(فتویٰ نمبر: ۱۸۰)
سوال:
۱– خالد نے حامد کو اپنا مکان کچھ مدت کے لیے دیا، اور اس سے کچھ رقم مثلاً پچاس ہزار(۵۰۰۰۰) روپے لیے، اور کہا جب مکان واپس کروگے رقم واپس مل جائے گی،اور اس مدت کے لیے مکان کا کوئی کرایہ نہیں ہے، کیا یہ صورت صحیح ہے ؟اگر جواز کی کوئی صورت ہو تو ضرور بتلائیں !
الجواب وباللہ التوفیق:
۱– یہ صورت رہن کی ہے اور رہن میں شئ مرہون (مکان) سے انتفاع درست نہیں(۱) ، کیوں کہ حامد کا مکان کا کوئی کرایہ ادا نہ کرنا یہ انتفاع بالقرض ہے جو سود ہے، اور سود حرام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ہر وہ قرض جو نفع کو کھینچ لائے وہ سود ہے۔” کل قرض جر منفعة فهو رباً “۔(۲)
اب جواز کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ عقدِ رہن کو ختم کرکے خالد حامد سے مقدارِ قرض قیمت کے عوض یہ مکان بیچ دے، پھر کسی دوسری مجلس میں خالد حامد سے یہ درخواست کرے کہ میں جب آپ کی یہ رقم واپس کردوں،توآپ میرا یہ مکان مجھے واپس کردیں، اور حامد خالد کی درخواست کی رعایت کرتے ہوئے اس سے یہ وعدہ کرلیں اور اس وعدے کو پورا کرے، اس طرح کرنے سے جہاں خالد کی ضرورتِ قرض پوری ہوگی،وہیں حامد کے لیے بلا کراہت اس مکان سے انتفاع بھی جائز ہوگا۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” النتف في الفتاوی “ : ولا یجوز في الرهن تسعة أشیاء : الرهن لایباع، ولایوهب، ولایتصدق به، ولایرهن، ولایودع، ولایعار، ولایوٴاجر، ولایستعمل، ولاینتفع به بوجه من الوجوه۔ (ص/۳۷۰)
(۲) (السنن الکبری للبیهقي : ۵۷۳/۵)
(۳) ما في ” فتاوی قاضي خان علی هامش الفتاوی الهندیة “ : وإن ذکر البیع من غیر شرط ، ثم ذکر الشرط علی وجه المواعدة جاز البیع ، ویلزمه الوفاء بالوعد؛ لأن المواعدة قد تکون لازمة ، فتجعل لازمة لحاجة الناس ۔ (۱۶۵/۲، الدر المختار مع الشامیة : ۵۴۷/۷)
(فتاویٰ محمودیه:۲۵۵/۱۶) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۲/۹ھ
