زکوۃ کی ادائیگی سے متعلق مسائل

زکوۃ, زکوۃ کی ادائیگی سے متعلق مسائل, مسائل مهمه

زکوة کی رقم سے ساس کو حج وعمرہ کرانا

مسئلہ: اگر کسی شخص کی ساس مستحقِ زکوة ہو، تو وہ اُسے زکوة دے سکتا ہے، بلکہ یہ دوہرے اجر کا باعث ہے، ایک اجر صلہ رحمی پر، دوسرا زکوة پر(۱)، البتہ زکوة کی رقم سے اپنی ساس کو حج وعمرہ کرادینے سے زکوة ادا نہیں ہوتی، لیکن اگر ساس کو زکوة کی رقم دی […]

زکوۃ, زکوۃ کی ادائیگی سے متعلق مسائل, مسائل مهمه

شادی کے لیے رکھے گئے زیورات پر زکوة

مسئلہ: بسا اوقات ماں باپ شادی سے پہلے اپنی بچی کیلئے زیورات بناکر رکھتے ہیں ، اگر وہ زیورات لڑکی کی ملک کر دیئے گئے ہیں، اورلڑکی نابالغ ہے تو اس کی زکوٰة نہ لڑکی پر واجب ہے اور نہ والدین پر، لڑکی پر اس لئے نہیں کہ وہ بالغہ نہیں ہے، جب کہ وجوب

زکوۃ, زکوۃ کی ادائیگی سے متعلق مسائل, مسائل مهمه

مکان بنانے کے لیے جمع کردہ رقم پر زکوة

مسئلہ: کسی شخص نے مکان بنانے کیلئے کوئی رقم جمع کی اور اس جمع شدہ رقم پر سال گذر گیا ، تو اس پر زکوٰة فرض ہوگی، زکوٰة ادا کرے پھر مکان وغیرہ بنالے ، جب تک یہ رقم مکان بنانے میں خرچ نہیں ہوتی ، سال گذرنے پر اس پر زکوٰة واجب ہوتی رہے

زکوۃ, زکوۃ کی ادائیگی سے متعلق مسائل, مسائل مهمه

ادائیگی سے پہلے زکوة کی رقم کا ضائع ہونا

مسئلہ: کسی شخص نے اپنے مال وغیرہ کا حساب لگاکر جتنی زکوٰة اس پر ہوتی تھی نکال کر علیحدہ کردی، اب اس کی جیب کسی نے کاٹ لی، یا کسی طرح اس کی زکوٰة کی رقم ضائع ہوگئی، تو اس صورت میں اس کی زکوٰة ادا نہیں ہوگی، بلکہ اسے دوبارہ زکوٰة دینی ہوگی۔ الحجة

زکوۃ, زکوۃ کی ادائیگی سے متعلق مسائل, مسائل مهمه

زکوٰة کی ادائیگی روپیہ پیسہ اور سونا چاندی سے کرنا

مسئلہ: اگر کسی شخص کے پاس ساڑھے سات تولا سونے کے زیورات ہیں، جن کی مالیت مثلاً فی تولہ 17200 / کے اعتبار سے 129000/ ہوتی ہے، اور اس پر واجب ہونے والی زکوٰة کی مقدار 3225/ ہوتی ہے، اور اگر اس میں بناوٹ کی قیمت فی تولہ 200/ کو ملاتے ہیں، تو ان زیورات

زکوۃ, زکوۃ کی ادائیگی سے متعلق مسائل, مسائل مهمه

حج کیلئے جمع شدہ رقم میں زکوٰة

مسئلہ: اگر کسی شخص نے حج کو جانے کیلئے حج کمیٹی ،یا کسی اور ٹور س کمیٹی والے کو پیشگی رقم جمع کردی، تو آمد ورفت کے کرائے اور معلم فیس پر زکوٰة واجب نہیں ہوگی،البتہ جو رقم کرنسی کی صورت میں واپس دی جاتی ہے اور وہ خرچ کے بعد بچ جاتی ہے اورنصاب

زکوۃ, زکوۃ کی ادائیگی سے متعلق مسائل, مسائل مهمه

پیشگی زکوٰة

مسئلہ: اگر کوئی صاحب نصاب شخص نصاب پر سال گزرنے سے پہلے ہی پیشگی زکوٰة ادا کردے تو جائز ہے ، سا ل پورا ہونے پرنصاب باقی ہے تویہ پیشگی اداکردہ زکوٰة، زکوٰة ہوگی، ورنہ صدقہٴ نافلہ ہوگی(۱)،نیز زکوٰة کی ادائیگی کے وجوب کیلئے کوئی مہینہ یاتاریخ متعین نہیں ہے ، بلکہ جس دن نصاب

اوپر تک سکرول کریں۔