(فتویٰ نمبر: ۸۱)
سوال:
آسیہ کو اس کے والد کی وراثت سے ساڑھے تین ایکڑ زمین حصہ میں ملی، آسیہ اور اس کے لڑکوں نے کچھ برس بٹائی کے طور پر کاشت کاری کرنے کے بعد،زید (جو آسیہ کے بھائی کا لڑکا ہے) کو ۱۹۸۳ءء میں اٹھارہ ہزار روپے کے عوض بیچ کر، رجسٹری دستاویزات بناکر،زمین قبضہ میں دیدی، بعد میں زید نے مذکورہ زمین کے کچھ حصے میں مرغی فارم (Poultry farm)کی عمارت تعمیر کرلی، اور باقی زمین میں کاشت کاری کرنے لگا، ۱۹۹۸ءء میں آسیہ کے لڑکوں نے مذکورہ زمین کے متعلق زید کے خلاف جھوٹا مقدمہ دیوانی کورٹ میں دائر کردیا، جس کا فیصلہ ۲۰۰۰ءء میں زید کے حق میں آیا ،اور عدالت نے زید کو مقدمہ کے خرچ کی بھرپائی آسیہ کے لڑکوں سے وصول کرنے کی اجازت دے دی، موسمِ گرما ۲۰۰۱ءء میں بکر نے زید سے ہاشم (جو بکر کا چھوٹا بھائی ہے) کے لیے ساڑھے تین ایکڑ میں سے تین ایکڑزمین کی، سات لاکھ چھپن ہزار روپے کے عوض خریداری طے کی، اور زمین کی پیمائش اور رجسٹری دستاویزات ہونے تک بیعانہ کی تقریباً نصف رقم زید کے حوالے کردی، اور موسمِ برسات کی فصل نکلنے تک زمین زید کے قبضہ میں چھوڑدی، ۲۰۰۲ءء میں بکر نے مذکورہ زمین کی پیمائش اور رجسٹری دستاویزات کے لیے زید کو مذکورہ زمین سے مرغی فارم (Poultry farm) ہٹانے اور قبضہ چھوڑنے کے لیے کہا ،زید نے زمین سے مرغی فارم کی عمارت اور بقیہ سازوسامان ہٹاکر، زمین کی پیمائش کرواکر، مذکورہ زمین بکر کے بھائی ہاشم کے نام دستاویزات بنواکر،قبضہ چھوڑدیا،اس طرح سے بکر نے تمام قانونی حقوق ہاشم کو زید سے دلوادِیے، اور زمین کی بقیہ رقم ایک لاکھ تینتالیس ہزار (۱،۴۳۰۰۰) روپے کا بینک کا چیک دیا، اور زید کو کہا کہ فی الحال ہاشم کے اکاوٴنٹ(Account) میں صرف ایک لاکھ روپے موجود ہیں،آپ ہمیں تینتالیس ہزار(۴۳۰۰۰)روپے بھجوادو، ہم ہاشم کے اکاوٴنٹ (Account)میں جمع کر دیں گے، آپ ایک دو گھنٹہ بعد بینک سے پورا پیسہ نکال لینا، اس طرح زید نے تینتالیس ہزار روپے ہاشم کے اکاوٴنٹ (Account)میں جمع کرنے کے لیے دیدئیے، بعد میں زید کو بینک (Bank) سے مذکورہ چیک(Check) کے ایک لاکھ تینتالیس ہزار (۱،۴۳۰۰۰) روپے موصول ہوئے، زید نے بکر سے ہاشم کے اکاوٴنٹ میں جمع کرنے کے لیے جو تینتالیس ہزار (۴۳۰۰۰) روپے دیئے تھے اس کی مانگ کی، تو بکر نے کہا کہ آپ اطمینان رکھیے، یہ آپ کی امانت ہے،ہم کبھی بھی آپ کو پہنچادیں گے،آپ کو ہمارے پاس آنے کی بھی نوبت نہیں آئے گی،لہٰذازید مطمئن ہوگیا، کچھ عرصہ بعد بکر کو مذکورہ زمین سرکار کی طرف سے این اے(N.A.) یعنی پلاٹ بناکر بیچنے کی اجازت مل گئی، جس کی بنا پر زمین کی صفائی یعنی زمین سے جھاڑیاں، کانٹے دار درخت وغیرہ کٹوانا ضروری ہوا، اور یہ عمل کرتے وقت پڑوسی نے باندھ (میر) کے اُوپر درخت کاٹنے کے معاملے کولے کر پولیس میں شکایت کردی ،اس معاملے کو رفع دفع کروانے کے لیے بکر نے زید سے تین ہزار روپئے اُدھار لیے اور معاملے کو دفع کردیا،اس موقع کا غلط فائدہ اُٹھاتے ہوئے آسیہ کے لڑکوں نے زید کے خلاف ہارے ہوئے مقدمے کو عدالت میں اپیل (Appeal)کی شکل دیدی، ۲۰۰۸ءء مئی کی ابتدا میں بکر کے بھائی ہاشم نے- جس کواین اے(N.A.) یعنی سرکار کی طرف سے پلاٹ بناکر فروخت کرنے کا اجازت نامہ ملا ہوا تھا- پورے پلاٹ (Plat)سمیر کو بائیس لاکھ روپئے کے عوض فروخت کردیئے، ادھر مذکورہ زمین کے پورے پلاٹ بکتے ہوئے دیکھ کر آسیہ کے لڑکوں نے ہاشم کو تنگ اور پریشان کرنا شروع کیا ،اور زمین پر ناجائز قبضہ جمانے کی دھمکی د ی، جس کی وجہ سے ہاشم نے آسیہ کے لڑکو ں کو تقریباً ڈھائی لاکھ روپئے دے کر، مذکورہ تمام زمینی تنازُع کو ختم کروایا، اب زید ہاشم سے اپنے چھیالیس ہزار روپے کا مطالبہ کرتا ہے، تو ہاشم روپئے دینے میں پس وپیش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے ڈھائی لاکھ روپئے آسیہ کے لڑکوں کو دینا پڑا، اب میں آپ کے روپئے کیوں کر دے سکتا ہوں، زید کہتا ہے کہ آپ کو تمام قانونی حقوق اختیارات حاصل تھے،اس کے باوجود آپ نے آسیہ کے لڑکوں کو روپے دیے، اس کے ذمہ دار آپ خودہیں،میں اپنی رقم کاآپ سے مطالبہ کرتا ہوں جو میرا حق ہے، اب ہاشم بیچ کی راہ کے طورپر زید کو پچیس ہزار روپے دینا چاہتا ہے۔
الجواب وباللہ التوفیق:
صورتِ مسئولہ میں زید اپنی پوری رقم ۴۶ /ہزار کا حق دار ہے، اور ہاشم پرواجب ہے کہ وہ پوری رقم زید کو ادا کردے، کیوں کہ جب زید نے اپنی ملکیت کی زمین پر ہاشم کا قبضہ دے دیا اورتمام دستاویز بنادِیے،تو زید کی ذمہ داری ختم ہوگئی، اور زید سودے کے وقت طے کی گئی پوری رقم کا حق دار ہوا، زید سے دو مختلف وقتوں میں جو۴۶/ہزار روپے بطور قرض لیے گئے، وہ ہاشم پر واجب الادا ہیں ،ہاشم نے آسیہ کے لڑکوں کے ساتھ اپنے جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے جو رقم اداکی ،اس میں زید کی واجب الادا کل یا بعض رقم کو منہا (وضع ) کرنا شرعاً صحیح نہیں ہے، کیوں کہ اس تنازُع اور مصالحت سے زید کا کوئی تعلق نہیں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿ورجلاً سلمًا لرجل﴾ ۔ (سورة الزمر : ۲۹)
ما في ” بدائع الصنائع “ : أي سالمًا خالصًا لا یشرکه فیه أحد ، فتسلیم المبیع إلی المشتري هو جعل المبیع سالمًا للمشتري ، أي خالصًا بحیث لا ینازعه فیه غیره ، وهذا یحصل بالتخلیة فکانت التخلیة تسلیمًا من البائع ، والتخلي قبضًا من المشتري ، وکذا هذا في تسلیم الثمن إلی البائع ؛ لأن التسلیم واجب۔ (۲۳۷/۷ ، کتاب البیوع ، فصل في حکم البیع)
ما في ” بدائع الصنائع “ : وأما تفسیر التسلیم والقبض ، فالتسلیم والقبض عندنا هو التخلیة ، والتخلي أن یخلي البائع بین المبیع وبین المشتري برفع الحائل بینهما علی وجه یتمکن المشتري من التصرف فیه ، فیجعل البائع مسلمًا للمبیع والمشتری قابضًا له ۔ (۲۳۶/۷ ، کتاب البیوع ، فصل في حکم المبیع)
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : والباحث في کتب الفقه یجد أن أسباب وجوب الدین عدیدة متنوعة غیر أنه یمکن حصرها في تسعة أسباب ، أحدها الالتزام بالمال ، سواء کان في عقد یتم بین طرفین کالبیع والسلم والقرض والإجارة ۔۔۔۔۔۔۔۔ ففي القرض مثلا یلتزم المقترض أن یرد للمقرض مبلغًا من النقود أو قدرًا من أموال مثلیة یکون قد اقترضها منه ، وثبتت دینًا في ذمته ۔ (۱۱۰/۲۱) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۲۵/۵ / ۱۴۲۹ھ
الجواب صحیح: عبد القیوم اشاعتی ۔۲۵/۵ / ۱۴۲۹ھ
