قربانی کے وجوب و عدم وجوب کے متعلق مسائل

قربانی, قربانی کے وجوب و عدم وجوب کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

مالدار شخص کا ایام قربانی میں انتقال

مسئلہ: اگر کوئی شخص مالدار (صاحبِ نصاب) ہو، اور اس نے ابھی تک قربانی نہیں کی تھی کہ ایامِ قربانی ہی میں اس کا انتقال ہوگیا، تو اس کے ذمہ سے قربانی ساقط ہوگئی، کیوں کہ وجوبِ قربانی، ادائے قربانی کے وقت ثابت ہوتا ہے، یا پھر آخر وقت میں، اب جب اس شخص نے […]

قربانی, قربانی کے وجوب و عدم وجوب کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

مالدار صاحبِ نصاب بیوی پر قربانی

مسئلہ: اگر بیوی مالدار صاحب نصاب ہے، یا اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنی چیز یں ہیں، کہ ان کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے، تو اس پر قربانی واجب ہے، اور اس پر لازم ہے کہ اپنی طرف سے ایک حصہ قربانی کرے، رہا شوہر! تو اس

قربانی, قربانی کے وجوب و عدم وجوب کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

قربانی کی نیت سے قربانی کا وجوب

مسئلہ: بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ گھر میں پالے ہوئے جانور کے بارے میں اگر کسی شخص نے قربانی کی نیت کرلی، تو اس نیت سے اس جانور کی قربانی کرنا لازم ہوجاتا ہے، اور ایسے جانور کو بدلنا اور فروخت کرنا بھی جائز نہیں ہے، جب کہ یہ خیال صحیح نہیں ہے،

قربانی, قربانی کے وجوب و عدم وجوب کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

نصاب کے مقدار زائد از ضرورت مال میں قربانی واجب ہوگی

مسئلہ: اگر کسی شخص کے پاس ضرورت سے زائد کپڑے، موبائل فون، گھریلو برتن، ٹیپ ریکارڈ، ٹیلی ویژن اور وی سی آر وغیرہ جن کی مالیت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی ) کے برابر ہو تو اس پر بھی قربانی واجب ہوگی، کیوں کہ وجوبِ قربانی کے لیے نصاب کا نامی ہونا اور اس پر

قربانی, قربانی کے وجوب و عدم وجوب کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

قربانی کس پر فرض ہے؟

مسئلہ: جس شخص پر زکوة فرض ہو یا جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت ہو یا اتنی قیمت کامالِ تجارت ہوتواس پر قربانی او رصدقۂ فطر واجب ہوجاتا ہے، شریعتِ اسلامیہ میں قربانی کی بڑی فضیلت ہے ا ور قربانی واجب ہونے کے باوجود نہ کرنے پر سخت وعیدیں وارد

اوپر تک سکرول کریں۔