بندھک چھڑانے والے کا زمین سے فائدہ اٹھانا!

(فتویٰ نمبر: ۴۴)

سوال:

۱-ہمارے سگے ساڑھو کی زمین ایک صاحب نے بندھک لے رکھا ہے، اس کی حیثیت ویسی نہیں ہے کہ چھڑا سکے، اب ساس کا کہنا ہے کہ آپ اس زمین کو چھڑالو، فصل لگالو،اور فصل ہونے کے بعد نصف حصہ لے لینا، تو یہ معاملہ شرعاًکیسا ہے ؟

۲-ہماری ہمشیرہ بیوہ ہے، اس نے کچھ زمین بندھک رکھا ہے ، میرے پاس کچھ سودی رقم ہے، اس رقم سے اس بیوہ کی زمین چھڑاکر اس کو دینا چاہتا ہوں، اس میں میرا کوئی شریک نہیں ہے، تو شرعاًیہ معاملہ کیسا ہے ؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱– اگر اللہ پاک نے آپ کو وسعت دی اور آپ اپنے ساڑھو کی زمین مرتہن کا قرض ادا کرکے چھڑا لیتے ہیں، تو یہ صلہ رحمی ہوگی، جس کی شریعت نے ہمیں تعلیم دی ہے(۱)، مگر اپنے اس قرض کے بدلے اس زمین میں فصل لگا کر آدھا حصہ لینا یہ قرض پرنفع حاصل کرنا ہے ،جو شرعاً ممنوع ہے۔(۲)

۲– اگر آپ کی ہمشیرہ بہت غریب ومجبور ہو، صاحبِ نصاب نہ ہو، تو اس کے ہاتھ میں سودی رقم بلانیتِ ثواب دے کر اسے مالک وقابض بنادیا جائے، اور پھر اس سے کہا جائے کہ تم اس رقم سے مرتہن کا قرض ادا کرکے بندھک رکھی ہوئی زمین چھڑالو، براہِ راست آپ کا اپنی سودی رقم مرتہن کو دے کر بندھک رکھی ہوئی زمین کو چھڑانا صحیح نہیں ہے۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” ریاض الصالحین “ : عن أبي یوسف عبد اللّٰه بن سلام قال : سمعت رسول اللّٰه ﷺ یقول: ” یا أیها الناس ! أفشوا السلام، وأطعموا الطعام، وصلوا الأرحام، وصلوا والناس نیام، تدخلوا الجنة بسلام“۔ (ص/۱۵۲، کتاب السلام، باب فضل السلام والأمر بإفشائه، ط: دار القاسم الریاض)

ما في ” المعجم الأوسط للطبراني “ : عن عمرو بن سهل قال: سمعت رسول اللّٰه ﷺ یقول: ” صلة القرابة مثراة في المال، محبة في الأهل، منسأة في الأجل “ ۔

(۱۱/۶، رقم : ۷۸۱۰ ، ط : بیروت)

(۲) ما في ” جمع الجوامع “ : ” کل قرضٍ جر منفعة فهو ربًا “ ۔ (الحارث بن علي رضي اللّٰه عنه) ۔(۳۸۱/۵ ، قسم الأقوال ، حرف الکاف ، رقم : ۱۵۸۲۰)

(کنز العمال : ۹۹/۶ ، رقم :۱۵۵۱۲، فصل في کتاب لواحق الدین ، ط : بیروت)

(۳) ما في ” رد المحتار “ : الحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده علیهم، وإلا فإن علم عین الحرام لا یحل له ، ویتصدق به بنیة صاحبه ۔ اه ۔

(۳۰۱/۷، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد ، مطلب فیمن ورث مالاً حرامًا ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۳/۱۶ھ

 

اوپر تک سکرول کریں۔