائز ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
صورتِ مسئولہ میں جب زید نے اپنی دادی کا دودھ پیا ہے، تو اس کے چچا اور پھوپھیاں اس کے رضاعی بھائی بہن بن گئے اور ان کی اولاد اس کے بھتیجے اور بھتیجیاں، بھانجے اور بھانجیاں بن گئیں، اور آدمی کے لیے جس طرح اپنی حقیقی بھتیجی اور بھانجی کے ساتھ نکاح کرنا حرام ہے، اسی طرح رضاعی بھتیجی اور بھانجی کے ساتھ نکاح کرنا بھی حرام ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن عائشة – رضي اللّٰه عنها – قالت : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” یحرم من الرضاعة ما یحرم من الولادة “ ۔ (۴۶۶/۱ ، کتاب الرضاع)
ما في ” الصحیح لمسلم “ : وعن علي – رضي اللّٰه عنه – قال : قلت : یا رسول اللّٰه ! ما لک تنوق في قریش وتدعنا ؟ فقال : وعندکم شيء ؟ قلت : نعم ؛ بنت حمزة ، فقال رسول اللّٰه ﷺ : ” إنها لا تحل لي ، إنها ابنة أخي من الرضاعة “ ۔ (۴۶۷/۱ ، کتا ب الرضاع)
ما في ” مرقاة المفاتیح “ :وما یحرم بالنسب هو تعلق به خطاب تحریمه ، وقد تعلق بما عبر عنه بلفظ الأمهات والبنات وأخواتکم وعماتکم وخالاتکم وبنات الأخ وبنات الأخت۔
(۲۹۴/۶ ، کتاب النکاح ، باب المحرمات ، رقم : ۳۱۱۶)
ما في ” بذل المجهود “ : قال القرطبي : في الحدیث دلالة علی أن الرضاع ینشر الحرمة بین الرضیع والمرضعة وزوجها ، یعني الذي وقع الإرضاع بلبن ولده منها أو السید ، فتحرم علی الصبی ؛ لأنها تصیر أمه، وأمها؛ لأنها جدته فصاعدًا، وأختها ؛ لأنها خالته ، وبنتها ؛ لأنها أخته ، وبنت بنتها فنازلا؛ لأنها بنت أخته ۔ اه ۔ (۵۹۹/۷ ، کتاب النکاح ، باب یحرم من الرضاعة ما یحرم من النسب، ط: دار البشائر الإسلامیة بیروت) (فتاویٰ عثمانی: ۲۳۵/۲) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۶/۲۷ھ
