سالی کے ساتھ وطی کرنے پر بیوی کا حکم!

(فتویٰ نمبر:۱۴۶)

سوال:

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی بہن کے ساتھ وطی کرلے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا اس کا نکاح فاسد ہوگیا؟ نیزوہ اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرسکتاہے یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور سخت گناہ کا مرتکب ہوا ہے، جس پر اسے توبہ واستغفار کرنا چاہیے، لیکن اُس کے اِس عمل سے نکاح میں کوئی فساد لازم نہیں آئے گا،البتہ موطوء ہ (سالی) کا کم از کم ایک حیض گزرنے تک بیوی سے علیحدہ رہیں، اس لیے کہ فروج(شرم گاہوں ) کے معاملے میں احتیاط والے پہلو کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” رد المحتار “ : وفي الدرایة عن الکامل : لو زنی بإحدی الأختین لا یقرب الأخری حتی تحیض الأخری حیضةً ۔ (۸۸/۴ ، فصل في المحرمات ، مجع الأنهر : ۴۷۹/۱)

ما في ” النتف في الفتاوی “ : إذا وطأ ذات محرم من امرأته ممن لا یحرم علیه بزنا ، فإنه لا یقرب امرأته حتی تستبرئ الموطوء ة بحیضة ؛ لأنه لا یحل له رحمان محرمان فیهما ماءه ۔ (ص/۱۸۹ ، الموانع في النکاح)

(فتاویٰ رحیمیه :۱۹۱/۸، فتاویٰ عثمانی : ۲۵۳/۲،۲۵۴، فتاویٰ دار العلوم دیوبند :۳۴۴/۷) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔ ۱۴۲۹/۱۱/۲۳ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔