میراث کے متعلق

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, مناسخه کے مسائل, میراث کے متعلق

تقسیمِ وراثت سے قبل ذاتی رقم سے مکان کی تعمیر !

(فتو یٰ نمبر: ۹۴) سوال: ۱-ہم دو بھائی اور ہماری دو بہنیں تھیں، ہمارے والد صاحب کے پاس ایک مکان تھا،جو ۱۹۶۷ءء میں سیلاب کی وجہ سے منہدم ہوگیا، تھوڑی سی سیلابی امدادملی، اور سیلابی امدادی فنڈ سے لون (سودی قرض) لے کر دوسرا مکان بنایا ،ہمارے بڑے بھائی کی معاشی حالت کمزور ہونے کی […]

جائز اور ناجائز امور کا بیان, ذوی الفروض کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

والد اور والدہ کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۷۷) سوال: ایک چھوٹے بچے کا انتقال ہوا، جس نے اپنے ترکہ میں پچیس ہزار (۰۰۰ ۲۵) روپے نقد اور دیگر کچھ سامان چھوڑا ہے، واضح رہے کہ مرحوم معصوم کے پس ماندگان میں صرف والداوروالدہ موجود ہیں، دریافت طلب امر یہ ہے کہ از روئے شرع ان کو کس طرح تقسیم کیا

جائز اور ناجائز امور کا بیان, ذوی الفروض کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

زوجہ ،والدہ اور دوبہنوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۷۹) سوال: دوبھائیوں کے ترکہ کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ کہ جنہوں نے اپنے طورپر مل کر دو سو چالیس گنٹھے زمین خریدی،اور ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک سو بیس گنٹھے ہیں، اور دونوں بھی انتقال کرگئے ، ان میں سے ایک بھائی جس کو کوئی اولاد نہیں مگر بیوی

جائز اور ناجائز امور کا بیان, ذوی الفروض کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

آٹھ لڑکوں اور تین لڑکیوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۶۶) سوال: زید مرحوم نے ترکہ میں تین لاکھ پینسٹھ ہزار(۳۶۵۰۰۰) روپے چھوڑے، ۸/لڑکے اور ۳/ لڑکیا ں وارث ہیں، وراثت سے ہر ایک کواز روئے شرع کتنا حصہ ملے گا؟ الجواب وباللہ التوفیق: مرحوم کی یہ نقد رقم انیس (۱۹) حصوں میں تقسیم ہوکر، دو دو حصے کے اعتبار سے ہر لڑکے

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, مناسخه کے مسائل, میراث کے متعلق

شوہر ،والدہ، تین بیٹوں اور ایک بیٹی کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۵۰) سوال: ۱-ایک صاحب (جن کا نام محمد عمر عبد اللہ ہے) کا انتقال ہوا، اور ان کے پس ماندگان میں بوقتِ انتقال ایک بیوی مسمات ”سکینہ بی “ اور پانچ لڑکے (محمد علی ، محمد امین، محمد یوسف، محمد بشیر، عبد القادر) اور دو لڑکیاں(اُلفت بی، زیب النساء) حیات تھیں۔ ۲-مرحوم محمد

جائز اور ناجائز امور کا بیان, ذوی الفروض کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

پانچ بیٹوں اور چھ بیٹیوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۴۱) سوال: ہمارے والد کی جائداد کی رقم دس لاکھ روپے ہیں،اور ہم سب پانچ بھائی اور چھ بہنیں ہیں، تو اس رقم کو اسلامی شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائے؟ جب کہ والد اور والدہ کا بھی انتقال ہوچکا ہے، اور اللہ کے فضل وکرم سے ان پر کسی کا

جائز اور ناجائز امور کا بیان, ذوی الفروض کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

دو بیٹوں اور چار بیٹیوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ

(فتویٰ نمبر: ۲۸) سوال: ۱– ایک شخص جس کے دو لڑکے اور چار لڑکیاں ہیں، اس کی عورت کا انتقال ہوگیا ہے، اس شخص نے اپنی زندگی میں ایک قیمتی زمین فروخت کی، اور اس زمین اور دوسری ملکیت کا انتظام اس کے دونوں لڑکوں میں سے چھوٹا لڑکا کرتا تھا، اس شخص نے اپنی

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, مناسخه کے مسائل, میراث کے متعلق

شوہر ،دو بیٹوں اور چاربیٹیوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۲۴) سوال: ۱– ایک آدمی (انور صاحب) کی دو بیویاں ہیں، پہلی بیوی سے دو لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں، اور دوسری بیوی سے دو لڑکیاں، اب پہلی بیوی کا انتقال ہوا، تو اس کا ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا؟ ۲– اس کے بعد انور صاحب کا انتقال ہوا، ان کے پس ماندگان

جائز اور ناجائز امور کا بیان, فتاوی, مناسخه کے مسائل, میراث کے متعلق

بہن بھائی کے ساتھ عصبہ، صرف ایک بیٹی وارث ہے

(فتویٰ نمبر: ۱۵) سوال: میرے خسر صاحب؛ شیخ اسماعیل شیخ منیر منصوری (مرحوم) ان کی ایک بہن تھی” گلشن بی“ ، ان دونوں کو ورثے میں ایک مکان ملا ہے،گلشن بی کے انتقال کو تقریباً ۲۰/ سال ہورہے ہیں، ان کی ایک لڑکی صفیہ بی ہے۔  میرے خسر صاحب کی ۴/ بیٹیاں اور ۲/ بیٹے ہیں،

جائز اور ناجائز امور کا بیان, ذوی الفروض کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

زوجہ،والدہ،چھ بیٹیاں اورچھ بیٹوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۸) سوال: انور بھائی کا انتقال ہوا،انہوں نے اپنے پیچھے چھ لڑکیاں، چھ لڑکے، ایک اہلیہ اور ایک والدہ ان وارثین کو چھوڑا ہے،اور ترکہ میں ایک مکان اور ستر ہزار(۷۰۰۰۰)روپے نقد چھوڑے ہیں، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ انور بھائی کی جائداد کس طرح تقسیم ہوگی؟ الجواب وباللہ التوفیق: شرعی

جائز اور ناجائز امور کا بیان, ذوی الفروض کے مسائل, فتاوی, میراث کے متعلق

زوجہ ایک بیٹی اور چاربیٹوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۱۸۲) سوال: ۱– کل ترکہ چار لاکھ روپے ہیں، وارثین میں ایک زوجہ ، چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے، اس کی تقسیم مع ان کے حصص کے فرمادیں تو عین کرم ہوگا۔ ۲– ترکہ مثلاً: چوّن لاکھ روپے کچھ پراپرٹی کی شکل میں ہیں اور کچھ نقد، تو فی الحال صرف نقد

اوپر تک سکرول کریں۔