مولانا ابو الکلام آزاد ایجوکیشنل قرض اسکیم(Educational Loan Scheme)سے فائدہ اٹھانا!

(فتویٰ نمبر: ۲۴۷)

سوال:

حکومتِ ہند نے اقلیتوں کی فلاح وتعلیم کے لیے ”مولانا ابو الکلام آزاد ایجوکیشنل قرض اسکیم“ (Maulana Abul Kalam Azad Educational Loan Scheme)شروع کی ہے، جس میں حکومت کی جانب سے طالبِ علم کو اس کے کالج کی فیس (College Fee)بھرنے کے لیے قرض دیاجاتا ہے،اور اس قرض کوتعلیم مکمل ہونے کے بعد لوٹایا جاتا ہے،جس پر سود بھی لگتا ہے، تو اس طرح کا قرض لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

جس طرح سود کا لینا حرام ہے اسی طرح شریعت نے سودی قرض لینے اور سود ادا کرنے کو بھی حرام قرار دیا ہے؛ اس لیے بنیادی طور پر تعلیم کے لیے سودی قرض حاصل کرنا جائز نہیں۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن جابر – رضي اللّٰه عنه – قال : ” لعن رسول اللّٰه ﷺ آکل الربوا وموکله ، وکاتبه وشاهدیه ، وقال : هم سواء “ ۔ (۲۷/۲)

(نئے مسائل اور فقه اکیڈمی کے فیصلے: ص ۱۶۷) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۷/۲۰ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔