تحریری طلاق نامہ سے طلاق کا وقوع!

(فتویٰ نمبر: ۱۶۰)

سوال:

۱– میری شادی ۱۹۹۸/۴/۲۴ء کو ہوئی تھی، لیکن دونوں (میاں بیوی)میں نباہ نہ ہونے کی وجہ سے ۲۰۰۳/۵/۱۶ء کو تحریری طلاق نامہ دے دیا، جو سوال نامہ کے ساتھ روانہ کر رہا ہوں، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ شریعت کی روسے یہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟

۲-ہم دونوں پھر دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں، تو اس کا شرعی حل کیا ہے؟

نوٹ:۔ طلاق نامہ ہندی میں موصول ہوا، جو ٹائپ رائٹر(Typewriter) سے لکھا گیا ہے؛ جس میں شوہر نے صریح الفاظ میں تین طلاقیں دی ہیں۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱– صورتِ مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہوگئیں۔(۱)

۲-اب دوبارہ ساتھ رہنے کی صورت یہ ہے کہ وہ عورت کسی دوسرے مرد سے شادی کرے، اور شوہرِ ثانی دخول کے بعد اس کو طلاق دیدے ،یا شوہرِ ثانی کا انتقال ہوجائے اور شوہرِ ثانی کی عدتِ طلاق یا عدتِ وفات گزرجائے،تو شوہرِ اول دوبارہ اس عورت سے نکاح کرسکتا ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” رد المحتار “ : قوله : (کتب الطلاق إلخ) وإن کانت مرسومةً یقع الطلاق نوی أو لم ینو ۔(۳۳۶/۴ ، مطلب في الطلاق بالکتابة ، النتف في الفتاوی :ص/۲۲۸)

(۲) ما في ” الهدایة “ : إن کان الطلاق ثلاثًا في الحرة ۔۔۔۔۔ لم تحل له حتی تنکح زوجًا غیره نکاحًا صحیحًا ، ویدخل بها ثم یطلقها ، أو یموت عنها ۔

(۳۷۹/۱ ، کتاب الطلاق ، باب الرجعة ، النتف في الفتاوی :ص/۱۶۵ ، کتاب النکاح ، الفتاوی الهندیة : ۴۷۳/۱ ، کتاب الطلاق ، فصل فیما تحل به المطلقة وما یتصل به ، البحر الرائق : ۹۴/۴ ، کتاب الطلاق) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۱۲/۲۴ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔