نفقہ کے متعلق مسائل

طلاق, مسائل مهمه, نفقہ کے متعلق مسائل

مطلقہ بائنہ کو ہمدردی کی بنا پر نفقہ دینا

مسئلہ: اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اور وہ عدت گزار کر اس کے نکاح سے باہر ہوگئی، اب وہ عورت پریشان حال ہے، اس کے کھانے پینے، کپڑے لَتّے اور رہنے کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے، نیز اس نے دوسرا نکاح بھی نہیں کیا، کہ ان چیزوں کا انتظام […]

طلاق, مسائل مهمه, نفقہ کے متعلق مسائل

بیوی کا والدین کی ملاقات کو جانے کا خرچ

مسئلہ: بیوی والدین سے ہفتے میں ایک مرتبہ، اور دوسرے مَحرَم رشتے داروں سے سال میں ایک مرتبہ، یا علیٰ قدر المراتب؛ عام طور پر جتنے عرصے بعد عورتیں اپنے والدین اورمَحرَم رشتے داروں سے ملتی ہیں، مل سکتی ہے، نیز اگر والدین اور رشتے دار خود ملاقات کے لیے آسکتے ہوں، تو اس صورت

طلاق, مسائل مهمه, نفقہ کے متعلق مسائل

شوہر کی طرف سے مطلقہ مغلظہ کی مالی معاونت

مسئلہ: بسا اوقات میاں بیوی کے آپسی جھگڑے میں مرد غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیتا ہے، اور اب بدونِ حلالہ دو بارہ نکاح کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، جب کہ ایک غیرت مند عورت حلالہ کو کسی بھی طرح پسند نہیں کرتی، اور اس کا کوئی سہارا بھی نہیں

طلاق, مسائل مهمه, نفقہ کے متعلق مسائل

نفقہ کی مقدارشرعاً مقرر نہیں ہے۔

مسئلہ: جس مطلقہ کا نفقہ شریعت نے اس کے شوہر کے ذمہ لازم کیا ہے، اس کی مقدار شریعت نے مقرر نہیں کی، کیوں کہ زمان ومکان کے اختلاف سے اجناس (چیزوں) کی قیمتوں میں کافی تفاوت ہوتا ہے، لہذا نفقہ کی مقدار زمان ومکان کا لحاظ کرتے ہوئے باہمی مصالحت یا جماعت کے مشورہ

طلاق, مسائل مهمه, نفقہ کے متعلق مسائل

شوہر کی اجازت کے بغیر میکے چلی جانے پر نفقہ

مسئلہ: اگر مطلقہ عورت زمانہٴ عدت میں اپنے شوہر کے گھر نہیں رہی ، اور اس کی اجازت ومرضی کے بغیر اپنے والدین کے گھر پر چلی گئی، تو شوہر کے ذمہ نفقہٴ عدت لازم نہیں ہے،(۱) اور اگر شوہر کی اجازت ومرضی سے چلی گئی تو شوہر کے ذمہ نفقہٴ عدت لازم تو ہوگا،(۲)

طلاق, مسائل مهمه, نفقہ کے متعلق مسائل

عدتِ وفات میں عورت کا نفقہ

مسئلہ: بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جس طرح عدتِ طلاق میں عورت نفقہ کی مستحق ہوتی ہے، ایسے ہی عدتِ وفات میں بھی شوہر کے چھوڑے ہوئے مال میں نفقہ کی مستحق ہوگی، جب کہ ان کا یہ خیال غلط ہے، کیوں کہ نفقہ حقِ مہر کی طرح محض عقد سے یکبارگی لازم

اوپر تک سکرول کریں۔