نوافل

سنن اور نوافل کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نوافل

کیا نمازِ اوابین نفل میں داخل ہے؟

مسئلہ: نمازِ اوّابین نفل میں داخل ہے، اور نفل با جماعت بصورتِ تداعی یعنی نفل نماز کی جماعت کے لیے دعوت وترغیب دینا مکروہ ہے، لیکن اگر نفل نماز میں ایک شخص دوسرے کی اقتدا کرے، یا دو آدمی کسی تیسرے کی اقتدا کریں، تو بالاتفاق یہ مکروہ نہیں ہے، اور اگر تین آدمی کسی […]

سنن اور نوافل کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نوافل

نمازِ اوّابین

مسئلہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ جس شخص نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھی اور درمیان میں کوئی بری بات نہ کہی، تو یہ اس کے لیے بارہ سال کی عبادت کے برابر ہوں گی(۱)، اورحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی

سنن اور نوافل کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نوافل

نمازِ چاشت

مسئلہ: نمازِ چاشت کا وقت ، اشراق کی نماز کے بعد متصل شروع ہوکر، زوال سے پہلے تک ہے، لیکن اس کا افضل وقت دن کا ایک چوتھائی حصہ گزرنے کے بعد ہے، مثلاً آج کل صبح صادق ساڑھے پانچ بجے اور غروبِ آفتاب پانچ بج کر پچاس منٹ پر ہے، تو چاشت کا افضل

سنن اور نوافل کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نوافل

سنن و نوافل کیوں اور کس لیے؟

مسئلہ: بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فرض اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور سنتیں نبی پاک ﷺ کے لیے ہیں،اُن کا یہ خیال غلط ہے، نماز چاہے فرض ہو ، یا سنت ونفل، سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں(۱)، البتہ سنن ونوافل ، فرض نماز میں ، خشوع وخضوع میں جو کمی رہ

سنن اور نوافل کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نوافل

اشراق وچاشت کے متعلق تحقیقی وضاحت

مسئلہ: فقہاء کرام اور محدثین عظام کے ظاہر ی اقوال کے تتبّع سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اِشراق وچاشت دو الگ الگ نمازیں نہیں، بلکہ دونوں ایک ہی ہیں(۱)، البتہ بعض علماء کے نزدیک اِشراق وچاشت دو الگ الگ نمازیں ہیں، ماضی قریب کے مستند حنفی عالم، محدث وفقیہ، علامہ ظفر احمد عثمانی

اوپر تک سکرول کریں۔