صحتِ وقف کے لیے واقف کی ملکیت ضروری ہے!

(فتویٰ نمبر: ۱۸۰)

سوال:

ماجد صاحب کے پاس دس(۱۰) ایکڑ زمین ہے ، اُن کا وارث بننے والا ایک ہی فرزند ہے اور ان کے چار یا پانچ پوتے ہیں،ماجد صاحب نے ایک پوتے کے لیے وصیت کی کہ میری زمین میں سے فلاں پوتے کو اتنی زمین دینا، فرزند نے پوری زمین مسجد یا مدرسہ میں وقف کردی اور وقف کرتے وقت سب پوتے موجود تھے، اور اس پوتے نے جس کے لیے وصیت کی گئی تھی کوئی نکیر نہیں کی، تو کیا وقف کے بعد وہ وصیت باقی رہے گی یا ساقط ہوجائے گی؟

الجواب وباللہ التوفیق:

ماجد صاحب نے جس حصہٴ زمین کی وصیت کی اگروہ ثلث (ایک تہائی) کی بقدر یا اس سے کم ہے، تو یہ وصیت اس حصہٴ زمین میں لازم ہوگی، اور اگر ثلث سے زائد ہے تو ثلث میں لازم ہوگی، اس سے زائد میں نہیں(۱)، لہٰذا فرزند کا پورے دس (۱۰)ایکڑ کو وقف کرنا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ صحتِ وقف کے لیے شی ٴموقوف کا واقف کی ملک میں ہونا ضروری ہے، اور وہ حصہٴ زمین جس کی وصیت ایک پوتے کے لیے کی گئی وہ میراث میں داخل ہی نہیں ہوا، جب میراث میں داخل نہیں تو فرزند کا مملوک نہیں، اور جب مملوک نہیں تو اس میں وقف بھی صحیح نہیں، خواہ موصیٰ لہ (وہ پوتا جس کے لیے وصیت کی گئی) بوقتِ وقف کوئی نکیر نہ کرے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الشریفیة شرح السراجیة “ : تقدیم الوصیة علی الإرث في مقدار ثلث الباقي بعد الدین ، سواء کانت الوصیة مطلقة أو معینة ، وهو الصحیح ۔ (ص/۷)

ما في ” حاشیة الشریفیة شرح السراجیة “ : وفي التاتار خانیة : ینفذ وصایاه من ثلث ماله ، وفي الفرائض الحسامیة : ثم ینفذ وصایاه من ثلث ما بقي بعد التکفین والدین إلا أن یجیز الورثة ۔ (ص/۷)

(۲) ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : وعندهما هو حبسها علی حکم ملک اللّٰه تعالی ۔ (تنویر) ۔ (۴۰۷/۶)

ما في ” مجمع الأنهر “ : ومن شرائط الملک وقت الوقف ، حتی لو غصب أرضًًا فوقفها ثم ملکها لا یکون وقفًا ۔ (۵۶۷/۲)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : إن الواقف لا بد أن یکون مالکه وقت الوقف ملکًا تامًا ۔۔۔۔۔۔۔۔ حتی لو وقف الغاصب المغصوب لم یصح ۔ (۴۱۰/۶) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۲/۹ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔