نماز

جنازے سے متعلق مسائل, قبر پر تلاوت, مسائل مهمه, نماز

دفن کے بعد میت کے سرہانے اور پیروں کی جانب دعا

مسئلہ: دفن کے بعد میت کے قریب سرہانے ہوکر ،سورہٴ فاتحہ یا سورہٴ بقرہ کی ابتدائی آیات تا ﴿أولٰئک ہم المفلحون﴾،اور پیر وں کی جانب کھڑے ہوکر سورہٴ بقرہ کا آخری رکوع ﴿للہ ما في السموات و ما في الأرض﴾تا آخر پڑھنا ،اور میت کوایصالِ ثواب کرکے اس کے لئے سہولت ِ سوال وجواب ،تخفیف […]

جمعہ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نماز جمعہ کے متعلق مسائل

 نمازِ جمعہ چھوٹ جائے

مسئلہ: جس گاوٴں میں ایک ہی جگہ نمازِ جمعہ پڑھی جاتی ہووہاں کسی شخص کی نماز جمعہ چھوٹ جائے تو وہ ظہر کی نماز اداکرے، نہ کہ جمعہ کی ۔ الحجة علی ما قلنا : ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : أهل مصر فاتتهم الجمعة فإنهم یصلون الظهر بغیر أذان ولا إقامة

جمعہ کا خطبہ, مسائل مهمه, نماز, نماز جمعہ کے متعلق مسائل

خطبہ کے دوران خاموش رہنا

مسئلہ: خطبہ کے دوران بالکل خاموش رہنا واجب ہے،اور حدیث میں یہ وارد ہے کہ اگر کوئی شخص بول رہا ہو تو اسے چپ کرانے کے لئے بولنابھی ناجائز ہے،لہٰذ ا جب ا مام آیتِ کریمہ﴿إن اللہ وملٰئکتہ یصلون علی النبي﴾الخ۔پڑھے تو مقتدیوں کو دل ہی دل میں درودشریف پڑھنا چاہئے ،زبان سے پڑھنا درست

مسائل مهمه, مسافر کی نماز سےمتعلق مسائل, نماز

قصر واتمام میں مکہ و منیٰ ایک ہی شہر شمار ہوگا

مسئلہ: جنا ب نبی کریم ﷺ کے عہدِ مبارک اور اس کے بعد کے ادوار میں، منیٰ کی آبادی مکہ مکرمہ کی آبادی سے بالکل الگ اور خاصے فاصلے پر تھی، مکہ معظمہ اور منیٰ کو دو الگ الگ آبادیاں شمار کیا جاتا تھا ،اس لیے اگر کوئی شخص مکہ اور منیٰ دونوں میں ملا

مسائل مهمه, مسافر کی نماز سےمتعلق مسائل, نماز

دورانِ سفر چھوٹی ہوئی نمازوں میں قصر یا اتمام؟

مسئلہ: جن طلباء یا اساتذہ کا وطن ساڑھے ستہتر ”۷۷:۱/۲“کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے ،اور دورانِ سفر ان کی نماز یں قضاء ہوگئی ہوں تو وہ جامعہ میں آکر اپنی دورانِ سفر چھوٹی ہوئی نمازوں کو قصر کے ساتھ پڑھیں گے ،اور اگر کوئی عین سورج غروب ہونے کے وقت، سفر سے واپس ہوکر

مسائل مهمه, مسافر کی نماز سےمتعلق مسائل, نماز

سفرمیں سنتوں کا حکم

مسئلہ: اگر مسافر برسرِسفرہے ،کسی جگہ نماز کے لئے ہی ٹھہرا ہے ،اور سنن میں مشغول ہونے سے گاڑی کی آمد وروانگی کے وقت ہجوم کی وجہ سے گاڑی میں چڑھنا ،اور اپنی سیٹ تک پہنچنا دشوار ہو ، یا گاڑی چھوٹ جانے کا اندیشہ ہو ،یا کوئی اور عجلت درپیش ہو تو سنتیں پڑھنے

مسائل مهمه, مسافر کی نماز سےمتعلق مسائل, نماز

وطنِ اقامت اور وطنِ اصلی میں نماز

مسئلہ: جامعہ کی حیثیت طلباء کے لئے وطنِ اقامت کی ہے ،اگر کوئی طالب علم جامعہ میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ رہنے کی نیت کرے تو نماز پوری اداکرنی ہوگی، اور اگر پندرہ روز ٹھہرنے کی نیت نہ کی تو وہ شرعاً مسافرہی ہے ،اوراگر کوئی طالب علم جامعہ سے ساڑھے ستہتر”۲/۱/۷۷“ کلومیٹر

مسائل مهمه, مسافر کی نماز سےمتعلق مسائل, نماز

 سفر میں نمازیں قضا کرنا

مسئلہ: فرائضِ اسلام میں نماز ایک اہم ترین فرض ہے ،جو ہرمسلمان مرد وعورت ،عاقل وبالغ پر فرض ہے، خواہ وہ صحیح ہو یا مریض، مقیم ہویا مسافر ،اس لئے بحالتِ سفر اس بات کی پوری کوشش کر نا واجب ہے کہ کوئی نماز نہ چھوٹے اور نہ قضا ہو،کیوں کہ نماز کو جان بوجھ

مسائل مهمه, مسافر کی نماز سےمتعلق مسائل, نماز

اقامت کیلئے نیتِ اقامت

مسئلہ: ہم میں سے جس طالب علم یا معلم (استاذ)کا وطن ساڑھے ستہتر ”۷۷،۱/۲“ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے ، وہ اب دوبارہ جامعہ میں حاضر ہوا، اور پندرہ روز یا اس سے زائد یہاں ٹھہرنے کا قصد وارادہ ہے تو اسے نمازیں پوری پڑھنی ہوگی، کیوں کہ یہ اس کا وطنِ اقامت ہے۔اتنی

مسائل مهمه, مسافر کی نماز سےمتعلق مسائل, نماز

جائے ملازمت کاحکم

مسئلہ: (الف)جائے ملازمت وتجارت میں طویل اقامت کے ساتھ ذاتی مکان بھی بنالینادائمی قیام کی نیت پر دلالت کرتاہے ، اس لیے مذکورہ جگہ وطنِ اصلی شمار کی جائیگی ،کیوں کہ وطنِ اصلی میں تعدد ہوسکتا ہے ، اس لیے وہاں چاررکعت والی نماز پوری کی جائیگی۔(۱) (ب) جائے ملازمت وتجارت میں ذاتی مکان تو

مسائل مهمه, مسافر کی نماز سےمتعلق مسائل, نماز

مسافتِ سفرکاآغاز

مسئلہ: (الف )جوآدمی اپنے گھر سے اپنے شہر کے اندر ہی کسی مقام پر جانے کے لیے نکلے تو خواہ وہ کتنی ہی لمبی مسافت طے کرے ، اگر اس کا ارادہ شہر کے اندر ہی اندر رہنے کا ہے تو وہ شرعاًمسافر شمار نہیں کیاجائے گا،او راس کے لیے سفر کی وہ رخصتیں نہیں

سجدۂ شکر سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

سجدہٴ شکر کب ادا کرے ؟

مسئلہ: انسان کو جب کوئی نعمت حاصل ہو ،یا کوئی خوشخبری ملے، یا کوئی مصیبت ٹل جائے تو اس کے لیے مفتیٰ بہ قول کے مطابق سجدہٴ شکر کرنا مستحب ہے، لیکن نماز کے بعد متصلاً اور نماز کے بعد جس وقت میں نفل پڑھنا مکروہ ہے ،اس وقت میں سجدہٴ شکر ادا کرنا بالاتفاق

سجدۂ تلاوت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

مصلي کا غیر مصلي سے آیتِ سجدہ سننا

مسئلہ: کسی ایسے شخص نے جو نماز نہیں پڑھ رہا ہے آیتِ سجدہ تلاوت کی ،اورنمازی نے اس کو سن لیا تووہ نماز میں سجدہٴ تلاوت ادانہ کرے ، بلکہ نماز سے فراغت کے بعد اداکرے ۔ الحجة علی ما قلنا : ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : قال العلامة الحصکفي :

سجدۂ تلاوت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

سونے والے سے آیتِ سجدہ سنے

مسئلہ: اگر کسی شخص نے کسی سوئے ہوئے مکلف آدمی سے آیتِ سجدہ سنی، تو اس سننے والے شخص پر سجدہٴ تلاوت واجب ہوگا ۔ الحجة علی ما قلنا : ما في ” البحر الرائق “ : وإن سمعها من نائم اختلفوا فیه، والصحیح هو الواجب ، کذا في الخانیة ۔ (۲۱۳/۲ ، کتاب الصلوٰة

سجدۂ تلاوت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

کاغذ پر آیتِ سجدہ بغیر تلفظ کے لکھے

مسئلہ: اگر کوئی شخص کاغذپرآیتِ سجدہ لکھے اور زبان سے اس کا تلفظ نہ کرے تو ایسے شخص پر سجدہٴ تلاوت واجب نہیں ہوگا،کیوں کہ سجدہٴ تلاوت کے وجوب کیلئے کلمہٴ سجدہ کے ساتھ اکثر آیتِ سجدہ کا زبان سے پڑھنا یا سننا ضروری ہے، اور کتابت تلاوت نہیں ہے ۔ الحجة علی ما قلنا

سجدۂ تلاوت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

کیسٹ یا ٹیپ ریکارڈ پر آیتِ سجدہ

مسئلہ: ۱- اگر کسی قاری یا متکلم کی قرأت و آواز کو کسی آلہ میں محفوظ کرلیا گیا ہوتو اس میں آیتِ سجدہ کے سننے سے سجدہٴ تلاوت لازم نہیں ہوگا ،کیوں کہ یہ نقل اور عکس ہے ،نیز ٹیپ ریکارڈ کا بھی یہی حکم ہے۔(۱)  ۲- لیکن ریڈیو میں تقاضہٴ احتیاط یہ ہے کہ

سجدۂ تلاوت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

رکوع میں سجدہٴ تلاوت کی نیت

مسئلہ: اگر کوئی شخص آیتِ سجدہ تلاوت کرنے کے بعد فوراً ،یا دوتین چھوٹی آیتیں تلاوت کرنے کے بعد رکوع میں چلاگیا، اور ر کوع میں سجدہٴ تلاوت کی نیت کر لی تو سجدہ ادا ہوجائے گا ،اور اگر رکوع میں نیت نہ کرے تو سجدے میں بغیر نیت کے بھی سجدہٴ تلاوت اداہوجاتا ہے

سجدہ ٔسہو سےمتعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

قعدہٴ اخیرہ کے بعد رکعت چھوٹ جائے

مسئلہ: اگر کسی شخص کو قعدہٴ اخیرہ کے بعدرکعت چھوٹ جانے کا غالب گمان ہو ،اوروہ اس رکعت کو اداکرنے کیلئے سلام پھیرنے سے قبل یا سلام پھیرنے کے بعد متصلًا کھڑا ہوجائے، اور پھر اس کو یاد آئے کہ میں نماز مکمل پڑھ چکا ہوں تو یہ شخص فوراً بیٹھ کر سلام پھیرے، اور

سجدہ ٔسہو سےمتعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

مسبوق بھول کر سلام پھیردے

مسئلہ: امام نے جب سلام پھیر ا اور اس میں لفظ ”السلام“کے میم پر پہنچا، اگر اسی وقت مسبوق کو یا دآگیا اور وہ سلام پھیرنے سے رک گیاتب تو اس کے ذمہ سجدہ سہو نہیں،اور اگر اس کے بعد سلام پھیرا اور پھر یاد آگیا تو اس کے ذمہ سجدہ سہو لازم ہے ،اگر

سجدہ ٔسہو سےمتعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

رکن کی ادائیگی میں شک ہو

مسئلہ: اگر کسی شخص کو دورانِ نماز کسی رکن کے ادا کرنے یا ادا نہ کرنے میں شک ہو ،اور وہ ایک رکن ادا کرنے یعنی تین مرتبہ ”سبحان اللہ “پڑھنے کے بقدر سوچتا ہی رہے ،نہ قرأت میں مشغول ہو اور نہ ذکر وتسبیح میں، تو اس صورت میں اس پر سجدہٴ سہو واجب

اوپر تک سکرول کریں۔