زکوۃ

زکوۃ, سونے چاندی اور نوٹ پر زکوۃ کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

سونے چاندی کے اعضاء پر زکوة

مسئلہ: بسااوقات انسان مصالح خاصہ کی بنا پر سونے چاندی کے اعضاء مثلاً:ناک، دانت وغیرہ بناتا ہے ، یاسونے کے تاروں سے اسے باندھتاہے، اگر بوقتِ ضرورت بسہولت انہیں نکال کردوبارہ اپنے محل میں لگانا ممکن ہوتوزیورات کے حکم میں ہوں گے ،اوراس پرزکوة واجب ہوگی، او ر اگر نکالناممکن نہ ہو تو اجزاءِ انسانی […]

زکوۃ, سونے چاندی اور نوٹ پر زکوۃ کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

سونے چاندی کے اجزاء پر زکوة

مسئلہ: بعض اوقات کپڑوں میں سونے چاندی کے تار لگے ہوتے ہیں ،پہلے زمانے میں اس کا رواج اور استعمال کچھ زیادہ ہی عام تھا ،اسی طرح گھڑی میں لگی ہوئی سونے چاندی کی سوئیاں ،اور سونے یاچاندی کے قلم ،کرتے میں لگے بٹن ، قرآن یابر تن میں بنے ہوئے سونے یاچاندی کے ستارے

زکوۃ, مسائل مهمه, وجوب زکوۃ سے متعلق مسائل

گروی رکھی ہوئی چیز پر زکوٰة

مسئلہ: اگرکسی شخص کے پاس بقدرِ نصابِ زکوة مال تو ہے ،لیکن دوسرے کے پاس رہن (گروی ) رکھا ہوا ہے، تو راہن(گروی رکھنے والا) اور مرتہن(جس کے پاس گروی رکھی گئی) دونوں پر اس مالِ مرہون(گروی رکھے ہوئے مال )کی زکوة واجب نہیں ہوگی ،کیوں کہ وجوبِ زکوٰة کے لئے ملک اورقبضہ دونوں ضروری

زکوۃ, مسائل مهمه, وجوب زکوۃ سے متعلق مسائل

وجوبِ زکوٰة میں دین کی منہائی

مسئلہ: دین کی دو قسمیں ہیں:(۱)وہ دین جس کے وصول ہونے کی کوئی امید نہ ہو،جیسے ڈوبی ہوئی رقم۔(۲)وہ دین جس کے وصول ہونے کی پوری امید ہو۔ جس دین کے وصول ہونے کی امید نہیں تھی، اگروہ وصول ہوجائے تو وصولی کے دن سے ایک سال گزرنے کے بعد ہی زکوة واجب ہوگی ۔

زکوۃ, زکوۃ کی ادائیگی سے متعلق مسائل, مسائل مهمه

حج کیلئے جمع شدہ رقم میں زکوٰة

مسئلہ: اگر کسی شخص نے حج کو جانے کیلئے حج کمیٹی ،یا کسی اور ٹور س کمیٹی والے کو پیشگی رقم جمع کردی، تو آمد ورفت کے کرائے اور معلم فیس پر زکوٰة واجب نہیں ہوگی،البتہ جو رقم کرنسی کی صورت میں واپس دی جاتی ہے اور وہ خرچ کے بعد بچ جاتی ہے اورنصاب

زکوۃ, زکوۃ کی ادائیگی سے متعلق مسائل, مسائل مهمه

پیشگی زکوٰة

مسئلہ: اگر کوئی صاحب نصاب شخص نصاب پر سال گزرنے سے پہلے ہی پیشگی زکوٰة ادا کردے تو جائز ہے ، سا ل پورا ہونے پرنصاب باقی ہے تویہ پیشگی اداکردہ زکوٰة، زکوٰة ہوگی، ورنہ صدقہٴ نافلہ ہوگی(۱)،نیز زکوٰة کی ادائیگی کے وجوب کیلئے کوئی مہینہ یاتاریخ متعین نہیں ہے ، بلکہ جس دن نصاب

زکوۃ, مسائل مهمه, وجوب زکوۃ سے متعلق مسائل

وجوبِ ادائے زکوٰة میں قمری سال کا اعتبا ر

مسئلہ: زکوٰةاس وقت واجب ہوگی جبکہ نصابِ زکوٰةپر قمری (اسلامی)سال کے اعتبارسے پورا سال گزرجائے ،انگریزی سال کا اعتبار نہیں ہوگا، مثلاً: اگر کوئی شخص رجب المرجب کی ۶تاریخ کو صاحبِ نصاب ہوا توآئندہ سال ۶رجب المرجب کو اس کے نصاب پر سال پورا ہوگا اور ادائیگیٴ زکوٰةواجب ہوگی۔ الحجة علی ما قلنا : ما

زکوۃ, سونے چاندی اور نوٹ پر زکوۃ کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

سونے چاندی کا مقرر کردہ موجودہ نصاب

مسئلہ: اگر کسی شخص کے پاس سونے اور چاندی کامقررکردہ نصاب ساڑھے باون تولہ (۱/۲، ۵۲ ) یعنی چھ سو بارہ گرام پینتیس ملی گرام (۶۱۲،۳۵) چاندی، یا ساڑھے سات تولہ (۷،۱/۲)یعنی موجودہ مقدارستاسی گرام چارسو اُناسی ملی گرام (۴۷۹، ۸۷) سونانہیں ہے، تو فی الحال جتنے روپئے میں ساڑھے باون تولہ( ۵۲،۱/۲)چاندی خریدی جاسکے،

زکوۃ, مسائل مهمه, وجوب زکوۃ سے متعلق مسائل

حوائجِ اصلیہ میں کون کونسی چیزیں داخل ہیں؟

مسئلہ: وجوبِ زکاةکیلئے ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ آدمی کے پاس جومال ہے وہ اس کی حاجتِ اصلیہ سے زائد ہو،اور حوائجِ اصلیہ میں درجہ ذیل امور معتبر ہیں۔ (۱)اپنے اور اپنے اہل وعیال ،نیززیرِکفالت رشتہ داروں سے متعلق روزمرہ کے اخراجات۔ (۲)رہائشی مکان،کپڑے،سواری،آلات ِصنعت وحرفت ،مشین اور دیگروسائلِ رزق جن کے ذریعہ کوئی

زکوۃ, سونے چاندی اور نوٹ پر زکوۃ کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

سونے چاندی میں نصابِ حرمتِ زکوٰة ووجوب ِزکوٰة

مسئلہ: زکاة سے متعلق نصوص اور عام فقہاء کی تصریحات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جیسے سونا وچاندی میں سے ہر ایک خلقةً ،طبعاً ،او راستعمالاً ثمن ہے (۱)،اسی طرح نصابِ زکاة میں بھی دونوں میں سے ہرایک کا نصاب مستقل ہے،دونوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے پر متفرع نہیں ہے (۲)،مگر

اوپر تک سکرول کریں۔