تھرڈ پارٹی انشورنس (Third party insurance)یعنی ذمہ داری کا بیمہ اور اس کا شرعی حکم!

( فتویٰ نمبر: ۷۴)

سوال:

ایک گاڑی کو ڈرائیور کی غلطی کی وجہ سے حادثہ پیش آگیا، جس میں بعض افراد زخمی ہوئے اور بعض ہلاک ہوئے، زخمیوں اور مہلوکین کے ورثا نے گاڑی کے مالک وڈرائیور کے خلاف عدالت میں ہرجانے کا مقدمہ دائر کردیا، جس میں زخمیوں نے اپنے زخموں کی نوعیت، علاج کا خرچ اور علاج کے دنوں میں کوئی کام نہ کرسکنے کا معاوضہ طلب کیا،اور مہلوکین کے ورثا نے مہلوکین کی آمدنی، ورثا کو ان کے نہ ہونے کی وجہ سے ہونے والی ذہنی و اقتصادی پریشانیوں کا تذکرہ کیا، اس مقدمہ کے دائر کرنے میں خالص شرعی اصطلاحات یعنی ”دیت“ ”جنایت“ وغیرہ کے الفاظ استعمال نہیں کیے گئے ہیں، بلکہ اس کے ہم معنی یا قریب المعنی الفاظ مثلاً ”نقصان کی بھرپائی“ ”ہرجانہ“ اور ”امداد “ وغیرہ استعمال کیے گئے ہیں۔

آگے معاملہ یہ پیش آتا ہے کہ اس گاڑی کا بیمہ کرایا گیا ہے،اوریہ بیمہ تھرڈ پارٹی انشورنس(Third Party Incurance) یعنی ”ذمہ داریوں کا بیمہ“ کہلاتا ہے،جس کا مطلب سادہ الفاظ میں یہ ہوتا ہے کہ گاڑی کا ڈرائیور اس بات پر بیمہ کراتا ہے کہ گاڑی چلاتے وقت اگر اس سے کوئی ایسا حادثہ پیش آجائے، جس کی وجہ سے اسے قانوناً جرمانہ کی ادائیگی کرنا پڑے (جو عامةً اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ کوئی ڈرائیور اسے بآسانی ادا نہیں کرسکتا ہے)،تو اس جرمانہ کی ادائیگی بیمہ کمپنی (Insurance company)کرے گی(اس کی وضاحت ”جدید فقہی مسائل: ۱۱۸/۴“ پر ”حادثات کا انشورنش“ کے عنوان سے بھی موجود ہے ،اور غالباً یہ بیمہ کی ان قسموں میں سے ہے جن کا ہونا گاڑی چلانے کے لیے ضروری ہے) اب دریافت طلب اُمور یہ ہیں کہ :

 (۱)زخمیوں اور مہلوکین کے ورثا کے لیے ایسی رقم کے حصول کے لیے کوشش کرنا کیسا ہے؟

(۲)اگر حاصل کرچکے ہوں تو اس کا مصرف کیا ہوگا؟

الجواب وباللہ التوفیق:

اول تو یہ بات واضح ہو کہ تھرڈ پارٹی انشورنش (Third Party Incurance) یعنی ذمہ داری کا بیمہ ، اس میں غرر، خطر، قمار، اور سود بھی ہے، وہ اس طرح کہ حادثہ کی صورت میں اس مالی ذمہ داری کا انشورر (Insurer) پر عائد ہونا ایک امرِ خطر ہے، جس کا یہ بھی احتمال ہے کہ کبھی ہوجائے اور یہ بھی احتما ل ہے کہ نہ ہو، غرضیکہ دیگر اور بہت سارے احتمالات ہیں، اور جہاں احتمالاتِ متعددہ موجود ہوں، چاہے وہ اپنی غلطی سے ہوں یا دوسرے کی غلطی سے، ان تما م صورتوں میں خطر موجود ہے۔(۱)

اسی طرح قمار بھی ہے کہ قسط وار پریمیم (Installment Premium) کی صورت میں اپنی طرف سے تو ادائیگی متیقن ہے، لیکن بیمہ کمپنی (Insurance Company) یعنی انشورڈ (Insured ) کی طرف سے ادائیگی موہوم اور معلق علی الخطر ہے، اورکسی معاملے میں نفع ونقصان کو کسی غیر معین، غیر معلوم اور مستور الحال چیز پر معلق رکھنے ہی کا نام قمار ہے، اور قمار کی حرمت نصِّ قطعی سے ثابت ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:”اے ایمان والو! شراب اور جُوا اور بت اور پانسے تو بس نری گندی باتیں ہیں، شیطان کے کام، سو اس سے بچے رہو تاکہ فلاح پاوٴ“۔(۲)

نیز اس میں سود بھی ہے، وہ اس طرح کہ جب بیمہ کمپنی (Insurance Company) کی طرف سے ادائیگی ہوگی، تو وہ پریمیم (قسطوں) کے معاوضے میں ہوگی، اور پریمیم کم ہے اور ادائیگی اس سے کہیں زیادہ ہے، لہٰذا جمہور علما کے قول کے مطابق ذمہ داری کا بیمہ (Third Party Incurance) شرعاً ناجائز و حرام ہے۔(۳)

لیکن چوں کہ موجودہ دور میں یہ قانون ہے کہ آپ تھرڈ پارٹی انشورنس (Third party insurance)کے بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلاسکتے، لہٰذا ضرورةً تھرڈ پارٹی انشورنس (Third party insurance)کرانے کی گنجائش ہے، البتہ اگر کسی کو تھرڈ پارٹی انشورنس(Third party insurance) کی وجہ سے معاوضہ ملے،تو اس کو صرف اتنا معاوضہ استعمال کرنا جائز ہے جتنا اس نے پریمیم (Premiun)ادا کیا، زائد رقم کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی(۴)، بلکہ اس زائد رقم کا بلانیتِ ثواب غربا وفقرا پر صدقہ کردینا واجب ہے۔(۵)

زخمیوں اور مہلوکین کے ورثا کا یہ حق ضرور ہے کہ انہیں اَرش(Blood Money) یا دیت کی رقم خاطی (Mistaken)کی طرف سے موصول ہو، لیکن انشورنس کرانے کی صورت میں چوں کہ یہ رقم خاطی (Mistaken) ادا نہیں کرتا، بلکہ اس کی طرف سے انشورنس کمپنی (Insurance Company)ادا کرتی ہے ، اور یہ رقم اس کی اصل رقم(جو اس نے بصورتِ پریمیم (Premium) ادا کی تھی) کے ساتھ اضافہ یعنی سود پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے اتنی رقم جو خاطی (Mistaken)نے انشورنس کمپنی میں جمع کی تھی اس کا استعمال حلال ہوگا، مگر جو رقم اس سے زائد وصول ہوئی، اس کا فقرا وغربا پر صدقہ کردینا واجب ہوگا، اس لیے کہ اگر یہی رقم جو حلال اور حرام دونوں پرمشتمل ہے، انشورنس نہ کرنے کی صورت میں کمپنی ادا نہ کرتی،بلکہ خود خاطی (Mistaken)بطورِ ضمان ادا کرتا، تب بھی صاحبِ حق (زخمیوں اور مہلوکین کے ورثا) کو صرف اتنی ہی رقم کا استعمال حلال ہوتا جو خاطی کی ملک تھی، اور حرام کا تصدق لازم ہوتا، یہی حکم انشورنس کمپنی (Insurance company)کے ادا کرنے کی صورت میں بھی ہوگا، کیوں کہ کمپنی خاطی کی نیابت کررہی ہے ،اور نائب کا فعل اصل کا فعل شمار ہوتا ہے(۶)، اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قبضوں کے بدلنے سے حرمت ختم نہیں ہوتی، بلکہ انتقالِ قبضہ کے ساتھ ساتھ حرمت بھی منتقل ہوتی ہے۔(۷)

اس لیے انشورنس کمپنی (Insurance company)جو معاوضہ دے، اس میں سے صرف اتنی ہی رقم استعمال کرے جو خاطی نے انشورنس کمپنی(Insurance company) میں جمع کی تھی اور زائد رقم کو صدقہ کردے، البتہ اگر صاحبِ حقوق ضرورت مند ہوں، یعنی فقرا وغربا میں داخل ہیں، تو انہیں اس زائد رقم میں سے بقدرِ ضرورت استعمال کی اجازت ہوگی، اور باقی رقم کا تصدق لازم ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن أبي هریرة – رضي اللّٰه عنه – قال : ” نهی رسول اللّٰه ﷺ عن بیع الحصاة وعن بیع الغرر “ ۔

(۱/۲ ، کتاب البیوع ، سنن أبي داود : ص/۴۷۹ ، کتاب البیوع ، باب في بیع الغرر ، سنن ابن ماجة : ص/۱۵۸، کتاب التجارات)

ما في ” معجم لغة الفقهاء “ : الغرر بفتح الغین والراء مصدر غر یغر – الجهالة۔ (ص/۳۳)

ما في ” المبسوط للسرخسي “ : الغرر ما یکون مستور العاقبة ۔ (۱۹۴/۱۲ ، ط: دار المعرفة بیروت)

ما في ” بدائع الصنائع “ : الغرر هو الخطر الذي استوی فیه طرف الوجود والعدم بمنزلة الشک ۔ (۱۶۳/۵)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یا أیها الذین اٰمنوا إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجسٌ من عمل الشیطٰن فاجتنبوه لعلکم تفلحون﴾ ۔ (سورة المائدة : ۹۰)

ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : ولا خلاف بین أهل العلم في تحریم القمار ، وأن المخاطرة من القمار ، قال ابن عباس : إن المخاطرة قمار ، وإن أهل الجاهلیة کانوا یخاطرون علی المال والزوجة ، وقد کان ذلک مباحًا إلی أن ورد تحریمه ۔ (۳۹۸/۱)

ما في ” معجم لغة الفقهاء “ : القمار تعلیق الملک علی الخطر ، والمال من الجانبین۔ (ص/۳۶۹)

(۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وأحل اللّٰه البیع وحرم الربوا﴾ ۔ (سورة البقرة : ۲۷۵)

ما في ” معجم لغة الفقهاء “ : الربوا کل زیادة مشروطة في العقد خالیة عن عوض مشروع ۔ (ص/۲۱۸)

(۴) ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : قوله تعالی : ﴿فمن اضطر في مخمصة غیر متجانف﴾۔ فإن الاضطرار هو الضرر الذي یصیب الإنسان من جوع أو غیره، ولا یمکنه الامتناع ، والمعنی ههنا من إصابة ضر الجوع ، وهذا یدل علی إباحة ذلک عند الخوف علی نفسه ، أو علی بعض أعضائه ، وقد بین ذلک في قوله تعالی : ﴿في مخمصة﴾ ۔ قال ابن عباس والسدي وقتادة : ” المخمصة المجاعة “ ۔ فأباح اللّٰه عند الضرورة أکل جمیع ما نص علی تحریمه في الآیة ، ولم یمنع ما عرض ۔ (۳۹۲/۲)

(التفسیر الکبیر للرازي :۲۸۹/۴ ،۲۹۰)

ما في ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم الحنفي “ : ” الضرورات تبیح المحظورات “۔ ومن ثم جاز أکل المیتة عند المخمصة وإساغة اللقمة بالخمر ۔ (۳۰۷/۱)

ما في ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : ما أبیح للضرورة یتقدر بقدرها۔ (۳۸/۱ ، المادة :۲۲)

(۵) ما في ” رد المحتار “ : والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده علیهم، وإلا فإن علم عین الحرام لا یحل له، ویتصدق به بنیة صاحبه ، وإن کان مالاً مختلطًا مجتمعًا من الحرام ، ولا یعلم أربابه ولا شیئًا منه بعینه حل له حکمًا، والأحسن دیانة التنزه عنه ۔

(۳۰۱/۷ ، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد، مطلب فیمن ورث مالاًحرامًا ، الفتاوی الهندیة : ۳۴۸/۵ ، الباب الخامس في الکسب)

(رد المحتار : ۵۵۳/۹ ، کتاب الحظر والإباحة)

(۶) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : الأصل أن المرور في طریق المسلمین مباح بشرط السلامة فیما یمکن الاحتراز عنه ، ضمن الراکب في طریق العامة ما وطئت دابته ، وما أصابت بیدها أو رجلها أو رأسها ، أو کدمت بفمها، أو خبطت بیدها ، أو صدمت ۔ (در مختار) ۔(۲۷۲/۱۰ ، کتاب الدیات ، باب جنایة البهیمة والجنایة علیها)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وضمن عاقلة کل فارس أو راجل دیة الآخر إن اصطدما وماتا منه، فوقعا علی القفا ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : (إن اصطدما) ۔۔۔۔۔ أي تضاربا بالجسد ۔” در منتقی “۔ وهذا لیس علی إطلاقه ، بل محمول علی ما إذا تقابلا ، لما في الاختیار ، سار رجل علی دابة فجاء راکب من خلفه فصدمه فعطب الموٴخر لا ضمان علی المقدم ، وإن عطب المقدم فالضمان علی الموٴخر، وکذا في سفینتین ۔

(۲۷۶/۱۰ ، باب جنایة البهیمة والجنایة علیها، الهدایة مع الدرایة :۶۱۰/۴۶۱۲، باب جنایة البهیمة والجنایة علیها)

(۷) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وفي الأشباه : الحرمة تنتقل مع العلم إلا للوارث إلا إذا علم ربه۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : (وفي الأشباه) قال الشیخ عبد الوهاب الشعراني في کتاب المنن: وما نقل عن بعض الحنفیة من أن الحرام لا یتعدي إلی ذمتین ، فسألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول علی ما إذا لم یعلم بذلک ، أما من رأی المکاس یأخذ من أحد شیئًا من المکس ثم یعطیه آخر، ثم یأخذه من ذلک الآخر فهو حرام ۔ اه ۔ (۹/۵۵۳ ، کتاب الحظر والإباحة) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۵/۸ھ

 

اوپر تک سکرول کریں۔