میراث کے متعلق

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, میراث کے متعلق, میراث کے متفرق مسائل

عورت کے انتقال کے بعد اس کا مہر ترکہ میں شامل ہوگا!

(فتویٰ نمبر: ۱۷۹) سوال: اگر کسی آدمی کی بیوی مرجائے اور اس نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا، تو اب وہ مہر کس کو دیا جائے ؟ اگر کوئی اور صورت ہو تو وضاحت فرمائیں! الجواب وباللہ التوفیق: عورت کے انتقال کے بعد اگر اس کا مہر شوہر کے ذمہ باقی تھا، […]

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, میراث کے متعلق, میراث کے متفرق مسائل

بیوی کے انتقال کے بعد اس کا مہر ترکہ میں شامل ہوجاتا ہے!

(فتویٰ نمبر: ۱۱) سوال: زید کی بیوی کا انتقال ہوا ،اس کی کوئی اولا د نہیں ہے، زید نے بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا ، تو اب وہ مہر کی رقم کس کو دی جائے؟ کیا زید اپنی حقیقی بہن جو غریب ہے اس کو وہ مہر کی رقم دے سکتا ہے؟ الجواب

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, موانع ارث کے مسائل, میراث کے متعلق

سوتیلے بھائی باپ کی موجودگی میں محروم ہوں گے!

(فتویٰ نمبر: ۲۴۴) سوال: بسم اللہ بی کا انتقال ہوا، اس نے اپنے ورثا میں شوہر اور ایک بیٹے یونس کو چھوڑا، بعدہ یونس کا انتقال ہوا ، اس نے اپنے پس ماندگان میں اپنے والد اور چار سوتیلے بھائی چھوڑے، یونس کے خالہ زاد بھائی ماسٹر بشیر کا کہنا ہے کہ یونس کے والد

جائز اور ناجائز امور کا بیان, عصبات ، ذوی الارحام اور توریث حمل کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

زوجہ ،چار لڑکیاں اور چھ لڑکوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ

(فتویٰ نمبر: ۲۳۷) سوال: زید کا انتقال ہوا، اس نے ترکہ میں بہتر(۷۲) لاکھ روپے چھوڑا اور اپنے پس ماندگان میں ایک بیوی، چھ لڑکے اور چار لڑکیاں چھوڑی، اب ان سب کے مابین ترکہ کی تقسیم کس طرح کی جائے گی ؟اور ہرایک کو کتنی کتنی رقم ملے گی؟ الجواب وباللہ التوفیق: مرحوم کی

جائز اور ناجائز امور کا بیان, ذوی الفروض کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

والدہ، زوجہ، دولڑکے اور ایک لڑکی کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۲۲۵) سوال: زید کا انتقال ہوا، اس نے اپنے وارثوں میں والدہ، ایک بیوی ، دو لڑکے اورایک لڑکی چھوڑی ہے، ترکہ میں جو ملکیت چھوڑی ہے اس کی قیمت اندازاً۱۲/ لاکھ روپے ہوتی ہے، تو شریعت کے مطابق ہر وارث کوکتنا کتنا حصہ وراثت میں ملے گا؟ الجواب وباللہ التوفیق: بعد تقدیمِ

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, میراث کے متعلق, میراث کے متفرق مسائل

زوجہ، بہن، پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹے کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۲۱۸) سوال: مرحوم محبوب صاحب کا انتقال ہوا، جنہوں نے اپنے پس ماندگان میں پانچ بیٹیاں، ایک بیٹا، ایک بہن اور بیوی چھوڑی، اور ان کا کل ترکہ سو گنٹھے زمین ہے ، دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ بالا ورثا کو شرعاً کتنا اور کون کون سا حصہ ملے گا؟ الجواب

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, میراث کے متعلق, میراث کے متفرق مسائل

خریداری کے لیے رکھے ہوئے پیسوں میں ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۲۰۵) سوال: جب میری والدہ اور ان کے بھائی اور بہنوں کے درمیان مال تقسیم ہوا ، تو میری والدہ کے پاس بیس ہزار روپے وراثت میں آئے،اب ان پیسوں کو ماں اور بیٹی نے کوئی چیز مثلاً: سونا، چاندی وغیرہ خریدنے کے لیے رکھے ہوں، پھر والدہ کا انتقال ہوگیا ،تو اب

جائز اور ناجائز امور کا بیان, عصبات ، ذوی الارحام اور توریث حمل کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

نواسے کو نانا کی جائداد سے کچھ نہیں ملے گا!

(فتو یٰ نمبر:۲۰۲) سوال: زید کے پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں، جن میں سے ایک بیٹی کا انتقال زید کی موجودگی میں ہی ہوچکا تھا، اس وقت یہ بیٹی ایک بچہ چھوڑ کر گئی ،تو اس صورت میں نواسے کو نانا کی جائداد میں سے کوئی حصہ ملے گا یا نہیں؟ الجواب وباللہ التوفیق:

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, میراث کے متعلق, میراث کے متفرق مسائل

زوجہ ،دو بیٹے اور نو بیٹیوں کے درمیان تقسیم ترکہ !

(فتویٰ نمبر: ۱۷۳) سوال: ۱-عبد القادر شیخ کا انتقال ہوا، اس کی دو بیویاں ہیں ،جن میں سے ایک بیوی کا انتقال شوہر سے پہلے ہوچکا ہے، اس سے چار اولاد ہیں، ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ، دوسری بیوی (جو حیات ہے)سے سات اولاد ہیں ، جن میں سے ایک بیٹا اورچھ بیٹیاں ہیں،

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, میراث کے متعلق, میراث کے متفرق مسائل

ہبہ نامہ کی ایک صورت بشکلِ تحریری وصیت

(فتویٰ نمبر: ۱۶۷) سوال: زید نے اپنی پوری ملکیت میں سے ایک تہائی حصہ نکال کر باقی ملکیت پانچ لڑکوں اور دو لڑکیوں میں تقسیم کرنے کے متعلق تحریر لکھی تھی،اس میں بیوی کے حصے کا کوئی ذکر نہیں ہے، جب کہ اس وقت وہ حیات تھی، تو کیا ایک تہائی نکال کر باقی جائداد

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, میراث کے متعلق, میراث کے متفرق مسائل

زوجہ ، پانچ لڑکوں اور پانچ لڑکیوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ

(فتویٰ نمبر: ۱۶۴) سوال: ہمارے دادا چراغ الدین جمال الدین ہاشمی کا انتقال ہوا،انہوں نے اپنے انتقال کے وقت اپنے پیچھے ایک بیوی ،پانچ لڑکے اور پانچ لڑکیاں چھوڑی، اور اپنی جائداد میں ایک بلڈنگ 16X65 بمقام اکل کوا ، اور ایک پلاٹ 28X68 بمقام دھولیہ چھوڑا۔ دادا نے اپنی حیات میں اپنے ایک لڑکے

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, میراث کے متعلق, میراث کے متفرق مسائل

مالِ میراث میں سے لڑکا یا لڑکی میں سے کسی کو کم یا زیادہ دینا

(فتویٰ نمبر:۱۴۷) سوال: ۱– مرحوم زید بھائی کا انتقال ہوئے کافی عرصہ ہوچکا ہے، مرحوم نے اپنے ورثا میں تین لڑکے، چار لڑکیاں اور ایک بیوہ چھوڑی،اور ترکہ میں صرف پانچ بیگھہ زمین چھوڑی تھی، وہ زمین مرحوم کی بیوہ نے دیگر ورثا کی اجازت سے پندرہ لاکھ روپے میں بیچ دی، تو کیا بیوی

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, میراث کے متعلق, میراث کے متفرق مسائل

تین لڑکیوں اور ایک لڑکے کے درمیان تقسیمِ ترکہ

(فتویٰ نمبر: ۱۴۰) سوال: ہمارے گھر میں ایک مسئلہ در پیش ہے کہ ہمارے نانا جان کا انتقال ہوگیا تھا، اور سرکار کی طرف سے ان کو پانچ لاکھ روپیہ ملاتھا، اور نانا کو تین لڑکیاں اور ایک لڑکا ہے، تینوں بہنوں کو بیس بیس ہزار روپیہ دیا گیا،اور لڑکے نے باقی سب روپیہ لے

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, مناسخه کے مسائل, میراث کے متعلق

مختلف وارثین کے درمیان تقسیمِ ترکہ

(فتویٰ نمبر: ۱۲۸) سوال: ہماری والدہ کا انتقال بتاریخ: ۲۰۰۸/۶/۲۴، کو ہوا ہے، اور والد صاحب کا انتقال ۱۹۸۹ء میں ہوا تھا، ہمارے والدین نے سونے کے زیورات اور نقد ڈھائی لاکھ روپے، ایک مکان احمدآباد کے شاہ عالم علاقے میں، ایک مکان ہمارے وطن ہانسوٹ میں اور ایک کھیت چھوڑ کر گئے ہیں، ہم

جائز اور ناجائز امور کا بیان, ذوی الفروض کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

شوہر ، سات لڑکیوں اور ایک لڑکے کے درمیان تقسیمِ ترکہ

( فتویٰ نمبر: ۱۳۲) سوال: ۱-زبیدہ بی کا انتقال ہوا ،انہوں نے اپنے پس ماندگان میں شوہر مناف خان، سات لڑکیاں اور ایک لڑکا چھوڑا، اور ترکہ میں چار ایکڑ زمین چھوڑی، اب یہ زمین ان کے ورثا میں کس طرح تقسیم ہوگی؟ ۲-محمد مناف خان کا انتقال ہوا، انہوں نے اپنے پس ماندگان میں

جائز اور ناجائز امور کا بیان, ذوی الفروض کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

شوہر، والدین، دولڑکوں اور ایک لڑکی کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۱۳۰) سوال: عابدہ کی وفات ہوگئی،اس کا شوہرِ اول سے ایک لڑکا ،اور شوہرِ ثانی سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہے،بچے فی الحال مرحومہ کے والدین کی پرورش میں ہیں، مرحومہ کی والدہ نے مرحومہ کے نام سے ایک کاروبار کھول رکھا تھا،جس میں اشیائے ضروریہ کرایے پر دی جاتی ہیں، کرایے

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, مناسخه کے مسائل, میراث کے متعلق

زوجہ ، سات لڑکوں اور چار لڑکیوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ

(فتویٰ نمبر: ۱۲۶) سوال: ۱-حاجی قاسم بھائی کھتری کے والد مرحوم حاجی موسی صاحب کے ۷/حقیقی بھائی اور چار بہنیں تھیں، مرحوم حاجی موسیٰ کے والد صاحب (قاسم بھائی) کے دادا کے انتقال کے وقت تمام بھائی بہن زندہ تھے، اور حاجی موسیٰ صاحب کے والد نے انتقال کے وقت جو ملکیت چھوڑی ہے وہ

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, مناسخه کے مسائل, میراث کے متعلق

تقسیمِ ترکہ بطور مناسخہ

(فتویٰ نمبر: ۱۲۳) سوال: ۱-مرحوم سلیمان کا انتقال ہوا، انہوں نے اپنے ترکہ میں ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے نقد، اور اپنے ورثا میں چار بیٹے(اسماعیل، احمد، ایوب، محمد) اور ایک بیٹی (حوا) چھوڑی۔ ۲-اس کے بعد مرحوم ایوب کا انتقال ہوا، اُنہوں نے اپنے پس ماندگان میں ایک زوجہ مسمات” شریفہ“، دو بیٹے(اقبال ،

ترکے میں تصرف کے مسائل, جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, میراث کے متعلق

 قبل از تقسیمِ ترکہ دیگر ورثا کی اجازت کے بغیر اضافی تعمیر

( فتویٰ نمبر: ۱۰۸) سوال: مرحوم عبد الستار کے انتقال کے وقت آپ نے اپنے ورثا میں ۵/ لڑکے اور ۲/ لڑکیاں چھوڑی، وفات کے وقت ان کی ملکیت میں ایک بلڈنگ جس کی قیمت اس وقت ایک لاکھ روپے تھی، اور آج اس میں تعمیری اضافہ کے بعد اس کی قیمت تقریباً ۳۵ /

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, مناسخه کے مسائل, میراث کے متعلق

مرحومہ بہن کے حصہٴ میراث سے والدین کا حجِ بدل کرنا!

(فتویٰ نمبر: ۱۵۲) سوال: ہمارے والد صاحب نے ترکہ میں ایک مکان چھوڑا تھا جس کو ابھی ہم نے بیچ دیا اور قیمت بھی ہمارے پاس آگئی ہے، ہماری والدہ کا انتقال ہوچکا ہے ،ہم دو بھائی اور دو بہنیں تھیں، ان میں سے ایک بھائی اور ایک بہن کا انتقال والد صاحب کے انتقال

اوپر تک سکرول کریں۔