قربانی کی کھال کے مصرف کے متعلق مسائل

قربانی, قربانی کی کھال کے مصرف کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

چرم قربانی کی خرید وفروخت میں شرط

مسئلہ: اہلِ مدارس قربانی کے دنوں میں چرم قربانی جمع کرتے ہیں، پھر انہیں فروخت کرکے اس کی قیمت مستحق طلبہ پر خرچ کرتے ہیں، بعض ذمہ دارانِ مدرسہ جب چرم کے بیوپاری سے معاملہ کرتے ہیں، تو یہ شرط لگاتے ہیں کہ آج دس تاریخ کو جس قیمت پر آپ ہمارے چرم خرید رہے […]

قربانی, قربانی کی کھال کے مصرف کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

کھال کی رقم کو مستقل آمدنی کا ذریعہ بنانا

مسئلہ: کسی جماعت یا تنظیم کا قربانی کی کھال کی رقم کو مستقل آمدنی کا ذریعہ بنانا ، مثلاً اس رقم سے کوئی ایسی جائیداد اورپراپرٹی خریدناکہ اس سے مستقل آمدنی ہوتی رہے ، جس سے غریبوں، مسکینوں اور ضرورتمندوں کی مدد کی جاسکے، شرعاًجائز نہیں ہے،بلکہ کھال جمع کرنے والی جماعت یا برادری پر

قربانی, قربانی کی کھال کے مصرف کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

قربانی کی کھال سے خود فائدہ اٹھانا

مسئلہ: قربانی کی کھال سے خود فائدہ اٹھانا یا کسی کو دے دینا دونوں جائز ہے، خواہ وہ شخص جس کو یہ کھال دی جارہی ہے مالدار ہو یا فقیر،ہاشمی ہو یا غیر ہاشمی،اپنے اصول و فروع ہوں یا اجنبی،نیزاس میں تملیک بھی واجب نہیں ہے ،اسی لیے خود اپنے لیے اس کا مصلیٰ اورڈول

قربانی, قربانی کی کھال کے مصرف کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

چرم قربانی کی قیمت کا صدقہ کر نا

مسئلہ: قربانی کی کھال فروخت کر نے کے بعد جو رقم قیمت کے طور پر ملتی ہے وہ صدقہ کر د ینا واجب ہے اور صدقہ کی حقیقت یہ ہے کہ جس کو دیا جائے وہ مالک بن جائے، چو نکہ مسجد میں تملیک نہیں پائی جاتی اس لیے قربانی کی کھال کی رقم مسجد

اوپر تک سکرول کریں۔