ایک انعامی اسکیم (Scheme) کا شرعی حکم !

(فتویٰ نمبر: ۱۳۸)

سوال:

ایک استفتا پیشِ خدمت ہے، اس کا جواب واضح لفظوں میں عطا فرماکر مشکور فرمائیں!اگر یہ صورت جو تفصیل کے ساتھ ہم نے تحریر کیا ہے، حرام ہے،تو کونسی شرط، اور کس خرابی کی بنیاد پر حرا م ہے؟اور اگرہمیں اسی کاروبار کو کرناہے اور حلال طریقے سے کرنا ہے،تو ان اصولوں میں کس طرح تبدیلی کریں، جس سے یہ کاروبار حلال ہوجائے؟

فائدہ: اپنی زندگی میں ضروری اور روز مرہ استعمال ہونے والی اشیا ماہانہ قسط وار(Installment) آسانی سے حاصل کیجیے اور ساتھ ساتھ انعام کے بھی مستحق بنیں!

اصول: اس اسکیم (Scheme)میں ایک ہزار روپیہ کی کل ۳۰/ قسطیں(Installments) ہیں۔

خریدار کو ہر ماہ کی ۱۰ / تاریخ تک قسط(Installment) جمع کر کے قسط (Installment) کی رسید لے لینا ہوگا، جس کا اعتبار کیا جائے گا۔

قسط(Installment) ہماری آفس میں ،یا ہمارے سفیر کے پاس جمع کرنا ہوگا۔

ہر ماہ کل ۱۹/ حوصلہ افزا انعامات اور ایک مخصوص انعام رکھا گیا ہے، جس کی قسط(Installment) ہر ماہ کی ۱۰/ تاریخ تک جمع کرنا ضروری ہے ۔

جس خریدار نے درمیان میں قسط(Installment) جمع کرنا بند کردیا ہو، تو ان کو کم سے کم ۱۰/ قسطیں (Installments)جمع کرنا ہوں گی، تب ہی ان کو اس رقم کے برابر کا انعام دیا جائے گا۔

اس اسکیم (Scheme)کی ماہانہ میٹنگ (Monthly metting) میں ہر ممبر(Member) کو حاضر رہنا ضروری ہے، اور حاضر ممبران (Members)کے درمیان ان کے سامنے انعامات ظاہر کیے جائیں گے، جو معتبر مانا جائے گا۔

چیز پر لگنے والا ٹیکس (Tax) خریدار کے ذمہ رہے گا۔

اس اسکیم (Scheme) کاحتمی فیصلہ اسکیم(Scheme) ایجاد کرنے والوں کا رہے گا۔

اس اسکیم (Scheme)کے ختم ہونے پر جس ممبر (Member)کو مخصوص انعام ملا ہو، اس کے علاوہ تمام خریداروں کو ان کی پسند کا انعام (سات چیزوں میں سے)دیا جائے گا، اور اسکیم(Scheme) ایجاد کرنے والے جو انعام متعین کریں گے اسی میں سے پسند کرنا ہے۔

حوصلہ افزا انعامات:

ہر ماہ تخمیناً ۰۰۰, ۴۰/ (چالیس ہزار)کے کل ۱۹/ حوصلہ افزائی انعامات دِیے جائیں گے، وہ انعامات مندرجہٴ ذیل ہیں:

(۱)۳/ مکسر(Mixer)

(۲)۳/ سی ڈی پلیئر(C.D. Player)

(۳)۳/ مائیکرویو اوون (Microwave oven)

(۴)۳/ایئر کولر(Air Cooler)

(۵)ڈریسنگ ٹیبل(Dressing table)

(۶)۳/ ڈنر سیٹ(Dinner set)

(۷)۱/سونے کی چین(Gold chain)

(۸)۱/سونے کی انگوٹھی(Gold Ring)

(۹)۱/فریج(Refrigerator)

(۱۰)۱/موبائل فون (Mobile phone)

اُوپر ذکر کی گئیں تمام چیزوں کی مکمل کیفیت کمپنی کے نام پرچی کے ذریعہ اسکیم (Scheme)کے شروع میں بتلادیا جائے گا۔

اسکیم ختم ہو نے پر ممبران کو مندرجہٴ ذیل چیزوں میں سے کوئی بھی ایک چیز پسند کرنارہے گا:

(۱)کمپیوٹر(Computer)

(۲)فریج (Refrigerator)

(۳)واشنگ مشین(Washing machine)

(۴)ایرکنڈیشنر(A.C)

(۵)سونی ہینڈی کیم(Sony handy cam)

(۶)ڈیجیٹل کیمرہ(Digital camera)

(۷)ڈبل بیڈ(Double bed) اور سیٹی پلنگ

(۸)ڈریسنگ ٹیبل(Dressing table)

(۹)گودریج کباٹ(Godrej kabat)،

(۱۰)ایئر کولر (Air Cooler)

(۱۱)ٹی وی(T.V)

(۱۲)گرین فلڈاِنورٹر ( Green field inverter)

(۱۳)ڈش ٹی وی(Dish T.V.)

(۱۴)منر ل واٹر مشین(Minral water machine)

(۱۵)ڈی وی ڈی پلیئر (DVD Player)

ہرما ہ کے مخصوص مخصوص انعامات :

(۱)لیونا( T.F.R)

(۲)کمپیوٹرسیٹ(Computer set)

(۳)سی ڈی ڈیلکس بائک (CD Delux bike)

(۴)سو نے کی چین

(۵)لیپ ٹاپ(Laptop)

(۶)تین موبائل (Mobile)

(۷)ڈبل ڈور فریج(Double door refrigerator)

(۸)نینو کار(Nano Car)

الجواب وباللہ التوفیق:

آپ نے اپنے کاروبار کے سلسلے میں جو اصول تحریر فرمائے، ان میں سے مندرجہ ذیل اصول خلافِ شرع ہونے کی وجہ سے غلط ہیں، اور ان اصولوں پر مبنی کاروبار حرام ہے:

(۱) جو خریدار درمیان میں قسط جمع کرنا بند کرنا چاہے، تو اس کو کم از کم دس قسطیں جمع کرنا ضروری ہے، تب ہی اس کو اس کی جمع کردہ رقم کے برابر کا انعام دیا جائے گا۔

(۲) چیز پر لگنے والا ٹیکس(Tax) خریدا ر کے ذمہ رہے گا۔

آپ نے یہ دو اصول بطورِ شرط مقرر کیے، جب کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع میں شرط لگانے سے منع فرمایا: ”إن النبي ﷺ نہی عن بیع وشرط “۔ (نصب الرایة :۴۳/۴ ، کتاب البیوع ، ط : دارالإیمان سہارنفور ، مجمع الزوائد : ۱۰۴/۴ ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت)

اگر آپ اس کاروبار کو حلال طریقے پر کرنا چاہتے ہیں، تو اس کے اصول اس طور پر ترتیب دیجیے:

۱-اس میں کسی قسم کی ایسی شرط نہ ہو جو جھگڑے کا سبب بنے۔

۲-ہر ممبر کے لیے قرعہ اندازی میں نام نکل آنے کے بعد بھی، آخری قسط تک رقم جمع کرنا ضروری ہونا چاہیے، تاکہ تمام قسطوں کا مجموعہٴ ثمنِ متعین ومعلوم ہو سکے اور جہالتِ ثمن باقی نہ رہے۔(فتاویٰ محمودیہ: ۴۳۵/۱۶، ھدایہ: ۱۳/۳ )

۳-اگر کوئی ممبر کسی مہینے قسط جمع کرنے میں تاخیر کردے، تو اس سے کوئی زائد رقم طلب نہ کی جائے ۔

۴-کوئی ممبر درمیان میں قسط جمع کرنا بندکردے،چاہے دس قسط سے کم جمع کی ہو،تو اس کو اس کی رقم یا اس رقم کے برابر سامان دے دیا جائے۔فقط

واللہ أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۱۱/۱۳ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔