(فتویٰ نمبر: ۷۵)
سوال:
مدرسے کے اوقاتِ متعینہ میں مدرسین کا اپنا کوئی ذاتی کام کرنا،یاموبائل پر لمبی لمبی گفتگو کرنا،یامہمانوں کے ساتھ ایسی لمبی ملاقات کرنا وغیرہ، جس سے تعلیمی حرج ہو، کیا یہ سب اعمال شرعاًدرست ہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
اسلام نے ہر صاحبِ حق کو اس کا حق دینے کا نہ صرف حکم دیا، بلکہ حقوق تلفی اور اس میں کوتاہی پر سخت وعید بیان فرمائی،ارشادِ ربانی ہے: ﴿وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ اَلَّذِیْنَ إِذَا اکْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ﴾ ۔”خرابی ہے گھٹانے والوں کی ،وہ لوگ کہ جب ماپ کرلیں لوگوں سے ،تو پورا بھر لیں“۔ (سورة التطفیف، الآیة :۲،۱)
اسی طرح فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ” فَأَعْطِ کُلَّ ذِيْ حَقّ حَقَّه “کہ ہر صاحبِ حق کو اس کا حق دینا واجب ہے۔ (صحیح البخاري :۲۶۴/۱)
حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص کو جس نے نماز میں رکوع وسجود کوجلدی جلدی ادا کیا فرمایا : ” لَقَدْ طَفَّفْتَ“تونے اللہ کے حق میں تطفیف کردی۔
فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قول کو نقل کرکے حضرت امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا : ” لِکُلِّ شَيْءٍ وَفَاءٌ وَتَطْفِیْفٌ“ یعنی پورا حق دینا یا کم کرنا ہر چیز میں ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ کے اس قول کو بنیاد بناکر حضرت مولانا مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”اسی طرح حقوق العباد میں جو شخص مقررہ حق سے کم کرتاہے وہ بھی تطفیف کے حکم میں ہے، مزدور، ملازم نے جتنے وقت کی خدمت کا معا ہدہ کیا ہے اس میں سے وقت چرانا،کم کرنا بھی اس میں داخل ہے، وقت کے اندر جس طرح محنت سے کام کرنے کا عرف میں معمول ہے اس میں سستی کرنا بھی تطفیف ہے،اس میں عام لوگوں میں یہاں تک کہ اہلِ علم میں بھی غفلت پائی جاتی ہے،اپنی ملازمت کے فرائض میں کمی کرنے کو کوئی گناہ ہی نہیں سمجھتا، أعاذنا اللہ منه “۔ (معا رف القرآن:۶۹۴/۸)
مدرسین اور تمام ملازمین کا معاملہ مدرسہ یا کسی بھی ادارے کے ساتھ عقدِاجارہ ہے(۱)،اوراجارہ دو صورتوں سے خالی نہیں،یاتو وقتِ معلوم پر واقع ہوتاہے،یاعملِ معلوم پر(۲)، مدرسین چوں کہ وقت کے پابندہوتے ہیں؛ اس لیے وہ اجیرِ خاص ہیں، اور اجیرِ خاص کے لیے وقتِ متعین میں مفوضہ کام کے علاوہ دوسرے کام میں مشغول ہونا درست نہیں،لہٰذاہر ایسا کام جو مدرسین کے فرائضِ منصبی میں کسی قسم کی کوتاہی اور حرج کاباعث بنے وہ شرعا ناجائز ہوگا۔(۳)
علامہ شامی رحمہ اللہ نے اجیرِ خاص کے لیے وقتِ متعین میں نوافل پڑھنے کی عدمِ اجازت پر علما کا اتفاق نقل فرمایا ہے، چہ جائے کہ سوال میں مذکور چیزیں جائز ہوں۔ (۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱)(امدادالفتاویٰ:۳۵۶/۶،فتاویٰ مظاهرِعلوم:ص/۱۷۳،فتاویٰ حبیبیه:۱۶۶/۲)
(فتاویٰ احیاء العلوم:ص/۳۲۰، کتاب الفتاویٰ: ۵/ ۴۰۲،فتاویٰ معاصره:ص/۱۶۴)
(۲) ما في ” النتف في الفتاوی للسغدي “ : الإجارة لا تخلوا من وجهین : إما أن تقع علی وقت معلوم ، أو علی عمل معلوم ۔ (ص/۳۳۸)
(۳) ما في ” أعلام الموقعین “ : وسیلة المقصود تابعة للمقصود ، وکلاهما مقصود۔(۱۷۵/۳)
ما في ” المقاصد الشرعیة للخادمي “ : إن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذاکان المقصدمحرما، وتکون واجبة إذا کان المقصد واجبًا ۔ (ص/۴۶)
ما في ” مسلم الثبوت للشیخ محب اللّٰه البهاري “ : ألا تری تحصیل أسباب الواجب واجب ، وأسباب الحرام حرام بالإجماع ۔ (ص/۳۸)
(۴) (رد المحتار :۹۶/۹ ، کتاب الإجارة ، باب ضمان الأجیر ، الفتاوی الهندیة : ۴۱۶/۴)
(فتاویٰ محمودیه:۵۷۳/۱۶) فقط
والله أ علم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۴/۲۶ھ
