میراث کے متفرق مسائل

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, میراث کے متعلق, میراث کے متفرق مسائل

عورت کے انتقال کے بعد اس کا مہر ترکہ میں شامل ہوگا!

(فتویٰ نمبر: ۱۷۹) سوال: اگر کسی آدمی کی بیوی مرجائے اور اس نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا، تو اب وہ مہر کس کو دیا جائے ؟ اگر کوئی اور صورت ہو تو وضاحت فرمائیں! الجواب وباللہ التوفیق: عورت کے انتقال کے بعد اگر اس کا مہر شوہر کے ذمہ باقی تھا، […]

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, میراث کے متعلق, میراث کے متفرق مسائل

بیوی کے انتقال کے بعد اس کا مہر ترکہ میں شامل ہوجاتا ہے!

(فتویٰ نمبر: ۱۱) سوال: زید کی بیوی کا انتقال ہوا ،اس کی کوئی اولا د نہیں ہے، زید نے بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا ، تو اب وہ مہر کی رقم کس کو دی جائے؟ کیا زید اپنی حقیقی بہن جو غریب ہے اس کو وہ مہر کی رقم دے سکتا ہے؟ الجواب

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, میراث کے متعلق, میراث کے متفرق مسائل

زوجہ، بہن، پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹے کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۲۱۸) سوال: مرحوم محبوب صاحب کا انتقال ہوا، جنہوں نے اپنے پس ماندگان میں پانچ بیٹیاں، ایک بیٹا، ایک بہن اور بیوی چھوڑی، اور ان کا کل ترکہ سو گنٹھے زمین ہے ، دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ بالا ورثا کو شرعاً کتنا اور کون کون سا حصہ ملے گا؟ الجواب

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, میراث کے متعلق, میراث کے متفرق مسائل

خریداری کے لیے رکھے ہوئے پیسوں میں ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۲۰۵) سوال: جب میری والدہ اور ان کے بھائی اور بہنوں کے درمیان مال تقسیم ہوا ، تو میری والدہ کے پاس بیس ہزار روپے وراثت میں آئے،اب ان پیسوں کو ماں اور بیٹی نے کوئی چیز مثلاً: سونا، چاندی وغیرہ خریدنے کے لیے رکھے ہوں، پھر والدہ کا انتقال ہوگیا ،تو اب

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, میراث کے متعلق, میراث کے متفرق مسائل

زوجہ ،دو بیٹے اور نو بیٹیوں کے درمیان تقسیم ترکہ !

(فتویٰ نمبر: ۱۷۳) سوال: ۱-عبد القادر شیخ کا انتقال ہوا، اس کی دو بیویاں ہیں ،جن میں سے ایک بیوی کا انتقال شوہر سے پہلے ہوچکا ہے، اس سے چار اولاد ہیں، ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ، دوسری بیوی (جو حیات ہے)سے سات اولاد ہیں ، جن میں سے ایک بیٹا اورچھ بیٹیاں ہیں،

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, میراث کے متعلق, میراث کے متفرق مسائل

ہبہ نامہ کی ایک صورت بشکلِ تحریری وصیت

(فتویٰ نمبر: ۱۶۷) سوال: زید نے اپنی پوری ملکیت میں سے ایک تہائی حصہ نکال کر باقی ملکیت پانچ لڑکوں اور دو لڑکیوں میں تقسیم کرنے کے متعلق تحریر لکھی تھی،اس میں بیوی کے حصے کا کوئی ذکر نہیں ہے، جب کہ اس وقت وہ حیات تھی، تو کیا ایک تہائی نکال کر باقی جائداد

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, میراث کے متعلق, میراث کے متفرق مسائل

زوجہ ، پانچ لڑکوں اور پانچ لڑکیوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ

(فتویٰ نمبر: ۱۶۴) سوال: ہمارے دادا چراغ الدین جمال الدین ہاشمی کا انتقال ہوا،انہوں نے اپنے انتقال کے وقت اپنے پیچھے ایک بیوی ،پانچ لڑکے اور پانچ لڑکیاں چھوڑی، اور اپنی جائداد میں ایک بلڈنگ 16X65 بمقام اکل کوا ، اور ایک پلاٹ 28X68 بمقام دھولیہ چھوڑا۔ دادا نے اپنی حیات میں اپنے ایک لڑکے

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, میراث کے متعلق, میراث کے متفرق مسائل

مالِ میراث میں سے لڑکا یا لڑکی میں سے کسی کو کم یا زیادہ دینا

(فتویٰ نمبر:۱۴۷) سوال: ۱– مرحوم زید بھائی کا انتقال ہوئے کافی عرصہ ہوچکا ہے، مرحوم نے اپنے ورثا میں تین لڑکے، چار لڑکیاں اور ایک بیوہ چھوڑی،اور ترکہ میں صرف پانچ بیگھہ زمین چھوڑی تھی، وہ زمین مرحوم کی بیوہ نے دیگر ورثا کی اجازت سے پندرہ لاکھ روپے میں بیچ دی، تو کیا بیوی

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, میراث کے متعلق, میراث کے متفرق مسائل

تین لڑکیوں اور ایک لڑکے کے درمیان تقسیمِ ترکہ

(فتویٰ نمبر: ۱۴۰) سوال: ہمارے گھر میں ایک مسئلہ در پیش ہے کہ ہمارے نانا جان کا انتقال ہوگیا تھا، اور سرکار کی طرف سے ان کو پانچ لاکھ روپیہ ملاتھا، اور نانا کو تین لڑکیاں اور ایک لڑکا ہے، تینوں بہنوں کو بیس بیس ہزار روپیہ دیا گیا،اور لڑکے نے باقی سب روپیہ لے

اوپر تک سکرول کریں۔