اگر تو میکے گئی تو طلاق، قسم سے طلاق دے دوں گا!

(فتویٰ نمبر: ۱۵۴)

سوال:

زید نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ اگر تو میکے گئی تو طلاق دے دوں گا، پھر زید نے طلاق دینے کی قسم بھی کھالی کہ اگر تو میکے گئی تو قسم سے طلاق دے دوں گا، نیز زید نے گھر کے تمام افراد کو بھی بتایا کہ میں نے اپنی اہلیہ سے کہہ د یا ہے کہ اگر تو میکے گئی، تو طلاق دے دوں گا، اب ”رخسانہ“ میکے جانا چاہتی ہے، تو کیا ”رخسانہ“ کو طلاق واقع ہوجائے گی یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

زید نے چوں کہ وعدہٴ طلاق پر قسم کھائی ہے کہ تو میکے گئی، تو میں تجھے طلاق دے دوں گا، اور محض وعدہٴ طلاق سے طلاق واقع نہیں ہوگی(۱)، لہٰذا اگر رخسانہ میکے جاتی ہے اور جانے کے بعد زید طلاق دیتا ہے،تو طلاق واقع ہوگی ورنہ نہیں۔

رہا زید کا یہ کہنا کہ اگر تو میکے گئی تو قسم سے طلاق دے دوں گا، تو اس طرح قسم کھانے سے قسم واقع ہوجاتی ہے ، شریعت نے اس جیسی قسم کا اعتبار کیا ہے(۲)، اگر زید میکے جانے پر اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے، تو اپنی قسم میں حانث نہ ہوگا،یعنی اس پر کفارہٴ قسم واجب نہیں ہوگا،لیکن اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی، اور اگر طلاق نہیں دیتا ہے تو اپنی قسم میں حانث ہوگا اور قسم کا کفارہ لازم ہوگا، یعنی دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا،یا دس مسکینوں کو کپڑا پہنانا، یا ایک غلام کو آزاد کرنا، اور اگر وہ ان چیزوں کی قدرت نہ رکھتا ہو، تو تین دن مسلسل روزے رکھنا ہوں گے۔(۳)

نوٹ-: زید کو چاہیے کہ اپنی قسم پوری کرنے کے لیے اپنی بیوی کو طلاق نہ دے، کیوں کہ بلاعذرِ شرعی طلاق دینا سخت گناہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”حلال اور مباح چیزوں میں سب سے زیادہ مبغوض چیزاللہ کے نزدیک طلاق ہے“۔(۴)

نیزمحبوبِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ” جس نے کسی بات پر قسم کھایا پھر سمجھ میں آیا کہ اس کے خلاف کرنا بہتر ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ ، وہ کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کاکفارہ دیدے “۔(۵)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” البحر الرائق “ : قال ابن نجیم : قید بالاختیار؛ لأنه لو قال: طلقي نفسک فقالت : أنا أطلق لا یقع، وکذا لو قال لعبده : أعتق رقبتک ، فقال : أنا أعتق لا یعتق؛ لأنه لا یمکن جعله إخبارا عن طلاق قائم أو عتق قائم؛ لأنه إنما یقوم باللسان ۔ (۵۴۵/۳ ، کتاب الطلاق، باب تفویض الطلاق)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : بخلاف قوله : طلقي نفسک فقالت : أنا طالق أو أنا أطلق نفسي لم یقع؛ لأنه وعد بخلاف قولها: أطلق نفسي لا یمکن جعله إخبارًا عن طلاق قائم؛ لأنه إنما یقوم باللسان، فلو جاز لقام به الأمران في زمن واحد وهو محال۔ (۴۲۰/۴ ، کتاب الطلاق ، باب تفویض الطلاق)

ما في ” الهدایة “ : بخلاف قولها : أطلق نفسي ؛ لأنه تعذر حمله علی الحال ؛ لأنه لیس بحکایة عن حالة قائمة ، ولا کذلک قولها : أنا أختار نفسي ؛ لأنه حکایة علی حالة قائمة ، وهو اختیارها نفسها ۔(۷۷/۲ ، کتاب الطلاق ، باب تفویض الطلاق ، ط : یاسر ندیم اینڈ کمپنی)

ما في ” فتح القدیر “ : بخلاف قولها : أطلق نفسي ، لا یمکن حمله إخبارًا عن أمر قائم ؛ لأنه یقوم باللسان، فلو جاز قام به الأمران في زمن واحد وهو محال ، وهذا بناء علی أن الإیقاع لا یکون بنفس أطلق ؛ لأنه لا تعارف فیه ۔ (۷۴/۴ ، کتاب الطلاق)

(۲) ما في ” الهدایة “ : ولو قال : أقسم ، أو أقسم باللّٰه ، أو أحلف ، أو أحلف باللّٰه ، أو أشهد ، أو أشهد باللّٰه فهو حالف ؛لأنه هذه الألفاظ مستعملة في الحلف ، وهذه الصیغة للحال حقیقة ، وتستعمل للاستقبال لقرینة ، فجعل حالفًا في الحال ۔ (۴۶۰/۲ ، کتاب الأیمان ، باب ما یکون یمینًا وما لا یکون یمینًا)

ما في ” فتح القدیر “ : وإن ذکره من غیر ذکر اسمه تعالی فیها مثل أحلف لأفعلن أو أقسم ، أو أشهد، أو أعزم، أوحلفت، فعندنا هو بیمین نوی أو لم ینو۔ (۶۷/۵، کتاب الأیمان)

(۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿فکفارته إطعام عشرة مسٰکین من أوسط ما تطعمون أهلیکم أو کسوتهم أو تحریر رقبة فمن لم یجد فصیام ثلٰثة أیام ذلک کفارة أیمانکم إذا حلفتم واحفظوٓا أیمانکم﴾ ۔ (سورة المائدة :۸۹)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وکفارته هذه إضافة للشرط ؛ لأن السبب عندنا الحنث ، تحریر رقبة أو إطعام عشرة مساکین ، کما مر في الظهار ، أو کسوتهم ۔۔۔۔۔ وإن عجز عنها کلها صام ثلاثة أیام ولاء ۔(۴۰۰/۵ ، کتاب الأیمان ، باب کفارة الیمین)

(۴) ما في ” مشکوة المصابیح “ : ” أبغض الحلال إلی اللّٰه الطلاق “۔ ص/۲۸۳)

(۵) ما في ” المصنف لإبن أبي شیبة “ : ” من حلف علی یمین فرأی ما هو خیر منها فلیأت الذي هو خیر ، ولیکفر عن یمینه “ ۔ (۵۵۴/۷) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۱۲/۳ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔