ذوی الفروض کے مسائل

جائز اور ناجائز امور کا بیان, ذوی الفروض کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

والدہ، زوجہ، دولڑکے اور ایک لڑکی کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۲۲۵) سوال: زید کا انتقال ہوا، اس نے اپنے وارثوں میں والدہ، ایک بیوی ، دو لڑکے اورایک لڑکی چھوڑی ہے، ترکہ میں جو ملکیت چھوڑی ہے اس کی قیمت اندازاً۱۲/ لاکھ روپے ہوتی ہے، تو شریعت کے مطابق ہر وارث کوکتنا کتنا حصہ وراثت میں ملے گا؟ الجواب وباللہ التوفیق: بعد تقدیمِ […]

جائز اور ناجائز امور کا بیان, ذوی الفروض کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

شوہر ، سات لڑکیوں اور ایک لڑکے کے درمیان تقسیمِ ترکہ

( فتویٰ نمبر: ۱۳۲) سوال: ۱-زبیدہ بی کا انتقال ہوا ،انہوں نے اپنے پس ماندگان میں شوہر مناف خان، سات لڑکیاں اور ایک لڑکا چھوڑا، اور ترکہ میں چار ایکڑ زمین چھوڑی، اب یہ زمین ان کے ورثا میں کس طرح تقسیم ہوگی؟ ۲-محمد مناف خان کا انتقال ہوا، انہوں نے اپنے پس ماندگان میں

جائز اور ناجائز امور کا بیان, ذوی الفروض کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

شوہر، والدین، دولڑکوں اور ایک لڑکی کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۱۳۰) سوال: عابدہ کی وفات ہوگئی،اس کا شوہرِ اول سے ایک لڑکا ،اور شوہرِ ثانی سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہے،بچے فی الحال مرحومہ کے والدین کی پرورش میں ہیں، مرحومہ کی والدہ نے مرحومہ کے نام سے ایک کاروبار کھول رکھا تھا،جس میں اشیائے ضروریہ کرایے پر دی جاتی ہیں، کرایے

جائز اور ناجائز امور کا بیان, ذوی الفروض کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

والد اور والدہ کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۷۷) سوال: ایک چھوٹے بچے کا انتقال ہوا، جس نے اپنے ترکہ میں پچیس ہزار (۰۰۰ ۲۵) روپے نقد اور دیگر کچھ سامان چھوڑا ہے، واضح رہے کہ مرحوم معصوم کے پس ماندگان میں صرف والداوروالدہ موجود ہیں، دریافت طلب امر یہ ہے کہ از روئے شرع ان کو کس طرح تقسیم کیا

جائز اور ناجائز امور کا بیان, ذوی الفروض کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

زوجہ ،والدہ اور دوبہنوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۷۹) سوال: دوبھائیوں کے ترکہ کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ کہ جنہوں نے اپنے طورپر مل کر دو سو چالیس گنٹھے زمین خریدی،اور ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک سو بیس گنٹھے ہیں، اور دونوں بھی انتقال کرگئے ، ان میں سے ایک بھائی جس کو کوئی اولاد نہیں مگر بیوی

جائز اور ناجائز امور کا بیان, ذوی الفروض کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

آٹھ لڑکوں اور تین لڑکیوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۶۶) سوال: زید مرحوم نے ترکہ میں تین لاکھ پینسٹھ ہزار(۳۶۵۰۰۰) روپے چھوڑے، ۸/لڑکے اور ۳/ لڑکیا ں وارث ہیں، وراثت سے ہر ایک کواز روئے شرع کتنا حصہ ملے گا؟ الجواب وباللہ التوفیق: مرحوم کی یہ نقد رقم انیس (۱۹) حصوں میں تقسیم ہوکر، دو دو حصے کے اعتبار سے ہر لڑکے

جائز اور ناجائز امور کا بیان, ذوی الفروض کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

پانچ بیٹوں اور چھ بیٹیوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۴۱) سوال: ہمارے والد کی جائداد کی رقم دس لاکھ روپے ہیں،اور ہم سب پانچ بھائی اور چھ بہنیں ہیں، تو اس رقم کو اسلامی شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائے؟ جب کہ والد اور والدہ کا بھی انتقال ہوچکا ہے، اور اللہ کے فضل وکرم سے ان پر کسی کا

جائز اور ناجائز امور کا بیان, ذوی الفروض کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

دو بیٹوں اور چار بیٹیوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ

(فتویٰ نمبر: ۲۸) سوال: ۱– ایک شخص جس کے دو لڑکے اور چار لڑکیاں ہیں، اس کی عورت کا انتقال ہوگیا ہے، اس شخص نے اپنی زندگی میں ایک قیمتی زمین فروخت کی، اور اس زمین اور دوسری ملکیت کا انتظام اس کے دونوں لڑکوں میں سے چھوٹا لڑکا کرتا تھا، اس شخص نے اپنی

جائز اور ناجائز امور کا بیان, ذوی الفروض کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

زوجہ،والدہ،چھ بیٹیاں اورچھ بیٹوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۸) سوال: انور بھائی کا انتقال ہوا،انہوں نے اپنے پیچھے چھ لڑکیاں، چھ لڑکے، ایک اہلیہ اور ایک والدہ ان وارثین کو چھوڑا ہے،اور ترکہ میں ایک مکان اور ستر ہزار(۷۰۰۰۰)روپے نقد چھوڑے ہیں، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ انور بھائی کی جائداد کس طرح تقسیم ہوگی؟ الجواب وباللہ التوفیق: شرعی

جائز اور ناجائز امور کا بیان, ذوی الفروض کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

زوجہ ایک بیٹی اور چاربیٹوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۱۸۲) سوال: ۱– کل ترکہ چار لاکھ روپے ہیں، وارثین میں ایک زوجہ ، چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے، اس کی تقسیم مع ان کے حصص کے فرمادیں تو عین کرم ہوگا۔ ۲– ترکہ مثلاً: چوّن لاکھ روپے کچھ پراپرٹی کی شکل میں ہیں اور کچھ نقد، تو فی الحال صرف نقد

اوپر تک سکرول کریں۔