تالاب میں مچھلیوں کے خرید وفروخت کی ایک صورت!

(فتویٰ نمبر: ۱۷۹)

سوال:

زید نے ایک تالاب میں اپنی ذاتی مچھلیاں ڈالی اور وہ مچھلیاں تالاب میں بڑی ہوئیں، اب زید ان مچھلیوں کو بیچتا بھی ہے اور جو شخص چاہے کہ تالاب سے ہی بندوق وغیرہ سے شکار کرکے لے، تو زید یہ متعین کرتا ہے کہ بندوق ہی کے ذریعہ سے شکار کرسکتے ہیں اور ۵۰/ روپیہ ٹکٹ لیتا ہے ، ساتھ ہی یہ شرط بھی لگاتا ہے کہ اگر بندوق کے ذریعہ نہیں پکڑی گئی ،تو مجھ پر کوئی حرج نہیں ، اور اگر پکڑ نے میں زیادہ پکڑے تو وہ تمہاری ہے۔

نوٹ-: جس تالاب میں مچھلیاں شکار کی جارہی ہیں و ہ بڑا ہے ۔

الجواب وباللہ التوفیق:

زید کا اس طرح عقد کرنا از روئے شرع درست نہیں، کیوں کہ اس میں غرر(دھوکہ) ہے اور شریعت نے غر ر سے منع فرمایا ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ”الصحیح لمسلم “ : عن أبي هریرة رضي اللّٰه عنه قال : ” نھی رسول اللّٰه ﷺ عن بیع الحصاة وعن بیع الغرر “ ۔ (۲/۲ ، کتاب البیوع)

ما في ” مجمع الزوائد “ : عن عبد اللّٰه بن مسعود رضي اللّٰه عنه قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” لا تشتروا السمک في الماء فإنه غرر “ ۔ (۹۷/۴ ، کتاب البیوع ، باب بیع الغرر وما نهي عنه)

ما في ” بدائع الصنائع “ : ومنها أن یکون مقدور التسلیم عند العقد ، فإن کان معجوز التسلیم عنده لا ینعقد وإن کان مملوکاً له ۔ (۳۴۱/۴ ، کتاب البیوع)

وما في ” بدائع الصنائع “ : ومنها (من شروط البیع) أن یکون مقدور التسلیم من غیر ضرر یلحق البائع ، فإن لم یمکن تسلیمه إلا بضرر یلزمه فالبیع فاسد ۔ (۳۷۳/۴ ، باب من شروط البیع) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۲/۶ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔