(فتویٰ نمبر: ۱۴۸)
سوال:
اگر کسی مرد نے اپنی بیوی کو تین طلاق دیا، اس کے چھ لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں،جو سب چھوٹے چھوٹے ہیں، اور شوہر اپنی بیوی کو رکھنا نہیں چاہتا ہے ،اس کا کہنا ہے کہ تم اپنے بچوں کو لے کر چلی جاوٴ، اور عورت کہتی ہے کہ میں بچوں کو نہیں لوں گی، تو اس صورت میں حکمِ شرعی کیا ہے ؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱-صورتِ مسئولہ میں لڑکوں کے سات سال کی عمر کو پہنچنے تک، اور لڑکیوں کے بالغ ہونے تک حقِ حضانت وپرورش ماں کو حاصل ہے ،اور نفقہ وخرچہ باپ کے ذمہ ہے۔(۱)
۲-اگر ما ں حضانت سے انکار کرے، تو حقِ حضانت درج ذیل عورتوں کو بالترتیب حاصل ہوگا:
”نانی، دادی، حقیقی بہن، اخیافی بہن، علاتی بہن، حقیقی بھانجی، علاتی بھانجی، اخیافی بھانجی، حقیقی خالہ، اخیافی خالہ، علاتی خالہ، حقیقی بھتیجی، اخیافی بھتیجی، علاتی بھتیجی، حقیقی پھوپھی، اخیافی پھوپھی، علاتی پھوپھی۔“
اگر مندرجہ بالا خواتین میں سے کوئی نہ ہو ، یا حضانت وپرورش کی اہل نہ ہو، تو حقِ حضانت وپرورش حسبِ ترتیب ان عصبہ کی طرف منتقل ہوگا : ”اصول، بھائی، اس کی اولاد ، چچا ،ان کی اولاد“۔
اگر ان میں سے کوئی نہ ہو ،یا ہو مگر حضانت وپرورش کے لیے تیار نہ ہو، تو پھر یہ حق ذوی الارحام کی طرف منتقل ہوگا:”اخیافی بھائی ، ان کی اولاد ، اخیافی چچا، حقیقی ماموں، اخیافی ماموں“۔
اگر ان میں سے کوئی نہ ہو،یا ہو مگر پرورش کے لیے تیار نہ ہو، تو پھر حضانت وپرورش کے لیے ماں کو مجبور کیا جائے گا، تاکہ یہ بچے ضائع نہ ہو۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” فتح القدیر “ : والأم والجدة أحق بالغلام حتی یأکل وحده ، ویشرب وحده ، ویلبس وحده، ویستنجي وحده ، وفي الجامع الصغیر : حتی یستغني فیأکل وحده ، ویشرب وحده ، ویلبس وحده ۔۔۔۔۔ والخصاف قدر الاستغناء بسبع سنین اعتبارًا للغالب ، والأم والجدة أحق بالجاریة حتی تحیض ؛ لأن بعد الاستغناء تحتاج إلی معرفة آداب النساء ، والمرأة علی ذلک أقدر ، وبعد البلوغ تحتاج أي التحصین والحفظ ، والأب فیه أقوی وأهدی ، وعن محمد أنها تدفع إلی الأب إذا بلغت حد الشهوة لتحقق الحاجة إلی الصیانة ۔ (۳۲۴/۴)
وما في ” فتح القدیر “ : ونفقة الأولاد الصغار علی الأب لا یشارکه فیه أحدکما لا یشارکه في نفقة الزوجة ۔ (۳۲۰/۴)
(۲) ما في ” الاختیار لتعلیل المختار “ :وإذا اختصم الزوجان في الولد قبل الفرقة أو بعدها فالأم أحق ، ثم أمها ، ثم أم الأب ، ثم الأخت لأبوین ، ثم لأم ، ثم لأب ، ثم الخالات کذلک ، ثم العمات کذلک أیضًا ، وبنات الأخت أولی من بنات الأخ ، وهن أولی من العمات ۔ (۳۲۶/۳)
ما في ” الفتاوی التاتارخانیة “ : فإن ترکت الأم الولد علی الأب هل تجبر الأم علی حضانته وتربیته ؟ لم یذکر محمد هذه المسألة في الأصل ، وذکر شیخ الإسلام في شرحه أنها لا تجبر إلا أن لا یکون للولد ذو رحم محرم سوی الأم فحینئذ تجبر ۔ (۱۸۷/۳) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۱۱/۲۹ھ
