(فتویٰ نمبر: ۱۲۴)
سوال:
۱– ایک مرد نے ایک عورت سے نکاح کیا ، جس سے اُس کا ایک لڑکا ہے، اُس کی عمر ۱۰/ سال ہے، اب وہی مرد اپنی منکوحہ کی چھوٹی بہن یعنی اپنی حقیقی سالی سے نکاح کرے، تو کیا منکوحہ کے ہوتے ہوئے اس کی حقیقی چھوٹی بہن سے نکاح جائز ہے ؟
۲– فی الحال دونوں بہنیں ایک ہی گھر میں ایک مرد کے ساتھ رہتی ہیں ،تو کیا یہ جائز ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱– شخصِ مذکور اپنی بیوی کی موجودگی میں اس کی بہن یعنی اپنی سالی سے نکاح نہیں کرسکتا، اس لیے کہ دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے، البتہ اگر وہ بیوی اس کے نکاح میں نہ رہے، بلکہ مرجائے یا اس کو طلاق دیدے، تو عدت گزرنے کے بعد سالی سے نکاح درست ہے۔(۱)
۲– سالی چوں کہ اجنبیہ ہے، عام عورتوں کی طرح کبھی کبھی اپنے بہنوئی کے گھر آجائے، توکوئی مضائقہ نہیں، لیکن مستقل طور پر گھر میں رکھنا پردے کے ساتھ بھی مناسب نہیں ہے۔
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم عورتوں پر داخل ہونے سے بچو( یعنی اجنبی عورتوں سے تنہائی میں نہ ملو)، ایک شخص نے عرض کیا، یار سول اللہ! دیور کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ جواب دیا: ”دیور موت ہے۔“(۲)
نوٹ-: سالی کا حکم بھی دیور ہی کی طرح ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَأنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ﴾ ۔ (سورة النساء : ۲۳)
ما في ” الجامع لأحکام القرآن للقرطبي “ : وأجمعت الأمة علی منع جمعهما في عقدٍ واحدٍ من النکاح لهذه الآیة ، وقوله علیه السلام : ” لا تعرضن علی بناتکن ولا أخواتکن “ ۔۔۔۔۔۔۔ وقد أجمعوا علی أنه لا یجوز العقد علی أخت الزوجة لقول اللّٰه تعالی : ﴿وأن تجمعوا بین الاختین﴾ یعني الزوجتین بعقد النکاح ۔(۱۱۶/۵ ، ۱۱۷)
(۲) ما في ” مشکاة المصابیح “ : عن عقبة بن عامر – رضي اللّٰه عنه – قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ”إیاکم والدخول علی النساء “ ، فقال رجل : یا رسول اللّٰه ! أرأیت الحمو ؟ قال : ” الحمو الموت “ ۔ متفق علیه ۔ (ص/۲۶۸ ، کتاب النکاح ، النظر إلی المخطوبة) (مظاهرِ حق :۱۱۳/۳)
(فتاویٰ محمودیه:۲۳۰/۱۹، فتاویٰ عثمانی :۴۷۹/۲،کتاب الفتاویٰ:۴۳۷/۴) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔یکم شعبان المعظم/ ۱۴۲۹ھ
