(فتویٰ نمبر: ۱۶)
سوال:
میرے خسر کے انتقال کے بعد میری ساس نے اپنا زیور بیچ کر ملکیت کو بڑھانے کے ارادے سے” یونٹ ٹرسٹ آف انڈیا“ (Unit trust of india)کی یونٹ چونسٹھ(64) اسکیم کے ماتحت کئی شیئرز (Shares) میری بیوی کے نام پر لیے تھے، یہ شیئرز(Shares) 1978 میں لیے تھے، جس کا ڈیویڈنڈ (Dividend) ہر سال مل رہا تھا، میری ساس کا انتقال 1986ء میں ہوگیا، ڈیویڈنڈ(Dividend)کم زیادہ مل رہا تھا، کبھی بارہ (12%)،تو کبھی 18/16/15اور 24/ فی صد تک، اور اس کے بعد کم ہوگیا،اور ایک مرتبہ آخر میں ملا بھی نہیں، پھر شیئرز(Shares) کی قیمت کم ہوگئی،16/ روپے سے12/10روپے ہوگئی، اور آخر میں کمپنی نے شیئرز(Shares) کوبونڈ (Bond)میں بدلنے کے لیے کہا، ہم نے بونڈ(Bond) نہیں لیے اور شیئرز (Shares)کے پیسے لے لیے، اب ہمارے پاس شیئرز (Shares) نہیں ہیں، اب جو ڈیویڈنڈ (Dividend)شیئرز کے پیسے لینے سے پہلے ملا وہ سب ہم نے جمع کروائے، ہر سال ڈیویڈنڈ (Dividend)ملتا رہے اس لیے ہم بینک اکاوٴنٹ (Bank account) میں شیئرز جمع کرتے رہے، نیز ہر سال اس کی زکوة دیتے رہے، اور بینک میں جمع رقم کا سود غریبوں کو دے دیا کرتے تھے۔
میری ساس کے انتقال کے بعد ہم اس طرح معاملہ کرتے رہے، اب ڈیویڈنڈ (Dividend)کے ان پیسوں کا حل کرنا ہے،ہم نے اس میں سے کچھ خرچ بھی نہیں کیے اور کرنا بھی نہیں ہے، لیکن ہمارے دو پوتے ہیں، ایک بی کوم( B-Com) امتحان میں الحمد للہ پاس ہوا،اس کی عمر ۲۲/ سال ہے، اور اس نے ایم سی ایم( MCM )پونہ کالج میں داخلہ لیا ہے،اور دوسرا پوتا12/ویں سائنس (Science) میں پاس ہواہے، اس کی عمر ۱۹/ سال ہے، اب وہ”رائچور ڈینٹل کالج“ (Raichur Dental College) میں جانے والا ہے،لہٰذا ہم ڈیویڈنڈ(Dividend)کی جمع کردہ رقم ان بچوں کی تعلیم کے لیے خرچ کرنا چاہتے ہیں،تو خرچ کرسکتے ہیں یا نہیں؟
نوٹ-:میری ساس کی ایک ہی لڑکی ہونے کی وجہ سے شیئرز (Shares)کے پیسے اس کو مل گئے ہیں،ان کا کوئی وارث نہیں ہے۔
الجواب وباللہ التوفیق:
۱-بعد از تحقیق یہ بات معلوم ہوئی کہ” یونٹ ٹرسٹ آف انڈیا“(Unit trust of india)شیئرزہولڈرس (Shares Holders)سے جمع کردہ سرمایہ (Capital) زیادہ تر سودی کاروبار میں لگاتا ہے، اور اس سے حاصل ہونے والے منافع کی ایک مخصوص مقدار اپنے شیئرز ہولڈرس(Shares Holders)یاکھاتہ داروں کو بنام” ڈیویڈنڈ “یا ”منافع“(Dividend)ادا کرتا ہے، اور سودی کاروبار اصالةً (براہِ راست) یا وکالةً ( بالواسطہ) بہر صورت حرام ہے۔
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے،وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کے کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایایہ سب لوگ گناہ میں برابر کے شریک ہیں۔(۱)
۲-اس لیے ڈیویڈنڈ (Dividend)کے نام سے شیئر ہولڈر (Share Holder) کو ملنے والی رقم حرام ہے، اب شیئر ہولڈر (Share holder)نے یہ رقم بینک(Bank) کے شیئر اکاوٴنٹ (Share Account) میں جمع کی تاکہ ہر سال اس پر ڈیویڈنڈ(Dividend) ملتا رہے، تو یہ حرام مال سے منافع حاصل کرنے کی صورت ہے، اور یہ بھی حرام اور واجب التصدق ہے۔(۲)
۳-جب شیئر ہولڈر (Share Holder) کے لیے یہ رقم حرام ٹھہری، تو اس پر اس کی زکوة بھی واجب نہیں ہوگی، کیوں کہ مالِ حرام پر زکوة واجب نہیں ہوتی ہے۔(۳)
۴-ڈیویڈنڈ (Dividend)کی اس رقم کا حکم یہ ہے کہ اس کے اصل مالک معلوم ہوں، تو انہیں واپس کی جائے، وہ نہ ہوں تو ورثا کو دے دیں،اور وہ بھی نہ ہوں، یا علم نہ ہو تو اصل مالک کی طرف سے غربا اور محتاجوں کو صدقہ کردیا جائے۔(۴)
اگر سوال میں مذکور دونوں پوتے غریب ومحتاج ہوں، توان کو یہ رقم دی جاسکتی ہے،اور وہ اسے اپنی ضرورتوں میں( جس میں تعلیمی فیس وغیرہ بھی داخل ہے) خرچ کرسکتے ہیں۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن جابر بن عبد اللّٰه – رضي اللّٰه عنه – قال : ” لعن رسول اللّٰه ﷺ آکل الربا وموکله ، وکاتبه وشاهدیه ، وقال : هم سواء “ ۔
(۲۷/۲، کتاب البیوع ، مشکوة : ص/۲۴۴)
(۲) ما في ” تبیین الحقائق “ : ولهما إن حصل بسبب خبیث وهو التصرف في ملک الغیر فیکون سبیله التصدق ۔ (۳۲۱/۶)
(۳) ما في ” رد المحتار“ : لو کان الخبیث نصابًا لا یلزمه الزکاة ؛ لأن الکل واجب التصدق علیه ، فلا یفید إیجاب التصدق ببعضه ۔ (۲۱۸/۳)
(۴) ما في ” رد المحتار “ : والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده علیهم ، وإلا فإن علم عین الحرام لا یحل له ، ویتصدق به بنیة صاحبه ، وإن کان مالاً مختلطًا مجتمعًا من الحرام ، ولا یعلم أربابه ولا شیئًا منه بعینه ، حل له حکمًا ، والأحسن دیانة التنزه عنه۔
(۳۰۱/۷ ، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد ، مطلب فیمن ورث مالاً حرامًا ، البحر الرائق : ۳۶۹/۸)
(فتاویٰ قاضی:ص/۱۱۰،فتاویٰ محمودیه :۴۴۶/۱۸) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔ ۱۴۲۹/۱/۲ھ
