مناسخه کے مسائل

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, مناسخه کے مسائل, میراث کے متعلق

مختلف وارثین کے درمیان تقسیمِ ترکہ

(فتویٰ نمبر: ۱۲۸) سوال: ہماری والدہ کا انتقال بتاریخ: ۲۰۰۸/۶/۲۴، کو ہوا ہے، اور والد صاحب کا انتقال ۱۹۸۹ء میں ہوا تھا، ہمارے والدین نے سونے کے زیورات اور نقد ڈھائی لاکھ روپے، ایک مکان احمدآباد کے شاہ عالم علاقے میں، ایک مکان ہمارے وطن ہانسوٹ میں اور ایک کھیت چھوڑ کر گئے ہیں، ہم […]

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, مناسخه کے مسائل, میراث کے متعلق

زوجہ ، سات لڑکوں اور چار لڑکیوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ

(فتویٰ نمبر: ۱۲۶) سوال: ۱-حاجی قاسم بھائی کھتری کے والد مرحوم حاجی موسی صاحب کے ۷/حقیقی بھائی اور چار بہنیں تھیں، مرحوم حاجی موسیٰ کے والد صاحب (قاسم بھائی) کے دادا کے انتقال کے وقت تمام بھائی بہن زندہ تھے، اور حاجی موسیٰ صاحب کے والد نے انتقال کے وقت جو ملکیت چھوڑی ہے وہ

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, مناسخه کے مسائل, میراث کے متعلق

تقسیمِ ترکہ بطور مناسخہ

(فتویٰ نمبر: ۱۲۳) سوال: ۱-مرحوم سلیمان کا انتقال ہوا، انہوں نے اپنے ترکہ میں ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے نقد، اور اپنے ورثا میں چار بیٹے(اسماعیل، احمد، ایوب، محمد) اور ایک بیٹی (حوا) چھوڑی۔ ۲-اس کے بعد مرحوم ایوب کا انتقال ہوا، اُنہوں نے اپنے پس ماندگان میں ایک زوجہ مسمات” شریفہ“، دو بیٹے(اقبال ،

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, مناسخه کے مسائل, میراث کے متعلق

مرحومہ بہن کے حصہٴ میراث سے والدین کا حجِ بدل کرنا!

(فتویٰ نمبر: ۱۵۲) سوال: ہمارے والد صاحب نے ترکہ میں ایک مکان چھوڑا تھا جس کو ابھی ہم نے بیچ دیا اور قیمت بھی ہمارے پاس آگئی ہے، ہماری والدہ کا انتقال ہوچکا ہے ،ہم دو بھائی اور دو بہنیں تھیں، ان میں سے ایک بھائی اور ایک بہن کا انتقال والد صاحب کے انتقال

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, مناسخه کے مسائل, میراث کے متعلق

تقسیمِ وراثت سے قبل ذاتی رقم سے مکان کی تعمیر !

(فتو یٰ نمبر: ۹۴) سوال: ۱-ہم دو بھائی اور ہماری دو بہنیں تھیں، ہمارے والد صاحب کے پاس ایک مکان تھا،جو ۱۹۶۷ءء میں سیلاب کی وجہ سے منہدم ہوگیا، تھوڑی سی سیلابی امدادملی، اور سیلابی امدادی فنڈ سے لون (سودی قرض) لے کر دوسرا مکان بنایا ،ہمارے بڑے بھائی کی معاشی حالت کمزور ہونے کی

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, مناسخه کے مسائل, میراث کے متعلق

شوہر ،والدہ، تین بیٹوں اور ایک بیٹی کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۵۰) سوال: ۱-ایک صاحب (جن کا نام محمد عمر عبد اللہ ہے) کا انتقال ہوا، اور ان کے پس ماندگان میں بوقتِ انتقال ایک بیوی مسمات ”سکینہ بی “ اور پانچ لڑکے (محمد علی ، محمد امین، محمد یوسف، محمد بشیر، عبد القادر) اور دو لڑکیاں(اُلفت بی، زیب النساء) حیات تھیں۔ ۲-مرحوم محمد

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, مناسخه کے مسائل, میراث کے متعلق

شوہر ،دو بیٹوں اور چاربیٹیوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۲۴) سوال: ۱– ایک آدمی (انور صاحب) کی دو بیویاں ہیں، پہلی بیوی سے دو لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں، اور دوسری بیوی سے دو لڑکیاں، اب پہلی بیوی کا انتقال ہوا، تو اس کا ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا؟ ۲– اس کے بعد انور صاحب کا انتقال ہوا، ان کے پس ماندگان

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, مناسخه کے مسائل, میراث کے متعلق

بہن بھائی کے ساتھ عصبہ، صرف ایک بیٹی وارث ہے

(فتویٰ نمبر: ۱۵) سوال: میرے خسر صاحب؛ شیخ اسماعیل شیخ منیر منصوری (مرحوم) ان کی ایک بہن تھی” گلشن بی“ ، ان دونوں کو ورثے میں ایک مکان ملا ہے،گلشن بی کے انتقال کو تقریباً ۲۰/ سال ہورہے ہیں، ان کی ایک لڑکی صفیہ بی ہے۔  میرے خسر صاحب کی ۴/ بیٹیاں اور ۲/ بیٹے ہیں،

اوپر تک سکرول کریں۔