فوت شدہ نمازوں کے لیے اذان دینا

اذان سے متعلق مسائل, فوت شدہ نمازوں کے لیے اذان دینا, مسائل مهمه, نماز

قضا نماز کے لیے اذان واقامت

مسئلہ: اگر چند نمازیں فوت ہوجائیں اور مختلف وقتوں میں قضا کرے، تو ہر نماز کے لیے اذان واقامت کہنا مستحب ہے، اور اقامت پر اکتفا کرنا بھی جائز ہے، اور اگر ایک ساتھ سب نمازیں قضا کرے تو پہلی نماز کے لیے اذان واقامت کہنا مستحب ہے، اور باقی میں اختیار ہے ، چاہے […]

اذان سے متعلق مسائل, فوت شدہ نمازوں کے لیے اذان دینا, مسائل مهمه, نماز

قضا نمازِ فجر کے لیے اذان دینا

مسئلہ: اگر نمازِ فجر قضا ہوجائے اور اُسے مسجد کے باہر جماعت سے ادا کرنا ہے، تو اذان کہنا سنت ہے، اور اذان ویسی ہی ہونی چاہیے جس طرح صبح کی ہے، یعنی ” الصلوة خیرٌ من النوم “ کے ساتھ، اور اگر چھوڑدے تو بھی کوئی حرج نہیں، کیوں کہ یہ نیند اور غفلت

اذان سے متعلق مسائل, فوت شدہ نمازوں کے لیے اذان دینا, مسائل مهمه, نماز

قضا نماز کے لیے اذان دینا کیسا ہے؟

مسئلہ: اگر کسی شخص کی نماز فوت ہوگئی اور بعد میں وہ اُسے مسجد کے باہر قضا کرے، تو اذان واقامت دونوں کہے گا، خواہ تنہا پڑھے یا جماعت سے، اور اگر اس فوت شدہ نماز کی قضا مسجد میں جماعت کے ساتھ کی جائے، تواذان واقامت نہیں کہی جائے گی، کیوں کہ اس میں

اوپر تک سکرول کریں۔