(فتویٰ نمبر: ۱۷۴)
سوال:
میں نے ایک آدمی کے پاس سے ۲۰/ ہزار روپے دے کر،گروی کے طور پر کھیت لیا، اور کہا کہ جب آپ مجھے ۲۰ / ہزار روپے دیں گے، تب میں آپ کو یہ کھیت دوں گا۔
نوٹ-: میں اس کھیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے سالانہ ۵۰۰/ روپیہ (کھیت کا کرایہ) دے رہا ہوں، تو کیا اس شرط کے ساتھ کھیت سے فائدہ اٹھانا میرے لیے جائز ہوسکتا ہے یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
آپ کا اس طرح کا معاملہ شرعاً صحیح نہیں ہے، کیوں کہ وقتِ واحد میں ایک ہی چیز مرہون (گروی رکھی ہوئی) بھی ہو اور وہی مستأجر (Hired)بھی ہو، صحیح نہیں ہے؛ اس لیے کہ عقدِ اجارہ اور رہن دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوتے، اگر عقدِ اجارہ کیا گیا تو معاملہٴ رہن باطل ہوگا، اور عقدِ اجارہ اس وقت صحیح ہوگا جب کہ اس کے لیے از سرِ نو قبضہ متحقق ہو۔(۱)
آپ کا یہ سمجھنا کہ میں مرہون (گروی رکھی ہوئی) کا سالانہ پانچ سو روپیہ کرایہ دے کر اس سے انتفاع کررہاہوں؛ اس لیے یہ میرے لیے جائز ہے،محض شیطانی دھوکہ ہے(۲)،کیوں کہ آج کے اس دور میں پورے ایک کھیت کا سال بھر کاکرایہ صرف پانچ سو روپیہ ہو، خلافِ عرف ورواج ہے، راہن نے محض مجبوری کی وجہ سے پانچ سو روپے کرایہ پر رضامندی ظاہر کی، اگر وہ آپ کا مقروض نہ ہوتا تو کسی بھی صورت میں پانچ سوروپے پرراضی نہ ہوتا؛ اس لیے آپ کا یہ معاملہ قرض سے انتفاع (فائدہ اٹھانا) ہی ہے، جو شرعاً سود ہے، اور سود نصوصِ قطعیہ سے حرام ہے۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” رد المحتار “ : أما الإجارة فالمستأجر إن کان هو الراهن فهي باطل، وإن کان هو المرتهن وجدد القبض للإجارة بطل الرهن ۔ (۱۳۰/۱۰)
ما في ” بدائع الصنائع “ : وکذلک لو آجره من المرتهن صحت الإجارة وبطل الرهن إذا جدد المرتهن القبض للإجارة ، أما صحة الإجارة وبطلان الرهن فلما ذکرنا ، وأما لحاجة إلی تجدید القبض فلأن القبض دون قبض الإجارة فلا ینوب عنه ۔ (۱۸۲/۸، کتاب الرهن)
(۲) ما في ” النتف في الفتاوی “ : ولا یجوز في الرهن تسعة أشیاء : الرهن لایباع، ولا یوهب ، ولا یتصدق به ، ولا یرهن ، ولا یودع ، ولا یعار ، ولا یوٴاجر، ولا یستعمل ، ولا ینتفع به بوجه من الوجوه ۔ (ص/۳۷۰ ، کتاب الرهن)
(۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یأیها الذین اٰمنوا لا تأکلوا الربوآ أضعافاً مضاعفةً﴾۔(سورة آل عمران : ۱۳۰)
ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن جابر – رضي اللّه عنه – قال : ” لعن رسول اللّٰه ﷺ آکل الربا وموکله، وکاتبه وشاهدیه، وقال : هم سواء “ ۔ (۲۷/۲ ، کتاب البیوع)
ما في ” کنز العمال “ : قال النبي ﷺ : ” کل قرض جر منفعة فهو ربًا “ ۔ (۹۹/۶، رقم : ۱۵۵۱۲)
(الدر المختار مع الشامیة : ۳۹۵/۷، کتاب البیوع، قواعد الفقه :ص/۱۰۲، القاعدة : ۲۳۰) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۲/۴ھ
