پٹاخے کی فرمیں قائم کرنا اور ان میں ملازمت کرنا!

(فتویٰ نمبر: ۴۶)

سوال:

ہمارے گاوٴں میں پٹاخا (ایٹم بم ، ٹوٹا، پھل جھڑی وغیرہ) بنانے کی بڑی بڑی فرمیں ہیں، اوروہ مسلمانوں کی ملکیت میں ہیں، تو پٹاخا بنانا، اس فرم میں کام کرنا، یا اس کو خام مال فراہم کرنا شرعاًکیسا ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

پٹاخے بنانا، بنوانا، اس کی فرم میں کام کرنا اور اس کی تجارت کرنا، نیز اس فرم کو خام مال فراہم کرنا شرعاً ناجائز ومکروہِ تحریمی ہے، کیوں کہ آتش بازی گناہ کا کام ہے، اس کی تجارت کرنا اور اس میں مزدوری کرنا گناہ کے کاموں میں مدد کرنا ہے، اور ارشادِ ربانی ہے:﴿وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾۔”گناہ او ر زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد مت کرو۔“ (سورة المائدة :۲)

نیز اس میں اپنے مال کو ضائع کرنا ہے جو یقیناً فضول خرچی ہے، اور قرآنِ مجید میں فضول خرچی کرنے والوں کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْا إِخْوَانَ الشَیٰطِیْنِ وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّه کَفُوْرًا﴾۔ ”بے موقع اُڑانے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑ ا ناشکر ا ہے ۔“ (سورة بني إسرائیل : ۲۷) 

الحجة علی ماقلنا:

(۱) مافي ” القرآن الکریم“: ﴿ وأحل الله البیع وحرم الربوا﴾ (سورة البقرة: ۲۷۵)

مافي ” الصحیح لمسلم“: عن جابر قال: ”لعن رسول الله صلی الله علیه وسلم اٰکل الربا وموکله وکاتبه وشاهدیه وقال هم سواء“۔

(۲۷/۲، کتاب المساقاة والمزارعة، باب الربا- مشکاة المصابیح:ص/۲۴۴)

(۲) مافي” القرآن الکریم“:﴿ فمن اضطر في مخمصة غیر متجانف لإثم﴾(سورة المائدة:۳)

مافي” البحر الرائق“:و في ” القنیة“ من الکراهیة: یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح“۔ (۲۱۱/۶،کتاب البیع ، باب الربا، دار الکتب العلمیة بیروت)

(الأشباه والنظائر لابن نجیم الحنفي: ۳۲۶/۱،” الضرر یزال“)

(۳) مافي” رد المحتار“: قال تاج الشریعة: أما لوأنفق في ذلک مالا خبیثا أو مالا مخلوطا من الخبیث والطیب فیکره، لأن الله تعالی لایقبل إلا الطیب، فیکره تلویث بیته بما لایقبله، شرنبلالیة۔أه (۴۳۱/۲، کتاب الصلاة، مطلب کلمة لابأس دلیل علی المستحب غیره اه ، درا الکتب العلمیة بیروت)

مافي” صحیح البخاری “عن أبي هریرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلی الله علیه وسلم؛ من تصدق بعدل تمرة من کسب طیب ولایقبل الله إلا الطیب فإن الله یتقبلها بیمینه ثم یربیها لصاحبهاکما یربي أحدکم فلوة حتی تکون مثل الجبل۔(۱۸۹/۱،باب الصدقة من کسب طیب، ط : قدیمي)

(مشکاة المصابیح :ص/۱۶۷، باب فضل الصدقة، ط: قدیمي)فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۳/۱۶ھ

اوپر تک سکرول کریں۔