رہن یعنی گروی رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اُٹھانا !
(فتویٰ نمبر: ۸۷) سوال: ۱-زید نے عمرو سے غیر متعینہ مدت کے لیے پانچ لاکھ روپے میں مکان گروی پر لیا، جب تک عمرو روپے واپس نہیں کرتا وہ مکان زید کی ملکیت میں ہے ،اور زید کو اس مکان سے پورا پورا فائدہ حاصل کرنے کا اختیار ہے ،کیا یہ معاملہ شرعاً درست ہے؟ […]
