کھیلوں کے متعلق مسائل

جائز اور ناجائز, کھیلوں کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

کھیل کو مقصدِ زندگی بنانا کیسا ہے؟

مسئلہ: جائز کھیل کی ایک وقتی تفریح کی حد تک تو گنجائش ہے،(۱) مگر اس کو زندگی کا مقصد بنا لینا جائز نہیں ہے۔(۲) الحجة علی ما قلنا : (۱) ما فی ” أحکام القرآن للتھانوی “ : وحاصل الکلام أن ترویح القلب وتفریحه، وکذا تمرین البدن من الإرتفاقات المباحة والمصالح البشریة لا تمنعها الشریعة […]

جائز اور ناجائز, کھیلوں کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

 کھیل کود کے لیے وقف ہوجانا

مسئلہ: تعلیم وکسب معاش کی جائز سرگرمیوں کو چھوڑ کر، اپنے آپ کو کھیل کیلئے وقف کردینا شرعاً جائز نہیں ہے ۔ الحجة علی ما قلنا : ما فی ” تکملة فتح الملهم “ : وحاصل الکلام أن ترویح القلب وتفریحه، وکذا تمرین البدن من الإرتفاقات المباحة، والمصالح البشریة التی لا تمنعها الشریعة السمحة برأسها،

جائز اور ناجائز, کھیلوں کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

ایسا کھیل جو انسان کے وسیع تر مفاد میں ہو

مسئلہ: ایسے کھیل جو انسان کے وسیع تر مفاد میں ہوں ، جن سے جسمانی قوت چستی ونشاط کی بحالی میں مدد ملتی ہو جائز ہیں، بشرطیکہ وہ منکرات سے خالی ہوں، دینی یا دنیوی حقوق وفرائض سے غفلت یا کسی بھی جاندار کی اذیت کا باعث نہ ہوں۔ الحجة علی ما قلنا : ما

جائز اور ناجائز, کھیلوں کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

کھیل کود میں وقت ضائع کرنے کا حکم شرعی

مسئلہ: وقت انسانی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے، لہذا از روئے شرع کوئی بھی ایسا کھیل کراہت سے خالی نہیں ہوگا ، جو اپنے طریقے اور لباس کے اعتبار سے تو محرمات پر مشتمل نہ ہو، لیکن اس میں کھیلنے یا دیکھنے والوں کا کافی وقت ضائع ہوتا ہے۔ الحجة علی ما قلنا : ما

جائز اور ناجائز, کھیلوں کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

کرکٹ دیکھنے کا حکمِ شرعی

مسئلہ: بعض لوگ کرکٹ میچ ٹی وی پر دیکھنے کو جائز سمجھتے ہیں ، حالانکہ یہ بے شمار منکرات ومفاسد مثلاً ،نیم عریاں عورتوں کا اسکرین پر دکھائی دینا(۱)،اس میں مشغول ہونے کی وجہ سے نماز باجماعت کا فوت ہوجانا(۲)، ملازمین کے فرائض وواجبات میں کوتاہی وخلل کا واقع ہونا(۳)، مساجد جو عبادت کی جگہیں

جائز اور ناجائز, کھیلوں کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

لہو ولعب میں مشغول ہونا

مسئلہ : وقت گزاری کے لیے گیم یا لوڈو وغیرہ کا کھیلنا اور ہر ایسی چیز جو طلب علم کے عظیم مقصد میں مخل ہو اور تضییعِ اوقات کا ذریعہ بنے، شرعاً سخت ناپسندیدہ اور نا جائز ہے۔ الحجة علی ما قلنا ما في’’ القرآن الکریم  ‘‘ : {أفحسبتم أنما خلقناکم عبثا وأنکم إلینا لا

جائز اور ناجائز, کھیلوں کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

ممنوع تفریحی کھیل

مسئلہ: شریعتِ اسلامیہ نے جہاں بہت سے تفریحی کھیلوں کی اجازت دی ہے ، وہیں چند ایسے کھیلوں کو جو آپسی جھگڑوں ، تضییعِ اوقات ، جوا ، قمارکا ذریعہ ہیں ، سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے، مثلاً چوسر ، شطرنج، کبوتر بازی ، مرغ بازی ، بٹیر بازی ، پتنگ بازی ، جانوروں

جائز اور ناجائز, کھیلوں کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

مستحب تفریحی کھیل

مسئلہ: اسلام میں با مقصد تفریح کی جو اجازت دی گئی ہے اس کی وجہ ظاہر ہے کہ اسلام سستی اور کاہلی کو ناپسند کرتا ہے، اور چستی وفرحت کو پسند کرتا ہے، کیوں کہ شریعت عین انسانوں کی مصلحت کے مطابق نازل کی گئی ہے، اس لیے اسلامی تعلیمات پر مسلمانوں کو خوشی خوشی

جائز اور ناجائز, کھیلوں کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

کھیل کے جواز وعدمِ جواز کے چند اصول

مسئلہ : شریعتِ اسلامیہ میں وقت کی حفاظت اور بامقصد زندگی کے قیام کا حکم دیا گیا، لہو ولعب اور لغو کی ممانعت کی گئی، ممانعت کا یہ مقصد ہر گز نہیں کہ تفریح کی بھی ممانعت ہے ، بلکہ شرعاً ایک حد تک مستحسن ومطلوب ہے ، تاکہ اس تفریح کے ذریعے جسم وروح

اوپر تک سکرول کریں۔