جہری اور سری قرأت کے احکام

جہری اور سری قرأت کے احکام, قرأت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

سری نماز میں جہری قرأت

مسئلہ: اگر امام سری نماز مثلاً ظہر یاعصر میں بھول کر بلند آواز سے قرأت شروع کردے ، اور مقتدیوں کے لقمہ دینے یا خود کو یاد آنے پر خاموش ہوجائے ، تو اگر تین آیتوں سے کم قرأت کی تھی، تو سجدہٴ سہو واجب نہیں، اور اگر تین آیتوں یا اس کی مقدار قرأت […]

جہری اور سری قرأت کے احکام, قرأت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

عورت کا جہری قرأت کرنا

مسئلہ: بعض فقہاء کرام کے نزدیک عورت کی آواز بھی ستر ہے، اس لیے احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ عورت جہری نمازوں میں جہری قرأت نہ کرے، ورنہ ان فقہاء کے قول کے مطابق اُس کی نماز فاسد ہوگی، البتہ جو نمازیں جہری قرأت کے ساتھ پڑھ چکی ، اُن کے اعادہ کی ضرورت

جہری اور سری قرأت کے احکام, قرأت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

مسئلہٴ مذکورہ(جہری اور سری کی حد) کی وضاحت

قرأت کے معنی ہیں پڑھنا ،اور قرأت کی دوقسمیں ہیں: (۱)جہری (۲)سرّی ۔ قرأت جہری :اتنے بلند آواز سے پڑھنا کہ دوسرا شخص سن سکے ۔ قرأت سرّی :آہستہ پڑھنا ،اس کا اطلاق کس کیفیت پر ہوگا، اس سلسلے میں فقہاء کرام کا اختلاف ہے ۔ (۱) قولِ اول :علامہ فقیہ ابوجعفر ہندوانی ،علامہ فضلی

جہری اور سری قرأت کے احکام, قرأت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

نماز میں جہروسِرّ کی حد

مسئلہ : اگر کوئی شخص نماز میں اتناآہستہ قرآن کریم پڑھے کہ حروف صحیح ادا ہوجائیں ،لیکن وہ خود نہ سن سکے تو مفتیٰ بہ قول کے مطابق، اس کی نماز درست نہیں ہو گی، کیوں کہ سِرّکی حد یہ ہے کہ آدمی ایسی آواز میں قرأت کرے کہ وہ خود اسے سن سکے، محض

اوپر تک سکرول کریں۔