تعارف
قال الله تعالى: فاسئلوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون . (اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے پوچھو ) ( الأنبياء:۷)۔
وقال النبي صلى الله عليه وسلم: لكل شيء دعامة ودعامة الإسلام الفقه في الدين. (كنز العمال : ۷۷/۱۰، رقم الحديث : ۲۸۹۲۰)
ہر چیز کا ایک ستون ہے جس پر اس کا دارو مدار ہوتا ہے، اور دینِ اسلام کا ستون فقہ ہے ۔
فقہ وفتاوی کو ہر زمانے میں بڑی قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھا گیا، اور سماج و معاشرہ کی اصلاح کے لیے اسے ایک مؤثر ذریعہ سمجھا گیا ، آج کے اس پرفتن ، خدا بیزار، علوم اسلامیہ سے نہ صرف عدم واقفیت بلکہ ایک حد تک اسلامی اقدار کے باغی معاشرہ اور سماج میں بڑی حیرت انگیز تبدیلیاں اور زبردست انقلابات رونما ہوئے ، سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی نے نئے نئے افق پیدا کیے، اور اب دنیا گلوبلائزیشن کی دنیا کہی جانے لگی ، معاشی اور اقتصادی امور میں نت نئی ترقیات نے جہاں نئے نئے مسائل لاکھڑے کر دیئے، وہیں ذرائع ابلاغ کی نئی نئی ایجادات نے فکری و نظری، تہذیبی و ثقافتی جنگوں کے محاذ کھول دیئے، اب جو لوگ شریعت اسلامیہ کو اپنی معاشرت، تجارت، اور زندگی کے دوسرے میدانوں میں معیار ہدایت قرار دیکر زندگی گزارنا چاہتے ہیں، ان کے سامنے سینکڑوں مسائل آکھڑے ہیں، اور وہ علماء اسلام واصحاب افتاء کی طرف نظریں جمائے ہوئے ہیں کہ کیا یہ جائز ہیں یا نا جائز ؟ اس موڑ پر ان کی رہنمائی علماء شریعت کی ذمہ داری ہے، اس فرض کی انجام دہی کے لیے سابق رئیس الجامعہ حضرت مولانا غلام محمد صاحب وستانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ۱۱/۳/ ۱۴۲۸ھ مطابق ۱۱/۱۴/ ۲۰۰۷ کو دار الافتاء وشعبہ افتاء قائم فرمایا ، تا کہ لوگوں کو موجودہ حوادث و مسائل کا شرعی حل مل جائے ، اور نونہالان قوم اس فرض کی انجام دہی کے لیے تیار بھی ہوتے رہیں۔
