بلاوجہ شرعی شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا کیسا ہے؟

(فتویٰ نمبر: ۲۱۷)

سوال:

شوہر اور بیوی میں لڑائی چل رہی ہے، فی الحال شو ہر امریکہ میں اور بیوی افریقہ میں ہے، عورت اور اس کے گھر والے شوہر سے طلاق لینا چاہتے ہیں،اور شوہر کسی حال میں طلاق دینے کے لیے راضی نہیں ہے،اب عورت کے گھر والوں کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہیں،اس لیے انہوں نے اپنا مسئلہ افریقہ کی جمعیت میں رکھا ہے، تو کیا اس صورت میں جمعیت اگر طلاق کا فیصلہ کرتی ہے، تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ واضح ہو کہ شوہر دوسال سے امریکہ میں ہے۔

الجواب وباللہ التوفیق:

عورت اور اس کے گھر والوں کا بلاوجہ شرعی شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے، طلاق کا مطالبہ کرنا اللہ کی عطا کردہ نعمتِ نکاح کی ناشکری ہے،نیز حدیث شریف میں ہے کہ ”اللہ کے نزدیک مباح چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے “۔(۱)

اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ” جو عورت بلا کسی تکلیف کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے“۔(۲)

اور اگر شوہر اس پر واجب حقوق کو ادا نہیں کرتا اور طلاق بھی نہیں دیتا،تو عورت مال کے عوض اس سے خلع کرلے(۳)، لیکن اگر شوہر خلع پرراضی نہ ہو تو عورت اپنا مقدمہ قاضی ٴ شرع یا مسلمان حاکم اور ان دونوں کے نہ ہونے کی صورت میں جماعتِ مسلمین (شرعی کمیٹی)میں پیش کرے، اور جس شخص کے پاس پیش ہو وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعے سے مکمل تحقیق کرلے، اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو، تو شوہر سے کہاجائے کہ تم یا تو اپنی بیوی کے حقوق ادا کرو، یا اُسے طلاق دے دو، ورنہ ہم تفریق کردیں گے، اس کے بعد بھی شوہر کسی بات پر عمل نہ کرے، تو قاضی یا شرعاً جو اس کے قائم مقام ہے طلاق واقع کرے، تو طلاق واقع ہوجائے گی(۴)، لہٰذا اگر افریقہ کی یہ جمعیت شرعی جمعیت ہے اور پوری تحقیق کے بعد وقوعِ طلاق کا فیصلہ کرتی ہے، تو طلاق واقع ہوجائے گی۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” سنن أبي داود “ : عن ابن عمر – رضي اللّٰه عنهما – عن النبي ﷺ قال : ” أبغض الحلال إلی اللّٰه عز وجل الطلاق “ ۔

(ص/۲۹۶،کتاب الطلاق، باب فی کراهیة الطلاق)

(۲) ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن ثوبان قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” أیما امرأة سألت زوجها طلاقًا في غیر ما بأس فحرام علیها رائحة الجنة “ ۔

(ص/۲۸۳ ، کتاب النکاح ، باب الخلع والطلاق)

ما في ” مرقاة المفاتیح “ : أما ما روي : (لعن اللّٰه کل ذوّاق مطلاق) فمحمله الطلاق لغیر حاجة بدلیل ما روي من قوله ﷺ : ” أیما امرأة اختلعت من زوجها بغیر نشوز فعلیها لعنة اللّٰه والملائکة والناس أجمعین“۔ ولا یخفی أن کلامهم فیما سیأتي من التعالیل یصرح بأنه محظور لما فیه من کفران نعمة النکاح۔

(۳۸۶/۶ ، ۳۸۷ ، کتاب الطلاق ، باب الخلع والطلاق)

(۳) ما في ” القرآن الکریم “ :﴿فإن خفتم ألا یقیما حدود اللّٰه فلا جناح علیهما فیما افتدت به﴾ ۔ (سورة البقرة : ۲۲۹)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا یقیما حدود اللّٰه فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال یخلعها به ، فإذا فعلا ذلک وقعت تطلیقة بائنة ولزمها المال ، کذا في الهدایة ۔

(۴۸۸/۱ ، کتاب الطلاق ، الباب الثامن في الخلع وما في حکمه ، الهدایة : ۳۸۴/۲ ، کتاب الطلاق، باب الخلع ، الدر المختار مع الشامیة : ۵/۷۱ ، کتاب الطلاق ، باب الخلع)

(۴) (الحیلة الناجزة :ص/۱۳۰) (فتاویٰ محمودیه :۱۷۱/۱۳، باب الفسخ والتفریق ، فتاویٰ رحیمیه : ۳۷۸/۸) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۵/۳ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔