سونے چاندی اور نوٹ پر زکوۃ کے متعلق مسائل

زکوۃ, سونے چاندی اور نوٹ پر زکوۃ کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

سونے چاندی کے اعضاء پر زکوة

مسئلہ: بسااوقات انسان مصالح خاصہ کی بنا پر سونے چاندی کے اعضاء مثلاً:ناک، دانت وغیرہ بناتا ہے ، یاسونے کے تاروں سے اسے باندھتاہے، اگر بوقتِ ضرورت بسہولت انہیں نکال کردوبارہ اپنے محل میں لگانا ممکن ہوتوزیورات کے حکم میں ہوں گے ،اوراس پرزکوة واجب ہوگی، او ر اگر نکالناممکن نہ ہو تو اجزاءِ انسانی […]

زکوۃ, سونے چاندی اور نوٹ پر زکوۃ کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

سونے چاندی کے اجزاء پر زکوة

مسئلہ: بعض اوقات کپڑوں میں سونے چاندی کے تار لگے ہوتے ہیں ،پہلے زمانے میں اس کا رواج اور استعمال کچھ زیادہ ہی عام تھا ،اسی طرح گھڑی میں لگی ہوئی سونے چاندی کی سوئیاں ،اور سونے یاچاندی کے قلم ،کرتے میں لگے بٹن ، قرآن یابر تن میں بنے ہوئے سونے یاچاندی کے ستارے

زکوۃ, سونے چاندی اور نوٹ پر زکوۃ کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

سونے چاندی کا مقرر کردہ موجودہ نصاب

مسئلہ: اگر کسی شخص کے پاس سونے اور چاندی کامقررکردہ نصاب ساڑھے باون تولہ (۱/۲، ۵۲ ) یعنی چھ سو بارہ گرام پینتیس ملی گرام (۶۱۲،۳۵) چاندی، یا ساڑھے سات تولہ (۷،۱/۲)یعنی موجودہ مقدارستاسی گرام چارسو اُناسی ملی گرام (۴۷۹، ۸۷) سونانہیں ہے، تو فی الحال جتنے روپئے میں ساڑھے باون تولہ( ۵۲،۱/۲)چاندی خریدی جاسکے،

زکوۃ, سونے چاندی اور نوٹ پر زکوۃ کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

سونے چاندی میں نصابِ حرمتِ زکوٰة ووجوب ِزکوٰة

مسئلہ: زکاة سے متعلق نصوص اور عام فقہاء کی تصریحات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جیسے سونا وچاندی میں سے ہر ایک خلقةً ،طبعاً ،او راستعمالاً ثمن ہے (۱)،اسی طرح نصابِ زکاة میں بھی دونوں میں سے ہرایک کا نصاب مستقل ہے،دونوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے پر متفرع نہیں ہے (۲)،مگر

اوپر تک سکرول کریں۔