قرات کی مقدار سنت

قرات کی مقدار سنت, قرأت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

پہلی رکعت میں چھوٹی اور دوسری رکعت میں بڑی سورت

مسئلہ: اگر کسی شخص نے نماز کی پہلی رکعت میں کوئی سورت تلاوت کی اور دوسری رکعت میں اس سے بڑی سورت تلاوت کی، تو سورت کا چھوٹی بڑی ہونا اگر ان سورتوں میں ہوا جن کی آیات چھوٹی بڑی ہونے میں قریب قریب ہے، تو تین آیتوں کی مقدار زیادتی سے کراہتِ تنزیہی لازم […]

قرات کی مقدار سنت, قرأت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

نماز میں مسنون قرأت

مسئلہ: اگر کسی مسجد کا امام نمازوں میں مسنون طریقہ پر قرأت کرتا ہو اور اُس کے اِس عمل سے مصلی اور محلہ کے لوگ ناراض ہوں ، تو امام کو چاہیے کہ مصلی اور محلہ کے لوگوں کی ناراضگی کی وجہ سے مسنون قرأت کرنا نہ چھوڑے، بلکہ مصلیان کو نرمی سے سمجھادے کہ

قرات کی مقدار سنت, قرأت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

نماز میں مسنون قرأت

مسئلہ: امام ومنفرد، دونوں کے لیے بحالتِ حضر واطمینان ،فجر وظہر میں طوالِ مفصل ، یعنی ”سورہٴ حجرات“ سے ”سورہٴ بروج“ تک، عصر وعشاء میں اوساطِ مفصل ، یعنی ”سورہٴ بروج“ سے ”سورہٴ لم یکن“ تک، اور مغرب میں قصارِ مفصل ،یعنی ”سورہٴ لم یکن“ سے ”سورہٴ ناس“ تک کی سورتوں میں سے قرأت کرنا

قرات کی مقدار سنت, قرأت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

درمیان یا آخر سورت سے قراء ت کا حکم

مسئلہ: اگر امام یا منفر د نماز کی پہلی رکعت میں کسی سورت کے درمیان سے یا اس کے آخر سے کچھ حصہ پڑ ھے اور دوسری رکعت میں کسی اور سورة کے درمیان سے یا اس کے آخر سے کچھ حصہ پڑ ھے، تو اس کا یہ عمل ظاہرِ روایت کے مطابق خلافِ اولیٰ

قرات کی مقدار سنت, قرأت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

نماز میں مکمل سورت پڑھنی چاہیے

مسئلہ (۴۳): ہر رکعت میں مکمل سورت کا پڑھنا بہتر ہے، اگر چہ کسی سورت کا جزء پڑھنا بھی بلا کراہت درست ہے ، پیغمبر علیہ السلام سے ثابت ہے ، لیکن کسی سورت کا جزء پڑھتے وقت بطورِ خاص مضمونِ آیات کی تکمیل کی رعایت کرنی چاہیے۔ الحجة علی ما قلنا ما في ’’السنن

اوپر تک سکرول کریں۔