جانوروں کی زکوۃ سے متعلق مسائل

جانوروں کی زکوۃ سے متعلق مسائل, زکوۃ, زکوۃ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه

پراویڈنٹ فنڈ میں جمع کردہ رقم پر زکوة

مسئلہ: ملازمین اپنی تنخواہوں میں سے ماہانہ کچھ رقم پراویڈنٹ فنڈ کے نام سے خود اپنے اختیار سے کٹواتے ہیں، ادارہ ان کو مجبور نہیں کرتا ہے، اور یہ رقم نوکری چھوڑنے پر اضافہ کے ساتھ انہیں ادا کردی جاتی ہے، اس صورت میں جتنی رقم کاٹی گئی ہے اتنی ہی رقم کا لینا حلال […]

جانوروں کی زکوۃ سے متعلق مسائل, زکوۃ, زکوۃ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه

پراویڈنٹ فنڈ میں جمع شدہ رقم پر زکوة

مسئلہ: حکومت اپنے ملازمین کی تنخواہوں سے ماہانہ کچھ رقم پراویڈنٹ فنڈ (Provident Fund) کے نام سے جبراً کاٹ لیتی ہے، اور اتنی ہی رقم اس میں شامل کرکے ملازمین کے نام سے اپنی تحویل میں رکھتی ہے، اور یہ رقم نوکری چھوڑنے پر انہیں ادا کردی جاتی ہے، اس پوری رقم کا لینا حلال

جانوروں کی زکوۃ سے متعلق مسائل, زکوۃ, زکوۃ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه

غلطی سے زکوة زیادہ دیدینا

مسئلہ: اگر کسی شخص کے ذمہ زکوٰة کی ادائیگی کی مقدار تھوڑی بنتی ہو، اور ا س نے غلطی سے زیادہ زکوٰة دیدی، تو اس کے لئے یہ گنجائش ہے کہ وہ اس زائد مقدار کو آئندہ سال کی زکوٰة میں شمار کرلے(۱)، اور اگر اس زائد مقدار کو نفلی صدقہ تصور کرے، اور آئندہ

جانوروں کی زکوۃ سے متعلق مسائل, زکوۃ, زکوۃ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه

وسط سال کی آمدنی بھی تمامِ سال کی آمدنی کے تابع ہے

مسئلہ: بعض لوگ یوں خیال کرتے ہیں کہ جو مال جس وقت ملکیت میں آئے، اسی وقت سے اس کا سال شروع ہوتا ہے، اور وہ ہر مال کا الگ الگ سال شمار کرتے ہیں، اسی طرح بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جو مال سال بھر ان کی ملکیت میں رکھا رہا، اور

جانوروں کی زکوۃ سے متعلق مسائل, زکوۃ, زکوۃ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه

غیر مسلم فقراء کوزکوة دینا سرعاً کیسا ہے؟

مسئلہ: بعض لوگ غیر مسلم فقراء کو زکوٰة دیدیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی زکوٰة ادا ہوگئی، جبکہ اس صورت میں زکوٰة ادا نہیں ہوئی، کیوں کہ زکوٰة کا مصرف، صرف مسلمان فقراء ہیں، اس لئے ان پر دوبارہ اتنی زکوٰة مسلمان غریبوں کو دینا لازم ہے ۔ الحجة علی ما قلنا:

اوپر تک سکرول کریں۔