مسائل مهمه

جمعہ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نماز جمعہ کے متعلق مسائل

جمعہ کے دن خطبہ سے پہلے آنا

مسئلہ: نمازِ جمعہ کے لیے خطبہ شروع ہونے سے پہلے آنا چاہیے، کیوں کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جمعہ کی حاضری لکھنے کے لیے فرشتے مقرر ہوتے ہیں، جو شخص پہلی گھڑی میں آئے اس کے لیے اونٹ کی قربانی کا ثواب لکھا جاتا ہے، اور بعد میں آنے والوں کا ثواب گھٹتا […]

جمعہ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نماز جمعہ کے متعلق مسائل

پہلی اذان کے بعد مسجد کے باہر ٹوپی وغیرہ بیچنا

مسئلہ: بعض تاجر جمعہ کے دن ، جمعہ کی پہلی اذان کے بعد مسجد سے باہر اس کے صحن میں ٹوپی، تسبیح، عطر اور سرمہ وغیرہ بیچتے ہیں، اور دوسری اذان یعنی جب خطبہ کی اذان ہوتی ہے، تو اپنا یہ کاروبار بند کرکے نمازِ جمعہ میں شامل ہوجاتے ہیں، اُن کا اس طرح کاروبار

جمعہ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نماز جمعہ کے متعلق مسائل

جمعہ کے دن پہلی اذان کے بعدکسی کام میں مشغول ہونا

مسئلہ: جمعہ کے دن پہلی اذان کے بعد جمعہ کی تیاری کے علاوہ کوئی بھی کام جائز نہیں ہے، خواہ دینی کام ہی کیوں نہ ہو۔ الحجة علی ما قلنا : ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یایها الذین آمنوا إذا نودي للصلوة من یوم الجمعة فاسعوا إلی ذکر الله وذروا البیع﴾۔ (سورة الجمعة:۹)

جہری اور سری قرأت کے احکام, قرأت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

سری نماز میں جہری قرأت

مسئلہ: اگر امام سری نماز مثلاً ظہر یاعصر میں بھول کر بلند آواز سے قرأت شروع کردے ، اور مقتدیوں کے لقمہ دینے یا خود کو یاد آنے پر خاموش ہوجائے ، تو اگر تین آیتوں سے کم قرأت کی تھی، تو سجدہٴ سہو واجب نہیں، اور اگر تین آیتوں یا اس کی مقدار قرأت

تراویح کی نماز, تراویح کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

۲۰ رکعات تراویح بدعتِ حسنہ

مسئلہ: دین میں کسی نئی چیز کی ایجاد کی اصل شریعت میں موجود ہو، تو اسے بدعتِ حسنہ کہا جاتا ہے، اور اگر اصل موجود نہیں تو اُسے بدعتِ سیئہ کہا جاتا ہے(۱)، مگر بدعت کی یہ تقسیم باعتبار لغت ہے، ورنہ شرعی معنی کے اعتبار سے بدعت، بدعت ِ سیئہ ہی ہوتی ہے، حسنہ

سنن اور نوافل کے متعلق مسائل, سنن موکدہ, مسائل مهمه, نماز

اَجی! یہ تو سنت ہے، فرض تو ہے نہیں!

مسئلہ: بعض لوگ باتوں باتوں میں کہہ دیتے ہیں: -” اَجی! یہ تو سنت ہے، فرض تو ہے نہیں- کہ اس کے چھوڑنے پر گناہ ملے گا“- اگر وہ سنت کو ہلکا سمجھ کر ایسا کہتے ہیں تو یہ بڑی خطرناک بات ہے، ایسا کہنے سے ڈرنا اور بچنا چاہیے(۱)، البتہ اتنی بات حقیقت ہے

مسائل مهمه, نماز, وتر اور قنوت کے متعلق مسائل, وتر کی نماز

نمازِ وتر

مسئلہ: اگر کسی شخص کو تہجد میں اٹھنے کا بھروسہ ہو تو اس کے لیے افضل یہ ہے کہ تہجد کی نماز کے بعد وتر پڑھے، اور اگر بھروسہ نہ ہو تو عشا کی سنتوں کے ساتھ ہی پڑھ لینا ضروی ہے۔ الحجة علی ما قلنا : ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن

تہجد کی نماز, سنن اور نوافل کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

نمازِ تہجد

مسئلہ: نفل نمازوں میں سنتِ موٴکدہ کے بعد تہجد کی نماز افضل ترین نماز ہے(۱)، تہجد کی کم سے کم مقدار دو رکعت ہے، متوسط درجہ چار رکعت پڑھنا ہے، اور بہتر یہ ہے کہ آٹھ رکعت پڑھی جائے، نمازِ عشاء کے بعد سے فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے پہلے تک کسی بھی

سنن اور نوافل کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نوافل

نمازِ اوّابین

مسئلہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ جس شخص نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھی اور درمیان میں کوئی بری بات نہ کہی، تو یہ اس کے لیے بارہ سال کی عبادت کے برابر ہوں گی(۱)، اورحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی

سنن اور نوافل کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نوافل

نمازِ چاشت

مسئلہ: نمازِ چاشت کا وقت ، اشراق کی نماز کے بعد متصل شروع ہوکر، زوال سے پہلے تک ہے، لیکن اس کا افضل وقت دن کا ایک چوتھائی حصہ گزرنے کے بعد ہے، مثلاً آج کل صبح صادق ساڑھے پانچ بجے اور غروبِ آفتاب پانچ بج کر پچاس منٹ پر ہے، تو چاشت کا افضل

مسائل مهمه, نماز, نماز کے متعلق متفرق مسائل

نمازِ اشراق

مسئلہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی، پھر وہ اُسی جگہ بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو، پھر اس نے دو رکعت نماز پڑھی، تو اس کے لیے

اوقات مکروہ, اوقات نمازسے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

کن اوقات میں نفل ممنوع ہے؟

مسئلہ: طلوعِ فجر یعنی صبح صادق کے بعد سے طلوعِ آفتاب تک فجر کی فرض اور دو رکعت سنتِ موٴکدہ کے علاوہ تحیة المسجد، تحیة الوضو اور دیگر نوافل پڑھنا مکروہ ہے، اسی طرح عصر اور مغرب کے درمیان بھی نفل پڑھنا مکروہ اور منع ہے(۱)،البتہ فجر کے بعد سورج کے طلوع ہونے سے کچھ

سنن اور نوافل کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نوافل

سنن و نوافل کیوں اور کس لیے؟

مسئلہ: بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فرض اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور سنتیں نبی پاک ﷺ کے لیے ہیں،اُن کا یہ خیال غلط ہے، نماز چاہے فرض ہو ، یا سنت ونفل، سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں(۱)، البتہ سنن ونوافل ، فرض نماز میں ، خشوع وخضوع میں جو کمی رہ

مسائل مهمه, نماز, نماز کے متعلق متفرق مسائل

بچوں کی صف کے سامنے سے گزرنا

مسئلہ: بعض دفعہ بڑے آدمیوں کی صف میں خالی جگہ ہوتی ہے، اور اس کے پیچھے بچوں کی لمبی صف ہوتی ہے، ایسی صورت میں اگلی صف میں موجود خالی جگہ پُر کرنے کے لیے بڑے آدمی کو بچوں کی اُس صف کے سامنے سے گزرنا پڑتا ہے، تو بڑے آدمی کے لیے بچوں کی

مسائل مهمه, نماز, نماز کے متعلق متفرق مسائل

جماعت سے فراغت کے بعد جگہ بدلنا کیسا ہے؟

مسئلہ: فرض نماز کی جماعت سے فراغت کے بعد امام اور مقتدیوں کے لیے جگہ بدل لینا مستحب ہے(۱)، ضروری نہیں، بعض لوگ اِسے ضروری سمجھتے ہیں، اور دائیں بائیں ، آگے پیچھے جگہ نہ ہونے کے باوجود اس کی کوشش کرتے ہیں ، اور نمازیوں کا خیال نہ کرتے ہوئے اُن کے آگے سے

مسائل مهمه, نماز, نماز کے متعلق متفرق مسائل

امام کے سلام کے بعدپیچھے کھسک کر بیٹھنا

مسئلہ: بسا اوقات طلبہ واساتذہ جماعت میں شریک رہتے ہیں، جب امام سلام پھیرتا ہے تو جو طالب علم اپنے استاذ کے بازو میں ہوتا ہے وہ پیچھے کھِسک جاتا ہے ، طالب علم کا اپنے استاذ کے ادب میں اس طرح کھسک کر بیٹھنا یہ بھی درست ہے، اور برابر میں بیٹھے رہنا یہ

صفوں کی ترتیب کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

نماز میں صفوں کی درستگی

مسئلہ: جماعت کے ساتھ نماز میں صفوں کو سیدھا کرنا امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور امام مالک رحمہم اللہ کے نزدیک سنت ہے، جب کہ ابن حجر اور بعض محدثین عظام کے نزدیک واجب، اور ابن حزم کے نزدیک فرض ہے،صفوں کو سیدھا کرنے میں ترتیب کے ساتھ صفوں کو پورا کرنا ، یعنی اول

مسائل مهمه, نماز, نماز کے متعلق متفرق مسائل

سورۂ فاتحہ اور ضمِ سورت سے پہلے بسم اللہ

مسئلہ: حنفیہ اور حنابلہ کے نزدیک سِرّی اور جہری دونوں نمازوں میں سورہٴ فاتحہ اور ضم سورت سے پہلے ” بسم اللہ “ آہستہ پڑھنا سنت ہے، شوافع کے نزدیک جہری نمازوں میں سورہٴ فاتحہ اور ضم سورت سے پہلے ” بسم اللہ “ بلند آواز سے پڑھنا سنت ہے، مالکیہ کے مشہور قول کے

رکعت میں ایک سورت وآیت کا تکرار و تعدد اور ترتیب, قرأت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

امام نے پہلی رکعت میں سورۂ ناس پڑھ دیا

مسئلہ: اگر کوئی شخص پہلی رکعت میں ہی سورہٴ ناس پڑھ دے، تو اس کو چاہیے کہ دوسری رکعت میں بھی اسی سورت کو پڑھ کر نماز پوری کرے ۔ الحجة علی ما قلنا : ما في ” رد المحتار “ : قوله: (لا بأس أن یقرأ سورة ویعیدها في الثانیة) أفاد أنه یکره تنزیها،

قرات کی مقدار سنت, قرأت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

نماز میں مسنون قرأت

مسئلہ: اگر کسی مسجد کا امام نمازوں میں مسنون طریقہ پر قرأت کرتا ہو اور اُس کے اِس عمل سے مصلی اور محلہ کے لوگ ناراض ہوں ، تو امام کو چاہیے کہ مصلی اور محلہ کے لوگوں کی ناراضگی کی وجہ سے مسنون قرأت کرنا نہ چھوڑے، بلکہ مصلیان کو نرمی سے سمجھادے کہ

اوپر تک سکرول کریں۔