ترک جماعت

ترک جماعت, جماعت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

فقراء نماز چھوڑنے کی وعید سے بری نہیں!

مسئلہ: بہت سے مسلمان فقراء (بھکاری) نمازوں کے اوقات میں مسجدوں کے باہر ڈیرہ جمالیتے ہیں، اور صرف بھیک مانگتے ہیں، ذی ہوش وحواس ہونے کے باوجود نماز نہیں پڑھتے، اور یہ سمجھتے ہیں کہ آخرت میں ہمارا موٴاخَذہ نہیں ہوگا، بلکہ درگذر اور معافی ہوجائیگی، حالانکہ نماز کے چھوڑنے پر جو وعید ِ شدید […]

ترک جماعت, جماعت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

عذرِ شرعی کی صورت میں نماز باجماعت کاترک

مسئلہ: اگر کسی شخص کو ایسا عذرِ شرعی ہو، جو جماعت کی حاضری کو ساقط کردیتا ہے، اور وہ گھر پر نماز پڑھتا ہو، تو اذان شروع ہوتے ہی، دورانِ اذان اس کے لیے نماز پڑھنا جائز ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ اذان پوری ہونے کا انتظار کرے، اذان کا جواب دے، اس کے

ترک جماعت, جماعت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

جوتے چپلوں کی حفاظت کے خاطر ترکِ جماعت

مسئلہ: اگر کوئی طالب علم یا کوئی شخص مصلیوں کے جوتوں، چپلوں اور ان کے سامان واسباب کی حفاظت پر، ذمہ دارانِ مدرسہ یا متولیانِ مساجد کی طرف سے مامور ہو، تو اس کیلئے ترکِ جماعت کی اجازت ہوگی، اور امید ہے کہ اسے جماعت کا ثواب بھی حاصل ہوگا، بشرطیکہ وہ بعد میں اپنی

ترک جماعت, جماعت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

جس فرض نماز کی جماعت کھڑی ہو اسے تنہا پڑھنا

مسئلہ: جب فر ض نمازبا جماعت صحیح طریقہ پر ہو رہی ہے، تو اسی نماز کو علیحدہ پڑھنا شرعاً نہایت ممنوع اور نا پسندیدہ ہے ، کیوں کہ اس میں جماعت کی مخالفت لازم آتی ہے ۔ الحجة علی ما قلنا : ما في”اعلاء السنن“:عن أبي الدّرداء رضي الله عنه قال:قال رسول الله ﷺ:”ما من

ترک جماعت, جماعت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

بلا عذرِ شرعی ترکِ جماعت

مسئلہ: بلا عذرِ شرعی جماعت کی نماز کو ترک کرنا بہت بڑی محرومی ہے ،اور اسلام کے بڑے شعارکو ترک کرنا ہے ، فقہاء کرام کے نزدیک اس جماعت چھوڑنے والے کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی اور وہ گنہگا رہوگا(۱)، حدیث شریف میں اس پر سخت وعیدیں واردہوئی ہیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ

اوپر تک سکرول کریں۔