بیوی کے علاج اور ادویہ کا خرچ نفقہ میں داخل ہے یا نہیں؟

(فتویٰ نمبر: ۱۳۹)

سوال:

نفقہٴ زوجہ کی وضاحت فرمائیے، نیزادویہ کا خرچ اس میں داخل ہے یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

نفقہ کا اطلاق عامةً طعام، کسوہ اور سُکنیٰ پر ہی ہوتا ہے، ا س سلسلے میں تمام متونِ معتبرہ کی عبارتیں یکساں ہیں۔

علامہ شامی رحمہ اللہ نے اپنے عظیم الشان وبے مثال حاشیہ ” رد المحتار علی الدر المختار“ میں نفقہ کی لغوی ،شرعی اور عرفی تعریف ان الفاظ میں فرمائی ہے :

” النفقة “ إنها في اللغة ما ینفقه الإنسان علی عیاله ، وشرعًا : ہي الطعام والکسوة والسکنی ۔ وعرفًا ہي الطعام ۔ (۲۲۲/۵ ، ۲۲۳)

صاحب ” البحر الرائق“ علامہ شیخ زین الدین بن ابراہیم المعروف بابن نجیم مصری، صاحب ”بدائع الصنائع“ علامہ علاء الدین ابوبکر بن مسعود کاسانی، اور صاحب ” فتح القدیر“ علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف بابن الہمام الحنفی رحمہم اللہ نے بھی نفقہ میں ان ہی تین چیزوں (طعام، کسوة، سکنیٰ)کو ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے: (البحرالرائق :۲۹۳/۴، بدائع الصنائع: ۴۱۸/۳، فتح القدیر : ۴/ ۳۴۰)، جس سے معلوم ہوتاہے کہ بیوی کی ادویہ کا خرچ شوہر کے ذمہ لازم نہیں۔(۱)

مگر موجودہ صدی کے بلند پایہ عالمِ دین، فقیہ النفس، قاضی القضاة،حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام صاحب رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”آج کے بدلے ہوئے حالات میں دوا، علاج ضروریاتِ زندگی میں سے ہے،اور موجودہ عرفِ عام میں بھی شوہر کے ذمہ سمجھا جاتا ہے،اس لیے کھانا کپڑا کے ساتھ ساتھ دوا علاج کا خرچ بھی شوہر کے ذمہ عائد ہوگا“۔ (فتاویٰ قاضی: ص/۳۱)

حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی دامت برکاتہم اپنے ایک فتویٰ میں فرماتے ہیں:

” انسان کی بقا کے لیے کھانے پینے سے زیادہ بڑی ضرورت علاج ہے، اس لیے علاج بھی نفقہ میں داخل ہے اورشوہر پر واجب ہے کہ وہ اسے اداکرے“۔

(کتاب الفتاوی :۱۴۶/۵)

سابق چیف جسٹس شریعت بینچ سپریم کورٹ آف پاکستان، حضرت مولانا مفتی محمد تقی صاحب عثمانی دامت برکاتہم کی رائے بھی یہی معلوم ہوتی ہے، چنانچہ آپ ”فتاویٰ عثمانی :۴۹۱/۲“ پر رقم طراز ہیں:

”بظاہر یہ معلوم ہوتاہے کہ ہمارے دور میں عرفاً علاج نفقہ کا حصہ ہے، یوں بھی عقلاً یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر شوہر پر علاج کا خرچہ واجب نہ ہو، تو بیماری کی صورت میں عورت کیا کرے؟ جب کہ موجودہ دور میں علاج کاخرچہ اتنا ہوتا ہے کہ ایک ایسی بیوی جس کا کوئی ذریعہٴ روزگارنہ ہو اس کا تحمل نہیں کرسکتی “ ۔

حضرت الاستاذ قاضی مجاہد الاسلام صاحب رحمة اللہ علیہ اورحضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی مدظلہ العالی کے فتاویٰ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی دامت برکاتہم کی رائے درج ذیل وجوہات کی بنا پر راجح اور قرینِ قیاس معلوم ہوتی ہے:

۱قرآن کریم کی یہ آیت : ﴿لا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهنَّ أَوْ تَفْرِضُوْا لَهنَّ فَرِیْضَةً وَمَتِّعُوْهنَّ عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُه وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُه مَتَاعًا بِالْمَعْرُوْفِ﴾۔ جس سے مطلقات کے نفقہ کا وجوب ،اورآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ حدیث : ”وَلَهنَّ عَلَیْکُمْ رِزْقُهنَّ وَکِسْوَتُهنَّ بِالْمَعْرُوْفِ “ ۔(ابوداود:ص/۲۶۳، کتاب المناسک) (جس سے شوہروں پر بیویوں کے نفقہ کا وجوب ثابت ہورہا ہے) میں ”بالمعروف “کا لفظ مذکور ہے، جو اس بات کی غمازی کررہا ہے کہ نفقہ کی تحدید وتعیین میں عرف و عادت کو مدِ نظر رکھا گیا ہے، چوں کہ پچھلے دور میں جس میں ہمارے فقہا نے مسائل کا استنباط کیا، علاج ومعالجے کا اتنا خرچ نہیں ہوتاتھا کہ اسے بھی نفقہ میں شامل کیا جاتا،اس لیے شاید عرف یہ تھا کہ وہ نفقہ میں شامل نہیں،لیکن اب حالات اور عرف وعادات بدل چکیں، مختلف الانواع والاقسام بیماریوں نے وجودلے لیا اور غذا سے زیادہ دوا انسانی ضرورت بن گئی ،اور فقہ کا مسلمہ قاعدہ ہے : ” لا ینکر تغیر الأحکام بتغیر الزمان “۔ کہ زمانہ کے بدلنے سے احکام کے بدلنے کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔(درر الحکام : ۴۷/۱)؛ اس لیے دوا وعلاج نفقہ میں داخل ہوگا۔

۲- علامہ شامی رحمہ اللہ نے ”باب النفقة “ میں نفقہ کی تعریف فرمائی : ” وفي الشرع : الإدرار علی شيء بما فیه بقاءہ ۔ کذا في الفتح “۔کہ کسی کو وہ تمام چیزیں عطا کرنا جس میں اس کی بقا کا سامان موجود ہو ،نفقہ کہلاتا ہے۔ (رد المحتار :۲۲۲/۵)

آج دوا وعلاج بیوی کی بقا کے لیے بنیادی ضرورت بن گئی،اس لیے دوا وعلاج نفقہ کی مذکورہ تعریف میں داخل ہوگا ۔

۳- ﴿أَسْکِنُوْهنَّ مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُمْ مِنْ وُّجْدِکُمْ وَلا تُضَارُّوْهنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهنَّ﴾ ۔ (سورة الطلاق : الآیة :۶)۔ وفي حرف عبد اللّٰه بن مسعود : ﴿أَسْکِنُوْهنَّ مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُمْ وَأَنْفِقُوْا عَلَیْهنَّ مِنْ وُّجْدِکُمْ﴾کے ذیل میں صاحبِ ”بدائع الصنائع“ علامہ علاء الدین ابوبکر کاسانی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

” آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی عورتوں کے نفقہ میں تنگی کرکے انہیں تکلیف نہ دو کہ وہ اپنے گھرو ں سے نکلنے پر مجبور ہوجائیں “۔

 ظاہر ہے کہ اگر مرد اپنی بیوی کی دواوعلاج کا خرچہ نہیں دے گا، تو وہ گھر وں سے نکل کر کسب پر مجبور ہوجائیں گی، جس سے یہ ثابت ہوگا کہ تم نے اپنے اس فرض کو نہیں نبھایا۔

۴– شریعتِ اسلامی کا مذاق ومزاج بھی اس کی تائید کرتا ہے کہ دوا وعلاج نفقہ میں داخل ہو،کیوں کہ شریعت نے اغنیا پر واجب کیا کہ مکروب وپریشان حال کی مدد کریں،تو کیا شوہر پر یہ واجب نہیں ہوگا کہ بیماری میں مبتلا، تکلیف سے کراہ رہی بیوی کی دوا وعلاج کرے،یہ تو کوئی معقول بات نہیں ہوگی کہ جس عورت کو دوا کی ضرورت ہواور شوہر اسے دوا مہیا نہ کراتے ہوئے،اس کے سامنے مختلف الانواع والاقسام کا کھانا لاکر رکھ دے اور یہ کہے کہ میرے اوپر یہی واجب ہے، دوا واجب نہیں۔

اسی سلسلے میں صاحب ” کتاب الفقه علی المذاهب الأربعة “ عبد الرحمن بن محمد عوض الجزیری نے کتنی عمدہ بات فرمائی:

” وإذا کانا فقیرین فالأمر ظاهر ، إذ لیس من المعقول أن یکلف الفقیر بالدواء والفاکهة ، وهو لا یقدر علی القوت الضروري إلا بجهد ومشقة ، أما إذا کانت الزوجة فقیرة والزوج غني ، فإن قواعد الإسلام تقضي بإلزامه بمعالجتها ، فإنه یجب علی الأغنیاء أن یغیثوا المکروب ویعینوا المریض ، فالزوجة المریضة إذا لم یعالجها زوجها الغني وینقذها من کربها ، فمن یعالجها غیره من الأغنیاء ؟ ألیس من المعقول الظاهر أن یعالجها زوجها ویدفع لها ثمن الدواء إلزامًا ؟ وهذا الکلام تستریح له النفس “ ۔ (۴۶۹/۴ ، أنواع نفقة الزوجیة)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” شرح الوقایة “ : تجب هي الکسوة والسکنی علی الزوج ولو صغیرا لا یقدر علی الوطي ، ویجب سکناها لیس فیه أحد من أهله ۔ (۱۷۱/۲۱۷۸)

ما في ” کنز الدقائق مع البحر الرائق “ : تجب النفقة للزوجة علی زوجها ، والکسوة بقدر حالهما ، والسکنی في بیت خال عن أهله وأهلها ۔

(۲۹۳/۴۳۲۶ ، باب النفقة ، ط : بیروت)

ما في ” مجمع البحرین “ : وتجب للمرأة النفقة والکسوة والسکنی بتسلیم نفسها في منزل زوجها علی قدر حاله ۔ (ص/۶۰۰)

ما في ” الاختیار لتعلیل المختار “ :وتجب للزوجة علی زوجها إذا سلمت إلیه نفسها في منزله ، نفقتها وکسوتها وسکناها تعتبر بقدر حاله ۔ (۲۲۳/۴) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۱۱/۱۳ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔