میت کو غسل دینا

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو غسل دینا, نماز

خنثیٰ مشکل میت کا غسل

مسئلہ: اگر میت خُنثیٰ مشکل ہو اور وہ بالغ یا مُراہق یعنی قریب البلوغ ہو، تو اس کو غسل نہیں دیا جائے گا، اگر اس کا کوئی مَحرم ہو تو اس کو تیمم کرادے، اور اگر کوئی مَحرم نہ ہو تو اجنبی آدمی ہاتھوں پر کپڑا لپیٹ کر اس کو تیمم کرادے، یہ تیمم غسل […]

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو غسل دینا, نماز

غسل کے بعد کفن ناپاکی میں ملوث ہوجائے

مسئلہ: میت کو غسل دے کر کفن پہنانے کے بعد اگر میت کا پیشاب یا پاخانہ وغیرہ نکل آئے، اور کفن ملوث ہوجائے، تو دوبارہ غسل دینے یا بدلنے کی ضرورت نہیں، بدونِ دھوئے نمازِ جنازہ صحیح ہے، البتہ جتنا حصہ بدن اور کپڑے کا ناپاک ہوگیا، اس کو دھوکر پاک کردینا بہتر ہے۔ الحجة

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو غسل دینا, نماز

میت کا جسم ریزہ ریزہ ہوجائے

مسئلہ: اگر کسی میت کا جسم ریزہ ریزہ ہورہا ہو، اور غسل کے قابل نہ ہو، تو اس پر پانی بہادینا کافی ہے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو فقط تیمم کرادیا جائے۔ الحجة علی ما قلنا : ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ولو کان المیت متفسخًا یتعذر مسحه کفي صب

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو غسل دینا, نماز

میت کو دو مرتبہ غسل دینا

مسئلہ: بعض جگہ یہ رَواج ہے کہ مُردے کو دو مرتبہ غسل دیا جاتا ہے، ایک غسل انتقال کے فوراً بعد، اور دوسرا نمازِ جنازہ سے پہلے، جب کہ مُردے کو صرف ایک مرتبہ غسل دینا مشروع ہے، ایک مرتبہ غسل دینے کے بعد دو بارہ غسل دینے کی ضرورت نہیں۔ الحجة علی ما قلنا

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو غسل دینا, نماز

میت کو غسل کے لیے تختہ پر لٹانے کا طریقہ

مسئلہ: غسل کے لیے مُردے کو تختہ پر رکھنے کی فقہاء کرام نے دو صورتیں بیان فرمائی ہیں: ایک تو قبلہ کی طرف پاوٴں کرکے لٹانا، دوسرے قبلہ کی طرف منہ کرنا، جیسے کہ قبر میں رکھتے ہیں، دونوں میں سے جگہ کی سہولت کے مطابق جو صورت اختیار کرلی جائے جائز ہے، مگر زیادہ

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو غسل دینا, نماز

جنبی اور حائضہ ونفساء میت کو غسل

مسئلہ: بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر میت بحالتِ جنابت یا بحالتِ حیض ونفاس ہو ، تو اس کو دو مرتبہ غسل دیا جائے گا، اُن کا یہ خیال درست نہیں ہے، کیوں کہ صحیح بات یہ ہے کہ جنبی شخص اور حیض ونفاس والی عورت کو بھی ایک ہی مرتبہ غسل دیا

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو غسل دینا, نماز

میت کا پلاسٹر چھڑا کر غسلِ جنازہ دینا

مسئلہ: اگر کسی شخص کا پیر کسی حادثہ میں ٹوٹ گیا، اور ڈاکٹروں نے اس پر پلاسٹر چڑھادیا، پھر وہ شخص انتقال کرگیا، تو اب اس کا وہ پلاسٹر چھڑا کر غسلِ جنازہ دیا جائے، کیوں کہ اب پلاسٹر کی ضرورت باقی نہ رہی۔ الحجة علی ما قلنا : ما في ” الدر المختار مع

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو غسل دینا, نماز

نابالغ یا نابالغہ کو صنفِ مخالف کا غسل دینا

مسئلہ: مُردے کو غسل دینے میں چو ں کہ میت کی بے پردگی کا بہت زیادہ اندیشہ رہتا ہے، اس لیے میت کے صنفِ مخالف کو اُسے غسل دینے سے منع کیا گیا ہے(۱)، لیکن اگر لڑکا لڑکی حدِ شہوت کو نہ پہنچے ہوں، تو اُن کو مرد اور عورت دونوں غسل دے سکتے ہیں۔(۲)

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو غسل دینا, نماز

بے شعور بچے کو غسل جنازہ میں وضو نہیں کرایا جائے گا

مسئلہ: بالغ شخص نیز باشعور بچے کو غسلِ جنازہ دیتے وقت وضو بھی کرایا جائے گا، لیکن بے شعور بچہ جسے نماز وغیرہ کی واقفیت نہ ہو،کو غسلِ جنازہ دیتے وقت وضو نہیں کرایا جائیگا۔ الحجة علی ما قلنا : ما في ” فتح القدیر لإبن الهمام “ : قال الحلواني: ما ذکر من الوضوء

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو غسل دینا, نماز

غیر مسلم نرس کا میت بچہ کو غسل اور کفن دینا

مسئلہ: بسا اوقات کسی بچہ کی ولادت ہسپتال میں ہوتی ہے، اور وہ وہیں مرجاتا ہے، تو ہسپتال کی غیر مسلم نرسیں اسے غسل وکفن کردیتی ہیں، اوراس کے بعد اسے گھر پر غسل نہیں دیاجاتا، اور قبرستان میں دفنا دیا جاتا ہے، شرعاً ایسا کرنا درست ہے، کیوں کہ غیر مسلم کے ہاتھوں دیا

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو غسل دینا, نماز

پانی میں ڈوب کر مرے ہوئے شخص کو غسل دیا جائیگا یا نہیں؟

مسئلہ: اگر کوئی شخص پانی میں ڈوب کر مرجائے، اور پانی زیادہ ہونے کی وجہ سے کافی کوشش کے باوجود نعش نہ ملی، پھر چند روز کے بعد نعش اوپر آئی تو اس میں تعفن پیدا ہوگیا، مگر نعش پھولی پھٹی نہیں ہے تو اس کو غسل دیا جائے گا، اور نماز بھی پڑھی جائے

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو غسل دینا, نماز

جل کر مرے ہوئے شخص پر نماز جنازہ او راس کا غسل وکفن

مسئلہ: اگر کوئی شخص دکان، مکان، فیکٹری یا میل وغیرہ میں آگ لگ جانے کی وجہ سے جل کر مرگیا، اور اس کے بدن کا اکثر حصہ خاکستر ہوگیا، تو اس پر غسل ونماز کچھ بھی لازم نہیں ہے،اور اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیا جائے گا(۱)، اور اگر سر کے ساتھ نصف

اوپر تک سکرول کریں۔