فکسڈ ڈپازٹ (Fixed diposit)کھاتہ میں رقم جمع کرنا !

(فتویٰ نمبر: ۶۴)

سوال:

اگر کسی شخص نے اپنی بیٹی کے نام پر بینک(Bank) میں پچاس ہزار روپے رکھے، اس طور پر کہ پانچ سال کے بعد وہ بینک (Bank) اس آدمی کو ڈبل رقم یعنی ایک لاکھ روپے دے گی، تو اس زائد رقم کا شادی میں خرچ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ نیز اس زائد رقم کو شامیانہ وغیرہ میں خرچ کیا جاسکتا ہے،یا پھر اس کا کوئی اور طریقہ ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

فکسڈڈپازٹ (Fixed diposit) کھاتے میں رقم جمع کرانا قطعاً ناجائز وحرام ہے، کیوں کہ اس میں رقم جمع کرانے کا مقصد سود کا حاصل کرنا ہوتا ہے، جس کی حرمت وممانعت منصوص علیہ ہے، اور بنصِ قطعی اس کا آخذ(لینے والا) مستحقِ لعنت ہے، لیکن اگر اس میں رقم جمع کرادی ہے، تو اصل جمع کردہ رقم کا تو وہ حق دار ہوگا، البتہ جوزائد رقم بطورِ سود ملے گی، اگراس کے مالک کا علم نہ ہو، تو بلانیتِ حصولِ ثواب فقرا وغربا پر اس کا صدقہ کرنا واجب ہے، کیوں کہ یہ مالِ حرام ہے، اور جب مالِ حرام کے مالک کا علم نہ ہو، تو وہ رقم واجب التصدق ہوتی ہے، لہٰذا اس کو شادی اور شامیانہ وغیرہ میں خرچ کرنا شرعاً درست نہیں۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿أَحَلَ اللّٰه الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ ۔ (سورة البقرة : ۲۷۵)

ما في ” مشکوة المصابیح “ : ” لعن رسول اللّٰه ﷺ اٰکل الربوا وموکله ، وکاتبه وشاهدیه ، وقال : هم سواء “ ۔ رواه مسلم ۔ (ص/۲۴۴ ، صحیح مسلم :۲۷/۲ ، کتاب البیوع)

ما في ” جمع الجوامع “ : قال النبي ﷺ : ” کل قرض جر منفعة فهو ربا “ ۔(۳۸۱/۵ ، رقم : ۱۵۸۲۰ ، کنز العمال : ۹۹/۶ ، رقم : ۱۵۵۱۲)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وفي الأشباه : کل قرض جر نفعًا حرام ۔ (در مختار) ۔(۳۹۵/۷ ، کتاب البیوع ، باب المرابحة)

ما في ” رد المحتار “ : الحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده علیهم ، وإلا فإن علم عین الحرام لا یحل له ویتصدق به بنیة صاحبه ۔

(۳۰۱/۷، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد ، مطلب فیمن ورث مالا حرامًا) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۴/۲۵ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔