کھانے کی سنتیں اور آداب

جائز اور ناجائز, کھانے اور پینے کے متعلق مسائل, کھانے کی سنتیں اور آداب, مسائل مهمه

آپ ﷺ کا فقر اختیاری تھا اضطراری نہیں

مسئلہ: آپ ﷺ کا دائمی عمل جسے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے شمائلِ ترمذی میں نقل کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے دن میں دو مرتبہ گوشت نہیں کھایا اور نہ روٹی، آپ ﷺ کا یہ عمل فقرِ اختیاری تھا ، اضطراری نہیں تھا، آپ ﷺ کا یہ عمل سننِ زوائد میں […]

جائز اور ناجائز, کھانے اور پینے کے متعلق مسائل, کھانے کی سنتیں اور آداب, مسائل مهمه

گرم کھانے پر پھونک مار کر کھانا

مسئلہ: بعض لوگوں کی عادت یہ ہوتی ہے کہ جب ان کے سامنے گرم گرم کھانا لایا جاتا ہے ، تو وہ اس پر پھونک مار مار کر جلدی کھانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کا یہ عمل خلافِ ادب ہے(۱)،ذرا صبر کرنا چاہیے ، تاکہ کھانا زیادہ گرم نہ رہے، اور سہولت سے کھایا

جائز اور ناجائز, کھانے اور پینے کے متعلق مسائل, کھانے کی سنتیں اور آداب, مسائل مهمه

کرسی پر بیٹھ کر کھانا

مسئلہ: جس علاقہ میں کرسی پر بیٹھ کر کھانا کفار وفساق کا شعار ہے، وہاں مسلمانوں کیلئے کرسی پر بیٹھ کر کھانا بالکل ممنوع ہے،(۱) اور جہاں کفار وفساق کا شعار نہیں ہے، بلکہ عام ہے کہ صالحین کا بھی یہی طریقہ ہے، وہاں اس میں تشدد نہیں بلکہ خفت ہے،(۲) لیکن پھر بھی خلافِ

جائز اور ناجائز, کھانے اور پینے کے متعلق مسائل, کھانے کی سنتیں اور آداب, مسائل مهمه

کھانا حاضر ہونے کے بعد انتظار

مسئلہ: بعض لوگ دعوت کے موقع پر یوں کہہ کر کھانا شروع کردیتے ہیں کہ جس کے سامنے کھانا آچکا ہے اس کو شروع کردینا چاہیے، پوری جماعت کے سامنے کھانا آجانے کا انتظار کرنا درست نہیں ہے، کیوں کہ اس میں کھانے کا احترام فوت ہوجاتا ہے، جب کہ یہ حکم اس وقت ہے

جائز اور ناجائز, کھانے اور پینے کے متعلق مسائل, کھانے کی سنتیں اور آداب, مسائل مهمه

کھانے کے وقت ہاتھ دھونا

مسئلہ: بعض لوگ کھانے کیلئے یہ کہہ کر ہاتھ نہیں دھوتے کہ ہم ابھی نماز پڑھ کر آئے ہیں، جب کہ کھانے کیلئے ہاتھ دھونا مستقل سنت ہے، گرچہ وضو، غسل اور نماز وغیرہ سے فارغ ہوکر ہی آیا ہو۔ الحجة علی ما قلنا : ما فی ” مشکوٰة المصابیح “ : عن سلمان قال:

جائز اور ناجائز, کھانے اور پینے کے متعلق مسائل, کھانے کی سنتیں اور آداب, مسائل مهمه

کھانے کے درمیان گفتگو کا حکم شرعی

مسئلہ: بہت سے حضرات کھانے کے درمیان گفتگوکرنے کو خلافِ ادب وسنت سمجھتے ہیں،جب کہ بالکل خاموش رہنے کو فقہاء کرام نے مکروہ قرار دیاہے ،کیونکہ یہ مجوسیوں کی عادت ہے ، اس لیے اس تشبہ سے بچنے کے لئے کھانے کے دوران نیکی اوربھلائی کی بات کرے ، لیکن اس کی یہ مراد ہر

اوپر تک سکرول کریں۔